اکتوبر 27, 2020

تاریخ ساز والد !!

تاریخ ساز والد !!

تحریر : انس حقانی

ترجمہ : ہارون بلخی

کسی مصنف کے لیے سب سے مشکل ترین کام اپنے بارے میں لکھنا ہے۔اسی لیے کافی عرصے سے اپنے والد صاحب کے متعلق کچھ لکھنے کا سوچ رہا ہوں۔لیکن دوبارہ نادم ہوتا، کہ وہ  تو تیرا والد ہے اور لوگ تمہاری تحریر کو اپنے والد کے بارے میں مبالغہ آرائی  کے طور پر سمجھے گا۔

آج میں نے اپنے مرحوم والد صاحب کے بارے میں کچھ لکھنے کا فیصلہ اس لیے کرلیا، کہ اب دوستوں کی ستائش کیساتھ دشمن نے بھی حقائق کو تسلیم کرلی، تو مجھ پر مبالغہ آرائی کا الزام کیوں لگایا جاتا ہے؟

ایک دن ہم ایک غیرملکی سینئر عہدیدار کے ساتھ بھیٹے ہوئے تھے۔ بہت فصیح گفتگو کررہا تھا،دیگر حکام کے برعکس صاف اور بلاجھجک گفتگو کرتے اور کھل کر جوابات دیتے۔

جب ہمارا تعارف ان سے کروایا گیا، تو انہوں نے کہا :  مجھے ایسے افراد کی صحبت کا  شرف حاصل ہونے پر فخر ہے، جنہوں نے تاریخ رقم کی ہے، اب دوست اور دشمن اس پر قائل ہیں،آپ تاریخ ساز شخصیت ہیں۔

جی ہاں !  ہمیں یہی فخر ہمارے پیارے والد،  دیگر بہادر قائدین اور بزرگوں نے  بخشا ہے۔

میرے والد کے محض نام سننے سے بعض حضرات خوف کا احساس کرتے ہے۔ جی ہاں ! اس حوالے سے جیل کا ایک واقعہ  قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

جب مجھے گرفتار کرلیا گیا، جیل میں کچھ روز گزارے ،90 ویں ڈائریکٹوریٹ  کے عقوبت خانے میں اکیلا تھا۔ انٹیلی جنس اہلکار قیدیوں کو دھوکہ دینے کی خاطر سادہ لباس میں ملبوس ایک شخص کو انسانی حقوق کے مبصر کے نام سے ان قیدیوں کے پاس بھیجتا۔جن  پر تشدد کیا گیا تھا،ان سے ان کے مسائل کے بارے میں پوچھتا، اگر کوئی شکایت کرتا، تو ان کی ایک بار پھر خوب پٹائی کی جاتی، یہ شخص کمروں کا چکر لگاتا رہا، انہیں یہ معلوم نہ تھا، کہ اس کوٹری میں انس ہے۔

میرے پاس بھی آیا، دروازہ کو بند کرکے دیوار کو ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، اپنا قلم اٹھایا، کہنے لگا کیا مسئلہ ہے؟

تم کتنے دنوں سے یہاں ہو ؟

کیا تم پر تشدد تو نہیں کیا گیا ؟

میں سمجھ گیا کہ بندہ کو مجھ پر غلط فہمی ہوئی، کیوں کہ ایسے افراد ہمارے پاس نہیں آتے،جن سے ہم اپنے مسائل کو شریک کریں، میں نے مسکراتے ہوئے ان سے کہا ،اگر ہمارا کوئی مسئلہ ہو، تو آپ اسے حل کرسکتے ہو !

انہوں نے کہا :  کوشش کروں گا۔

آخرکار میں نے ان سے کہا : دیگر مسائل کو رہنے دو، مجھے اپنے ساتھی سے ملا دو، ہمیں کیوں علحیدہ علحیدہ رکھے گئے  ہیں۔

پوچھا وہ کون ہے؟

میں نے جواب دیا ، حافظ رشید۔

انہوں نے میرے جرم کے بارے میں پھر پوچھا؟ میں مسکرایا……میرا جرام ؟!

اس نے کہا:  ہاں !

میں نے کہا: مجھے اپنے والد کی وجہ سے گرفتار کیا گیا،اس کے علاوہ میرا کوئی جرم نہیں ہے۔

انہوں نےپوچھا، تمہارا والد کیا کام کرتا ہے؟!

ان کا نام کیا ہے ؟

میں نے کہا : جلال الدین حقانی

آپ اللہ تعالی پر یقین کیجیے ، اس کا رنگ اچانک ایسا بگھڑ گیا،جیسے اس کے گلے پر موت کی تیز  دھار تلوار رکھی گئی۔ وہ کھڑا ہوگیا، ایک دفعہ خوف کے مارے میری طرف دیکھتا اور دوسری بار دورازے کی جانب۔

پیچھے کی طرف روانہ ہوا،اپنے ہاتھ کو دور سے دروازے کی جانب بڑھادیا اور کہا  ایسا نہ ہو کہ پیچھے سے مجھ پر حملہ کریں اور آنکھ جھپکتے ہی وہاں سے غائب ہوگیا۔

ان کے اس عمل پر مجھے بہت ہنسی آئی اور اسی وقت اللہ تعالی کا شکر بجا لایا کہ میرے والد کے نام سے دین و ملک کے دشمن ایسے ڈرتے ہیں، جو ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے قیدی انس کے جیل کی کوٹری کو خوف کے مارے چھوڑکر بھاگ جاتے ہیں۔

جب والد صاحب کی وفات کی خبر پھیلی، مجھے بگرام جیل کے سزا دینے والے بیت الخلاؤں میں رکھا گیا تھا۔ امریکیوں نے مجھے خبر دینے کی خاطر میرے ماموں حاجی مالی خان کو وہاں لایا، داستان طویل ہے۔ امریکی کرنل نے میری باتوں کے بعد کہا : حقانی اگرچہ ہمارا سخت ترین دشمن تھا اور ہماری افواج کو مار ڈالے ہیں، مگر ہم اس پر اعتراف کررہے ہیں،کہ وہ اپنی سرزمین کا شیدائی اور بہادر شخص تھا، انہوں نے ہمیشہ اپنے ملک کی دفاع کی جنگ لڑی، وہ ایسے جنگجو تھے جو کبھی بھی اپنے مؤقف سے نہیں ہٹے۔

مرحوم والد کی زندگی میں ہم نے عجیب و غریب حالات دیکھیں، ہمیں عملی طور پر تربیت دی، جب بھی ہم ان سے ملتے، تو ہمیں حصول علم کی تلقین کرتے ، فرماتے کہ علم ہی سے حق و باطل اور سیاہ و سفید کو پہنچان سکتے ہو۔

ایک دن ہمیں بتایا، نوجوان جذباتی ہوتے ہیں، جنگ اور سیاست میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر دیکھیے افغانستان میں جب بھی سیاست کرنا چاہتے ہو،اسے حاصل کرسکتے ہو، لیکن حصول علم کا زمانہ نوجوانی ہے، تم ایک بار علم حاصل کرو، پھر ہر کام آسان ہے، مگر مناصب اور عہدوں سے دور رہو، کیوں کہ دنیا میں عظیم آزمائش عہدیدار پر آتی ہے۔

کافروں اور غاصبوں سے شدید دشمنی اور نفرت ، مگر اپنے لوگوں سے بےحد محبت اور پیار کرتے، پیارے مرحوم والد صاحب فرماتے: اگر ملت کے افراد جنتی بھی غلطیاں کریں، تم ان کی اصلاح کی کوشش کرو،اگرچہ انہوں نے تمہارے دوستوں اور رشتہ داروں کو مار ڈالے ہو، اگر اصلاح اور آگہی ممکن ہو، تو اپنے دردوں پر چشم پوشی کرو، صبر کرو، اپنے افراد کو اپنا بنا لو۔

غاصبوں سے اتنی شدید دشمنی تھی کہ ایک دن مغرب کے وقت ہم چند افرادکے ہمراہ ان کے پاس چلے گئے، انہوں نے نماز  ادا کی تھی اور اکیلے تھے۔ شدید علیل بھی تھے، بہت رو  پڑے۔

ایک ساتھی نے انہیں تسلی دی، اس کے بعد رونے کی وجہ پوچھی،کہ کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟ مرحوم والد صاحب کہنے لگے:” اس لیے رو رہا ہوں کہ میں نے روسیوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا، مگر امریکیوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل نہیں کیا،امریکی افواج نے ہماری ملت  پر بےتحاشا تشدد کیا ہے، ہمارے مذہب کی بےحرمتی کی ہے،اس لیےاب رو رہا ہوں، کہ امریکا نکل جائے اور میں فوت ہوجاؤں اور انہیں قتل کرنے پر اپنے کلیجے کو ٹھنڈا نہ کروں”۔

ان کے ساتھ بھیٹے ہوئے تمام افراد حیران رہ گئے،ایک ساتھی نے مسکراتے ہوئے بطور تسلی انہیں بتایا :

حاجی صاحب ناراض مت ہونا !

آپ کے حکم اور رہنمائی سے ہم نے اتنے غاصبوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے،جن کی گنتی مشکل ہے اور آپ اب بھی امریکیوں کو قتل کرسکتے ہو، وہ اس طرح کہ ہم آپ کو اپنے کندھوں پر بھٹا  کران پر گولیاں چلائیں۔

یہ بات سنتے ہی بہت خوش اور مسکرا گئے۔ فرماتے کہ مجھے عہدے کا شوق ہے اور نہ ہی دولت کا۔ پھر کہا میں نے آزادی کے مراحل دیکھے ہیں، بہت سے لوگوں اور دنیا کے کافروں نے مجھے اقتدار کی پیش کش کی، مگر ذلت کی سلطنت سے  ان مٹی کے کمروں میں عزت کی  زندگی گزارنے کو بہتر سمجھتاہوں۔ افغانستان کے مظلوم اور مصیبت زدہ عوام پر میرا دل بہت غم زدہ ہے،اس نے بہت مصائب برداشت کیں اور یہ میری آرزو ہے کہ اسلامی نظام کے زیرسایہ افغان مصیبت زدہ ملت ایک بار پھر امن و سکون کا سانس لیکر  اجنبی کافروں اور غداروں کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کریں۔

ان کے قریبی دوست اور شاگرد شہید احمد جان غزنوی نے ان سےدریافت کیا : آپ پہلے فرماتے کہ دنیا والے مجھے حکمرانی کی پیش کش کرتے،اس بارے میں ذرا بتائیں ؟

والد صاحب نے کہا :” جب امریکا نے افغانستان پر جارحیت کا فیصلہ کرلیا، تو اس نے بااثر شخصیات سے رابطے شروع کیے، ہمیں مختلف ذرائع سے پیغامات بھیجے، مگر جب میں آخری بار بحیث وزیر سرحدات ایک وفد کے ہمراہ پاکستان گیا، وہاں ہم نے مختلف مجالس کیے،ایک اعلی امریکی وفد کیساتھ بھی ملاقات ہوئی۔ امریکی عہدیدار نے اپنی گفتگو اس انداز سے شروع کی، جیسا کہ ہم ان کےدیرنہ دوست تھے، میں توجہ سے سن رہا تھا، امریکی وفد نے کہا : ہمارا ارادہ ہے کہ ہم اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کی خاطر دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کا پیچھا کرنے افغانستان آجائیں،  انہوں نے ظلم کیا ہے، اس نظام کا خاتمہ ہونا چاہیے،اس کی جگہ  متبادل نظام قائم ہونا چاہیے، اب ہمارا منصوبہ اور ہماری حکومت کا انتخاب یہ ہے کہ آپ طالبان کی حمایت کو  ترک کردیں اور ہمارا ساتھ دیجئے ! آپ ایک قبائلی شخصیت ہیں اور افغانی آپ پر اعتماد کرتے ہیں، آپ روس کے خلاف لڑے  اور مجاہدین کے درمیان امن و امان کی جدوجہد کی راہ میں آپ کا پس منظر روشن ہے، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ آنے والے نظام کی قیادت کو آپ کے حوالے کردیں، اگر آپ کو مزید کسی چیز کی ضرورت ہے، تو ہمیں بتادو !……

میں نے سوچا کہ اتنے سالوں کے تکالیف، جہاد، زخم اور ہجرت کے بعد اب یہ لوگ تمہیں آزمائش میں ڈال رہا ہے، میرے ایمان کو خطرے سے روبرو کررہا ہے، مگر الحمدللہ ان کی بھاری پیش کش کی طرف میرے دل میں ذرا بھی شوق اور میلان پیدا نہیں ہوا۔

میں نے کہا کہ آپ کی باتیں ختم ہوئیں؟

انہوں نے کہا ہاں !

انہوں نے فورا کاغذ اٹھایا اور لکھنے کا انتظار کرنے لگا۔

میں نے انہیں بتایا : آپ کیا سوچ رہے ہیں کہ حقانی سلطنت کے بدلے اپنے دین اور عوام  کا تم سے سودا  کردیں ؟!

شہداء کی امنگوں کو دفن کردیں؟ یہ کسی صورت میں بھی ممکن نہیں ہے،میں تمہیں صاف صاف بتادوں گا اور دھیان سے سنو، اسی طرح ان باتوں کو اپنے حکمرانوں تک پہنچا دو !

افغانستان پر جارحیت کے ارادے کو دل سے نکال دو، کیوں کہ یہ تمہارے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا، مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں، اگر تم نے افغانستان پر جارحیت کی، تو غور سے سنو!  میں اس بندوق سےتمہیں نشانہ بناؤں گا،جس سے روسیوں کو قتل کیا تھا۔

ان کے چہرے زرد پڑ گئے اور وہ حیرت زدہ ہوئے، میں نے مزید باتوں کو ترک کردیا، اپنی جگہ سے فورا اٹھ کر روانہ ہونے لگا، نکلتے وقت میں نے پھر انہیں بتایا کہ یہ میرا حتمی فیصلہ ہے، امید ہے کہ اسے اچھی طرح سمجھ لیجیے۔

ایک ماہ کے لگ بھگ عرصہ گزرا تھا کہ پکتیا میں ہمارے مراکز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایاگیا، اس کے بعد ایک دہائی کے دوران انہوں نے مختلف ذرائع سے پیغامات بھیجے، کہ آؤ، جو کچھ چاہتے ہو، ہم آپ کو دے دینگے، مگر میں نے ہر بار دو ٹوک الفاظ میں نفی کا جواب دیا۔

اس پر شکرگزار ہوں کہ میرے بیٹے امریکی گولیوں سے شہید ہوئے ہیں، اس لیے ایک جانب اپنے شہداء ساتھیوں کو شرمندہ نہیں ہوں اور دوسری طرف کافروں سے نفرت اور دشمنی میں مزید اضافہ ہوجائیگا”۔

مرحوم والد صاحب کی حالات کے بارے میں ہم سوچتے ہیں، یقینا عظیم شخصیت تھے، بیماری کی شدت کے دوران بھی عبادت کو  ترک نہیں کی، ہم ان سے کہتے کہ آپ کو آرام کی ضرورت ہے، مگر جب بھی انہیں دیکھتے، تو تہجد پڑھنے کے لیے بیدار ہوتے۔

قرآن کریم کی تلاوت کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑا، یہاں تک زندگی کے آخری ایام میں فالج کی وجہ سے ان کا ایک ہاتھ بے حس ہوا، پھر ساتھی انہیں ٹیپ ریکارڈر کی تلاوت سناتے، والد  صاحب جتنی عبادت کرتے، اگر اللہ تعالی کی قسم اٹھاؤں ، تو حانث نہیں ہونگا، کہ میں نے اپنی زندگی میں ایسے عابد شخص کو نہیں دیکھا ہے۔

ایک دن میں کئی بھائیوں کے ہمراہ ان کے پاس گیا، تو کچھ ناراض معلوم ہورہا تھا، ہم نے احوال پرسی کی، تو وہ رو پڑے، ہم بھی ان کیساتھ رونے لگے، بڑے بھائی نے دریافت کیا کہ بابا آخر کیا بات ہے ؟!

انہوں نے کہا کہ اس لیے رو رہا ہوں کہ میرا نجام کیسا رہیگا؟ سبحان اللہ اپنی قربانیوں اور عبادت کی تکالیف کے باوجود انہیں اپنے انجام کا خوف تھا، ہم نے انہیں تسلی دی، مگر انہوں نے فرمایا : گذشتہ جہاد کے قائدین ساتھیوں کو دیکھتے ہوئے انہوں نے موت کی خوف اور دنیا کے حصول کی لالچ میں اپنی غیرت اور ضمیر کو فروخت کردیا اور کافروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے، تو مجھے خوف ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالی ہمارے انجام کو خراب کردے، کاش میرے جہاد کے سابقہ ساتھی اب بھی سمجھ جاتے اور کافروں کی حمایت سے دستبردار ہوجاتے۔

ان کی باتیں درحقیقت حیراکن تھیں، ان کی باتوں پر جیل میں بہت سوچ رہا تھا، زیادہ مطالعہ کے بعد مجھے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے نیک بندے ہمیشہ اپنے انجام کی خوف سے روتے ہیں، باوجود کہ انہیں اپنے نیک اعمال معلوم ہوتے ہیں، مگر انجام کا اندازہ کسی کو نہیں ہوتا۔

میرے ساتھ زیادہ علمی بحث و مباحثہ فرماتے، مجھے حصول علم کا زیادہ ترغیب دیتے،میں جب بھی  ان کے پاس جاتا، تو انہیں جس کتاب کی ضرورت ہوتی،اس کی یادآوری فرماتے،کہ دوبارہ آتے وقت میری کتابوں سے لے آنا، ان کی حافظہ اتنی قوی تھی کہ انہیں کتابوں کی رنگ بھی یاد رہتے ،جس مسئلے کے بارے میں ان سے پوچھتاجاتا، تو فورا کتاب کا نام بتادیتا، کہ فلاں جلد کے فلاں باب میں ملاحظہ کیجیے!

آخری اوقات میں ہمیں بتلاتے : میں اللہ تعالی کے دین کو تمہارے لیے میراث چھوڑہا ہوں، اگر تم نے دولت کو فوقیت دی، دین کو پیچھے کردیا،اللہ تعالی کو بھی ناراض کردیا اور مجھے بھی، اگر تم نے دین کو فوقیت دی اور دنیا کو پس پشت ڈال دی، تو اللہ تعالی کو بھی راضی کردیا اور مجھے بھی۔ اپنے کتب خانے اور مجاہدین کے حوالے سے ہمیں وصیت کی، کہ انہیں ضائع نہ ہونے دیں، ان کی حفاظت کریں۔

ایک ہوشیار شخص نے مجھے ایک بتایا کہ بعض لوگ خبر ساز اور بعض تاریخ ساز ہوتے ہیں، تو تمہارے والد (حقانی صاحب) نے تاریخ رقم کی، رحمہ اللہ۔ میرے پاس والد صاحب کے اتنے واقعات ہیں،جن سے کتابیں لکھی جاتی ہیں، مگر :

ستا د ښایست ګلونه ډیر دي
ځولۍ مې تنګه زه به کوم کوم ټولومه

اللہ تعالی مرحوم والد صاحب پر رحمتیں نازل فرمائیں، انہوں نے ہمارے اور پوری امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم تاریخ رقم کی اور ہم سب پر بھاری ذمہ داری مسلط کردی، اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو اسے محفوظ  رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Related posts