اکتوبر 27, 2020

عظیم مجاہد حقانی صاحب کی دوسری برسی

عظیم مجاہد حقانی صاحب کی دوسری برسی

ہفتہ وار تبصرہ

13 سنبلہ  بمطابق 03ستمبرعظیم مجاہد ،افغان سپہ سالار  اور علمی شخصیت مرحوم مولوی جلال الدین حقانی صاحب کی وفات کی دوسری برسی ہے۔ مولوی جلالالدین حقانی ملکی اور عالمی سطح پر ایک ممتاز جہادی شخصیت ہیں،جنہوں نے امارت اسلامیہ کے قیام، حکمرانی اور بعد میں امریکی جارحیت کے خلاف مقدس اور قابل فخر جہاد کے مراحل میں تاریخی کردار ادا کیا ۔

بیسویں صدی کا ایک عظیم واقعہ جس نے  عالمی نظام اور تاریخ کا رخ بدل کر ڈالا، وہ سوویت یونین کا خاتمہ تھا۔سوویت یونین کے خاتمہ کی دیگر وجوہات کیساتھ ساتھ ایک بنیادی وجہ افغانستان میں ہمارے باایمان مجاہد عوام کے روسی کمیونزم کے خلاف 14 سالہ جدوجہد اور پندرہ لاکھ شہداء کی قربانی تھی۔مولوی جلال الدین حقانی صاحب وہ رہنما تھے،جنہوں نے روس کے خلاف جہاد میں نمایاں  کردار  ادا کیا۔  موصوف ان چند جہادی رہنماؤں میں سے تھے،جن کی قیادت،مقام اور عہدہ  روسی غاصبوں کے خلاف دوبدو لڑائی میں رکاوٹ نہ بنی اور انہوں نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔ آخر تک انہوں نے  روس کے خلاف جنگ کی کمان سنبھال لی اور اس راہ میں کئی باز زخمی  اور بہت کٹھن حالات سے روبر ہوئے۔

مگر مرحوم حقانی صاحب جس طرح مرد میدان و عمل تھے، اتنا ہی شہرت، عہدے اور مادی مفادات سے نفرت کرتے۔جب کمیونزم کے خلاف جہاد کامیابی کو پہنچا۔ موصوف نے  ہر کمانڈر اور قائد سے جہاد میں بہت کردار ادا کیا ، اس کے باوجود  اقتدار اور عہدے کے حصول کے لیے کوئی کوشش نہیں کی، ان کی زیادہ  کوشش یہ رہی،کہ اقتدار کی خانہ جنگی میں ملوث دھڑوں کے رہنماؤں کو جہادی مقاصد کی جانب متوجہ کروادیں۔ خانہ جنگی اور فسادات سے انہیں  روک دیں،تاکہ ملک میں ایک حقیقی اسلام نظام کے قیام کے لیے راہ ہموار ہوجائے۔ اسی لیے جب امارت اسلامیہ افغانستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔جناب حقانی صاحب نے بھرپور اخلاص کیساتھ خیرمقدم کیا۔ امارت اسلامیہ سے مکمل اتحاد کا اعلان کیا اور اپنے تمام امکانات و مجاہدین کو امارت اسلامیہ کی خدمت  میں وقف کردیا۔

مرحوم حقانی کا پرخلوص جہاد، شہرت، منصب،جاہ و جلال اور مفادات سے عدم دلچسپی،  ہر شخص کی خیرخواہی اور دین کے لیے قربانی و ایثار کے کارنامے ہمیں ایک سچے مجاہد اور اسلامی  سپہ سالار کی خصوصیات اور  کوائف بتلاتے ہیں اور ہر کسی کی توجہ اس طرف مبذوال کرواتی  ہے کہ دین کی خدمت کس طریقے سے انجام ہونا چاہیے۔

جس طرح جناب حقانی صاحب نے روسی غاصبوں کی شکست میں بنیادی کردار ادا کیا،   زندگی کے آخری ایام میں امریکی غاصبوں کے خلاف  مایہ ناز جہاد کا فخر بھی انہوں نے پایا ۔ اسی طرح تاریخ اسلام میں ایک عظیم اور ناقابل فراموش غازی کی حیثیت سے مقام حاصل کرلیا۔

مرحوم مولوی جلال الدین حقانی صاحب کی دوسری برسی کے آمد کے موقع پر امارت اسلامیہ تمام مسلمانوں اور خاص کر مجاہدین کو یاد دلاتی ہے کہ اس عظیم مجاہد ،نیز  جہاد کے دیگر مجاہدین اور شہداء کی ارواح کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اس لیے کہ وہ امت کے محسن ہیں۔ ان کی مثال ان شمع کی ہیں، جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ اپنی جان، مال اور زندگی کی خواہشات کی قربانی دی، مگر ہماری ملت کو  کفر، فسق، چوری، غلامی اور اسارت سے  نجات دلادی ۔

اسلامی نظام اور راہ جہاد کے سپوتوں کی ارواح شاد اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں۔

Related posts