اکتوبر 27, 2020

نئی تقرریاں اور مذاکرات کی تیاری

نئی تقرریاں اور مذاکرات کی تیاری

آج کی بات

گزشتہ روز امارت اسلامیہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ امارت اسلامیہ کی قیادت نے بین الافغان مذاکرات کے لئے نئی تقرریاں کی ہیں۔ ان تقریریوں کے مطابق مذاکراتی وفد کی قیادت شیخ الحدیث مولوی عبد الحکیم صاحب کے حوالے کردی گئی ہے ، جو جید عالم دین اور جہادی شخصیت ہیں۔ ان کے علاوہ الحاج شیر محمد عباس ستانکزئی ، جو ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے ہیں اور امریکیوں کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے، کو ان کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ الحاج ملا برادر اخوند اس ٹیم کے سربراہ اور امارت اسلامیہ کے تمام سفارتی معاملات کے نگران ہیں۔ وہ امارت اسلامیہ کی پوری خارجہ پالیسی اور سیاسی سرگرمیوں کا نمائندہ ہیں۔

سیاسی عمل کے سربراہ الحاج ملا برادر اخوند ، شیخ عبدالحکیم صاحب اور شیر محمد عباس ستانکزئی صاحب جیسی بااثر ، تجربہ کار اور مشہور شخصیات کی موجودگی امارت اسلامیہ کے سفارتی امور کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہے۔ حالیہ تقریریوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امارت اسلامیہ آئندہ کے مذاکرات کے لئے سنجیدگی سے تیاری کر رہی ہے اور اس مرحلے کو بہت اہمیت دیتی ہے۔

آئندہ مذاکرات کے لئے امارت اسلامیہ کی تیاری اور سیاسی ٹیم کی مضبوطی سے مجاہدین اور عام عوام کو یہ پیغام ملتا ہے کہ امارت اسلامیہ کی قیادت جہاد کی امنگوں ، اسلامی نظام کی حکمرانی اور مذاکرات کے دوران افغان مسلم عوام کی توقعات کے مطابق آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہے۔ اور جس طرح وہ عسکری اور مختلف ملکی شعبوں میں فعال کردار ادا کررہی ہے۔ اسی طرح سیاسی میدان میں بھی صورتحال کے تقاضوں کے مطابق مناسب اقدامات اٹھاتی ہے۔

امارت اسلامیہ کی کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ نئی تقریریاں اور فرائض میں تبدیلی ذاتی تعلقات یا مادی مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ جہاد اور نظام کے اعلی مفادات کے لئے انجام دی جاتی ہے۔ ذمہ داری کے سپرد کرنے اور قبول کرنے دونوں کا مقصد رضائے الہی کا حصول اور دین کی خدمت ہے۔ امارت میں عہدوں اور فرائض کو مراعات نہیں بلکہ ایک بھاری بوجھ اور ذمہ داری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس لئے اللہ کی مدد ہمیشہ ایسے ذمہ داروں کے ساتھ شامل حال ہوتی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ مذاکراتی عمل کے بارے میں امارت اسلامیہ کا سنجیدہ رویہ اس کا باعث بنے گا کہ پچھلے مذاکرات کی طرح اس مرحلے پر بھی امارت اسلامیہ اپنے مقاصد کامیابی کے ساتھ حاصل کرے گی ۔

Related posts