اکتوبر 27, 2020

بین الافغانی مذاکرات کی تاریخ کااعلان اب تک کیوں معلوم نہ ہوسکا؟

بین الافغانی مذاکرات کی تاریخ کااعلان اب تک کیوں معلوم نہ ہوسکا؟

تحریر:عبدالرحيم (ثاقب)
مصنف و سیاسی تجزیہ کار
کابل انتظامیہ کی جانب سےلسٹ کے مطابق قیدیوں کی رہائی میں مؤخر تاخیر کی وجہ سے بین الافغانی مذاکرات کی مقررہ تاریخ چھ مہینے تک مؤخر ہوگئی-
ستمبر پہنچنے کے ساتھ ہی کئی دفعہ میڈیا کی جانب سے انٹراافغان ڈائیلاگ کی تاریخ کااعلان ہوگیا-
لیکن آج ستمبر کی ۸ تاریخ کو پھر بھی معلوم نہ ہوسکا کہ کب شروع ہونگے؟
ستمبر کی پانچ تاریخ کو امارتِ اسلامیہ کی ٹیم کے تمام افراد قطر کی دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے اور اگلے دن ہی آپس میں ایک تعارفی اجلاس منعقد بلایا-
بین الافغانی مذاکرات کے لیے افغان سیاسی جماعتوں کی تشکیل شدہ ٹیم متعدد دفعہ قطر جانے کے اعلان کے باوجود اب تک پہنچ سکی اور نہ ہی جانے کی تاریخ معلوم ہوسکی-
اب سوال یہ ہے کہ مذاکرات مسلسل التوا کاشکار کیوں ہیں!
بین الافغانی مذاکرات جس وجہ سے تاخیر کاشکار بنے تھے وہ وجہ اب تک قائم ہے-
طالبان کی جانب سے مذاکرات کے مرحلہ میں داخلہ کی بنیادی شرط دی گئی لسٹ کے مطابق پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی ہے-
لیکن وہ شرط اب تک ادھوری ہے اور لسٹ کے مطابق پانچ ہزار قیدیوں میں سے ۱۱۷ افراد اب تک جیل میں ہیں –
اسی طرح بقایاافراد میں چھ وہ افراد بھی شامل ہیں جو قطر لے جائے جائیں گے-جن کی رہائی،وہاں رہنے، رسمی اسفار کے ویزوں اور وطن واپسی کامعاملہ صحیح طرح سے واضح نہیں ہیں-
یہ وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے بین الافغانی مذاکرات تاخیر کاشکار ہوئے ہیں اور اب تک متعین تاریخ کااعلان نہیں ہواہے-
اب یہ کہ قیدیوں کی رہائی میں کیوں تاخیر ہورہی ہے؟
یہ درحقیقت اشرف غنی اور عبداللہ کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی،افغان سیاسی جماعتوں کی ٹیم کے افراد میں یکجہتی کافقدان اور بعض دیگر عوامل ہیں جو اس عمل میں تاخیر کاسبب بن رہے ہیں-
اب کابل انتظامیہ چاہتی ہے کہ ان اختلافات کو عوام اور دنیاسے مخفی رکھے اور اسی مقصد کے لیے ان قیدیوں کی رہائی میں خواہ مخواہ لیت ولعل سے کام لے رہی ہے جن کے لیے انہوں نے ہی باقاعدہ لویہ جرگہ بلایاتھا،بلکہ بعض ان قیدیوں کی موجودگی سے انکار کررہی ہے جن کی امارتِ اسلامیہ نے باقاعدہ مستند فوٹیج ثبوت میں پیش کردی ہے-
اگرچہ کابل انتظامیہ کے بعض افراد مذاکرات میں تاخیر کی ذمہ داری طالبان پر ڈال رہے ہے اور طالبان کے درمیان اختلافات کاپروپیگنڈا کررہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حقیقت کے خلاف ہے- امارتِ اسلامیہ اشرف غنی اور اس کی انتظامیہ کی طرح کوئی بے بس اور بت نماقوت نہیں ہے جس کامتعین کردہ گورنر اور آئی جی لوگ مسترد کردیں اور ان کے پاس مقابلہ میں بے بسی کے علاوہ کچھ نہ ہو-
طالبان کی یہ خاصیت ہے کہ وہ شرعی نقطہ نظر سے تمام جائز کاموں،تقررات اور اجراءات میں اپنے امیر کی اطاعت کو اپنے اوپر فرض سمجھتے ہیں اور اپنے امیر کی بات ماننے میں کسی تردد کاشکار نہیں ہوتے-
مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیخ عبدالحکیم کی تعیناتی کاسب سے پہلے والہانہ اور تعظیمانہ انداز میں خیر مقدم جناب شیرمحمد عباس ستانگزئی نے کیا-
مذاکراتی ٹیم کے لیے حضرت الشیخ کی تعیناتی خود طالبان کی مذاکرات کے لیے سنجیدگی،اہتمام اور بھرپور متانت پردلالت کرتی ہے-
طالبان شروع سے اس بات پر مصر ہیں کہ ہم صرف اور صرف اسی صورت میں انٹراافغان ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیں جس میں ہمارے دی گئی فہرست کے مطابق پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی مکمل ہوئی ہو-

Related posts