اکتوبر 27, 2020

وہ اقدام جو پہلے اٹھانا چاہئے تھا

وہ اقدام جو پہلے اٹھانا چاہئے تھا

آج کی بات

 

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرین نے کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کو ٹیلی فون کیا کہ وہ بین الافغان مذاکرات کی راہ میں مصنوعی بہانے ختم کردیں ، باقی قیدیوں کو رہا کریں اور اور مذاکرات شروع کرنے کے لئے راہ ہموار کریں، اس کے ساتھ کابل کے پل چرخی ، بگرام ، قندھار اور کچھ دیگر جیلوں سے بقیہ 400 قیدیوں کی رہائی کا عمل ایک بار پھر شروع ہوا اور بڑی تعداد میں قیدیوں کو رہا کیا گیا، امید ہے کہ آئندہ دو دن میں یہ عمل مکمل ہوجائے گا۔

امارت اسلامیہ نے بار بار کہا ہے کہ وہ کبھی بھی امن اور بین الافغان مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی اس میں کوئی رکاوٹیں پیدا کرے گی اور نہ ہی وہ عوام اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوئی مذموم کوشش کرے گی۔

جب بھی معاہدے کے مطابق قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہوگا ہم فورا بین الافغان مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

لیکن افسوس کہ کابل انتظامیہ کے حکام کی بچگانہ اور امن مخالف حرکتوں کی وجہ سے یہ مسئلہ دس دن سے بڑھ کر چھ ماہ تک پہنچا، اور اب بھی اس میں وائٹ ہاؤس کا دباو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ افغان عوام اور امارت اسلامیہ چاہتے ہیں کہ امریکہ فیصلہ کن کردار ادا کرے ، تاکہ صدارتی محل میں بیٹھے ان کے تربیت یافتہ دوست اپنی امن مخالف پالیسیوں پر توجہ مرکوز کرسکیں، بصورت دیگر امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور اس کے منفی نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور عالمی برادری پر بھی عائد ہوتی ہے۔

بہر حال دیر آیا درست آیا، اگرچہ اب بھی امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ایک کال کابل لویہ جرگہ سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے، قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونے کے قریب ہے ، بین الافغان مذاکرات کی باری قریب آرہی ہے ، اور امن کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہورہی ہیں اور رکاوٹ ڈالنے والوں کا سدباب کیا جاتا ہے، ایسے تمام اقدامات مثبت اور قابل ستائش ہیں۔

یہ ایسا اقدام ہے کہ جس کو پہلے اٹھانا چاہئے تھا، کیونکہ اس سے خونریزی کا دورانیہ مختصر ہو جاتا ، وطن عزیز پر جارحیت کا اندھیرا کم ہو جاتا، شرپسند عناصر کا ہاتھ افغان عوام کے گریبان سے نکل جاتا۔

امید ہے کہ قیدیوں کی رہائی کا عمل جلد مکمل ہوجائے گا اور افغانوں کے مابین ایک ایسا حل نکل آئے گا جو ہماری مسلمان ، مظلوم اور آزادی پسند قوم کی تمام امنگوں اور اقدار کو محفوظ رکھے گا۔

و ما ذالک علی اللہ بعزیز

Related posts