اکتوبر 27, 2020

قدرتی آفت اور ہمدردی کی ضرورت

قدرتی آفت اور ہمدردی کی ضرورت

ہفتہ وار تبصرہ

چند روز قبل ملک کے مختلف صوبوں میں مسلسل بارشوں  سے خطرناک سیلابی ریلے  آنے کی وجہ سے عوام کو بھاری جانی و مالی نقصانات پہنچا۔ ملک کے 13 صوبوں میں سیلابی ریلے آئے، لیکن سیلاب نے  پروان، کابل، پکتیا، پنجشیر، وردک، کاپیسا اور ننگرہار میں بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔

آخری اطلاعات کے مطابق سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔نیز عوام کے مکانات، دکانیں،کھیتی باڑی اور دیگر املاک بھی مکمل طور پر تباہ یا نقصان سے دوچار ہوئے ۔ سیلاب کی آفت اس حال میں  پیش آرہا ہے کہ اہل وطن کورونا بحران کی وجہ سے بھی بہت متاثر ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ جارحیت اور  بدعنوان حکام کے اعمال نے بھی فقر کی سطح  میں جان بوجھ کر نمایاں طور پر اضافہ کیا  ہوا ہے۔

سیلاب کی آفت سے نمٹنے کے خلاف کابل انتظامیہ کا  ردعمل کافی حدتک پروپیگنڈہ اور نمائشی کردار تک محدود ہے۔ بدعنوان حکام نے ہمیشہ عوام کی مصیبت میں اپنے ذاتی مفادات تلاش اور آنے والی رقم کو  چرالی ہے ، موجودہ آفت میں بھی ان پر کوئی اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

امارت اسلامیہ سیلاب زدہ گان سے ہمدردی کے  اظہار کے علاوہ اپنے مجاہدین کو بتلاتی ہے کہ اپنی بھرپور قوت سے مصیبت زدہ افراد سے تعاون کے میدان میں کھود پڑے۔ان کے لیے زندگی کی ابتدائی ضروریات کی فراہمی، ادویات اور ، سرپناہ وغیرہ امداد پہنچانے میں مکمل تعاون کریں۔

مقامی سطح پر علاقے کے باشندوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اسلامی بھائی چارے اور انسانی ہمدردی کی رو سے اپنے متاثرہ بھائیوں سے تعاون کریں۔عوام کو صرف فلاحی اداروں کی تعاون کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اپنی مدد آپ  کا مظاہرہ کریں۔جس طرح اس درد  اور آفت کا ادراک ہر کسی سے عوام ہی بخوبی جان سکتا ہے، اسی طرح اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی حالت سے باخبر بھی ہوسکتےہیں۔چوں کہ مصیبت زدہ گان سے تعاون اور امداد دینی لحاظ سے اجر و ثواب کا عمل سمجھا جاتا ہے۔  عوام میں اتحاد، اخوت اور باہمی رشتوں کی مضبوطی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور سماج کو بحرانوں سے نمٹنے کے مقابلے میں مزاحمت کی قوت بخشتی ہے۔

نیز امدادی اداروں اور فلاحی تنظیموں کو امارت اسلامیہ بتلاتی ہے کہ ہمارے ملک کے بحران زدہ خاندانوں سے اسی سطح پر تعاون کی جائے ، جیسا کہ دنیا کے دیگر علاقوں میں آفت زدہ افراد سے تعاون کے مہم اور امداد پہنچانے کی وسیع سرگرمیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔

امدادی اداروں کو نام نہاد اعداد وشمار اور میڈیا میں نمائشی حرکات کرنے کے بجائے عملی کام پر بہت توجہ دینی چاہیے،کیوں کہ آفت زدہ گان کے زخم صرف اور صرف عملی امداد سے مرہم پٹی کیے جاسکتے ہیں۔  اس حوالے سے  امارت اسلامیہ امدادی اداروں کیساتھ ہر قسم کی تعاون کےلیے مکمل طور پرآمادہ ہے  اور آفت زدہ گان کو امداد پہنچانے کی صورت میں کسی قسم کی جدوجہد سے دریغ نہیں کریگی۔

Related posts