اکتوبر 27, 2020

امن کے موقع پر اسلحہ کی تقسیم

امن کے موقع پر اسلحہ کی تقسیم

آج کی بات

حال ہی میں مختلف لوگوں اور میڈیا سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کابل انتظامیہ نے پرائیوٹ ملیشیا بنانے کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے، کابل انتظامیہ کی پارلیمان کے اسپیکر (رحمانی) سمیت متعدد نمایاں اور عوامی شخصیات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکام نے کابل سمیت کاپیسا، پروان ، تخار ، بغلان ، فاریاب ، جوزجان اور دیگر صوبوں میں عوام کو اسلحہ تقسیم کیا اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور پھیل رہا ہے۔

افسوس کہ کابل انتظامیہ اور اس سے وابستہ گروہ مختلف بہانوں سے افغانستان اور افغان عوام کے لئے نجات اور امن کے موجودہ مواقع کو ضائع کررہے ہیں اور بعض معاملات میں کھل کر امن کوششوں کو سبوتاژ کررہے ہیں۔

امن کوششوں اور چانسز کے عروج پر کابل انتظامیہ جنگ کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ، اس نے عوام اور مجاہدین کے خلاف زمینی اور فضائی حملے تیز کر دی ہے، وہ مختلف علاقوں میں نئی چوکیاں اور اڈے قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کابل انتظامیہ واقعی امن کا ارادہ رکھتی ہے تو پھر مزید چیک پوسٹیں قائم کرنا کس لئے؟ اسے ہتھیاروں اور جنگ کے سامان پر خرچ کرنے کے بجائے وہی توانائی اور پیسہ امن اور تعمیر نو پر خرچ کرنا چاہئے۔ عوام کو کچھ سہولیات فراہم اور امن کے جاری عمل کی حمایت کرنی چاہئے۔

مزید برآں کابل انتظامیہ نے اپنے اقتدار علاقوں میں ان رہنماوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے ، جو امن کے لئے فعال کردار ادا کررہے ہیں، ان میں کچھ رہنماوں کو نشانہ بھی بنایا، معتبر ذرائع کے مطابق کابل انتظامیہ نے امن کارکنوں اور سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لئے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے دفتر میں ٹارگٹ کلنگ کے انتظام کو فعال کردیا ہے۔ وہ اپنے لوگوں پر ظلم و بربریت کے ذریعہ امن عمل کو روکنا چاہتی ہے۔

امارت اسلامیہ پیارے ملک میں جاری جنگ اور تنازعہ کے پرامن حل پر یقین رکھتی ہے اور جنگ کو ختم کرنے اور مظلوم عوام کو امن ، سکون اور خوشحالی کے ساتھ جینے کا موقع فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ 19 برس کے دوران پہلی بار جارحیت کے خاتمے ، امن کے قیام اور ایک ہمہ گیر اسلامی حکومت کے قیام کا نادر موقع ملا ہے، تمام فریقوں اور جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر دینی اور قومی مفادات کو ترجیح دیں اور اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔

کابل انتظامیہ نے امن کی مخالفت میں ملیشیاؤں کو متحرک اور مسلح کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، در حقیقت یہ عمل عوام کو دوبارہ قتل کرنے، گرفتار ، ذلیل و خوار کرنے، املاک کو لوٹنے اور بے حیائی کو پھیلانے کا منصوبہ ہے۔ کمیونسٹ حکومت نے بھی اپنے ہی لوگوں کے خلاف عسکریت پسندی کا ہتھکنڈہ استعمال کیا تھا لیکن نہ صرف اسے فائدہ نہیں ہوا بلکہ پرائیوٹ ملیشیا بنانے کا اقدام اس حکومت کے خاتمے کا سبب بنا لہذا اگر کابل انتظامیہ بھی اب پرائیوٹ ملیشیا کی تشکیل میں اپنی بقا سمجھتی ہے، تو ایک بہت بڑی غلطی اور عوام کے ساتھ ایک بہت بڑا ظلم ہے۔

Related posts