اکتوبر 27, 2020

جنگی جرائم جولائی2020

جنگی جرائم جولائی2020

تحریر: سید سعید

یکم جولائی 2020 کو سرکاری طیاروں نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع جغتو کے گاؤں محمد قلی کی مسجد پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں مسجد شہید ہوئی۔

2 جولائی کو صوبہ ہلمند کے ضلع گرشک کے علاقے خومانو کش میں ہرات کی طرف جانے والی سڑک پر سنگوری اربکی ملیشیا کے اہل کاروں نے ایک چلتی گاڑی پر فائرنگ کردی ، جس سے گاڑی میں سوار تین شہری موقع پر شہید ہوئے، اس کے بعد ان کی کار اور نقدی چھین کر اپنے ساتھ لے گئے۔

3 جولائی کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع سید آباد کے گاؤں سلطان خیل میں افغان فورسز کی گولہ باری سے کھیتوں میں کام کرنے والے 6 کسان زخمی ہوگئے۔

4 جولائی کو افغان فورسز نے صوبہ بلخ کے ضلع چہاربولک کے علاقے گورتیپہ میں عام شہریوں کے گھروں پر چھاپہ مارا ، جس کے نتیجے میں پانچ خواتین زخمی ہوگئیں اور لوگوں کو مالی نقصان پہنچا۔

4 جولائی کو افغان فورسز نے صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے قریب آخوند خیل گاؤں میں عام شہریوں کے گھروں پر چھاپے کے دوران ایک شہری کو شہید کر دیا۔

5 جولائی کو صوبہ لوگر کے ضلع برکی برک کے گاؤں سجاوند میں ایک چھاپے کے دوران افغان فوجیوں نے گھروں کے دروازوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا اور چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں سے نقد رقم اور قیمتی سامان ضبط کیا۔

7 جولائی کو صوبہ ہلمند کے ضلع گرشک کے مہاجر بازار کے علاقے میں افغان فورسز کے فوجی اڈے سے فائر کیے گئے مارٹر گولے ایک مسجد پر گرنے سے پانچ نمازی شہید اور سات دیگر زخمی ہوگئے۔

9 جولائی کو صوبہ غزنی کے ضلع خوگیانی کے شیخ آغا گاؤں میں افغان اہل کاروں کی فائرنگ سے ایک بچہ شہید اور دو زخمی ہوگئے۔

10 جولائی کو صوبہ پکتیا کے ضلع زازی اریوب کے گاؤں شاہ محمد میں افغان فورسز کے چھاپے کے دوران ایک خاتون شہید اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔

11 جولائی کو صوبہ جوزجان کے ضلع اقچی میں افغان فوج نے ایک نوجوان (عبدالرحیم ولد عبدالرشید) کو شہید کردیا۔

11 جولائی کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع سید آباد کے سلطان خیل گاؤں میں افغان فورسز کی فائرنگ سے ایک بچہ سمیت دو افراد شہید ہوگئے۔

14 جولائی کو صوبہ غور کے ضلع دولینہ کے علاقے زیر تنگی میں افغان فوج کی بمباری میں ایک شہری شہید اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔

14 جولائی کو صوبہ بغلان کے ضلع پل خمری کے علاقے خواجہ الوان کے گاؤں میں ایک چھاپے کے دوران افغان فوج نے لوگوں کے گھروں کی تلاشی لی، کچھ قیمتی سامان ضبط کیا اور 45 شہریوں کو گرفتار کرلیا۔

15 جولائی کو صوبہ غزنی کے صدر مقام میں افغان فورسز نے چلتی بس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک مسافر شہید اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔

17 جولائی کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع جغتو کے گاؤں قلعہ ندی میں سرکاری فوج کی بمباری میں ایک مکان اور ایک دینی مدرسہ کو نقصان پہنچا اور چار طالب علم زخمی ہوگئے۔

18 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے علاقے انار جوی میں افغان فورسز کے مارٹر حملے میں ایک خاندان کی ایک خاتون شہید ہوگئی اور اس خاندان کے 7 افراد زخمی ہوگئے ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

18 جولائی کو صوبہ بلخ کے ضلع خاص بلخ کے نواب آباد ہزارہ کے علاقے میں سرکاری فوج کے فضائی حملے میں ایک خاندان کے 5 افراد شہید ہوگئے۔

18 جولائی کو صوبہ غزنی کے ضلع خوگیانی کے علاقے خاشا گاؤں میں رہائشی علاقے پر سرکاری فوج کے فضائی حملے میں ایک خاتون شہید ہو گئی۔

18 جولائی کو صوبہ بلخ کے ضلع خاص بلخ کے گاؤں عمرخیل میں افغان فوج نے ایک مکان پر بمباری کی ، جس کے نتیجے میں پانچ خواتین اور بچے شہید ہوگئے اور مکان تباہ ہوگیا۔

18 جولائی کو صوبہ بلخ کے ضلع دولت آباد کے علاقے بیدو میں افغان فوج نے ایک مکان کو نشانہ بنایا جس میں تین خواتین شہید اور زخمی ہوگئیں۔

18 جولائی کو صوبہ ہلمند کے ضلع مارجہ کے کیمپ کے علاقے میں افغان فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں ایک خاندان کے چھ شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔

19 جولائی کو صوبہ بغلان کے ضلع پل خمری کے علاقے لرخابیان کے گاؤں مدرسہ میں افغان فورسز کی بمباری میں دو گھروں کو نشانہ بنایا گیا ، چار خواتین اور ایک بچہ شہید اور تین خواتین زخمی ہوگئیں۔

20 جولائی کو صوبہ غزنی کے دارالحکومت کے قریب افغان فورسز کی فائرنگ سے دو عام شہری شہید ہوگئے۔

20 جولائی کو صوبہ پکتیا کے ضلع گردی چیڑی میں افغان اہل کاروں نے مفتی ذکیم گل نامی ایک عالم دین کو مدرسے سے اٹھایا اور بعد میں اسے شہید کردیا گیا۔

21 جولائی کو صوبہ بلخ کے ضلع شولگر کے چرخاب کے علاقے میں افغان فوج نے ایک مکان پر بمباری کی جس سے دو بچے شہید اور دو خواتین زخمی ہوگئیں۔

22 جولائی کو صوبہ سر پل کے ضلع سنگچارک کے علاقے توپخانہ میں افغان فوج کے مارٹر حملے میں ایک شہری شہید اور 6 دیگر زخمی ہوگئے۔

22 جولائی کو صوبہ ہرات کے ضلع گزری کے علاقے خم زیارت میں افغان فورسز کے فضائی حملوں میں 20 عام شہری شہید ، درجنوں زخمی ہوئے اور مقامی لوگوں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچا۔ مقامی لوگوں کے مطابق پہلا حملہ خالد نامی ایک قیدی کے گھر پر ہوا ، جو حال ہی میں بگرام جیل سے رہا ہوا تھا، لوگ ان کی مبارکباد کے لئے گئے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا تو مقامی لوگ لاشوں کو ملبے سے نکالنے کے لئے مصروف عمل تھے ان پر دوسرا حملہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں مزید کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے، کابل انتظامیہ نے اس حملے کے نتیجے میں درجنوں طالبان کو مارنے کا دعویٰ کیا ، لیکن اس کے بعد پتہ چلا کہ دونوں حملوں میں عام شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

22 جولائی کو افغان فوج نے صوبہ بغلان کے ضلع پلِ خمری کے علاقے ڈنڈ غوری کے گاؤں علاؤالدین خیل میں ایک مکان پر بمباری کی ، جس میں سات بچے اور خواتین شہید اور زخمی ہوگئیں، انہوں نے گاؤں کے اسپتال پر بھی فائرنگ کی۔ اسپتال کا ایک ملازم زخمی ہوگیا۔

23 جولائی کو افغان فورسز نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع سید آباد کے علاقے خارکلی میں ایک دکان پر بمباری کی جس میں تین بچوں سمیت چار افراد شہید ہوئے۔

24 جولائی کو صوبہ قندوز کے ضلع امام صاحب کے علاقے کنجک میں افغان فوج کی بمباری سے لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا اور چار شہری زخمی ہوگئے۔

24 جولائی کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کے علاقے دورانی میں افغان فورسز کی فائرنگ سے 18 سالہ نوجوان شہید ہوا۔

26 جولائی کو قابض افواج نے صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغا کے علاقے دھنو لشکری خیل میں ایک مسجد پر ڈرون حملہ کیا ، جس سے مسجد منہدم اور اس میں ایک شخص شہید ہوا۔

27 جولائی کو صوبہ بلخ کے ضلع خاص بلخ کے کلفت بندر کے علاقے میں افغان فورسز کی فائرنگ سے ایک عورت اور تین افراد شہید ہوگئے۔

ذرائع: [بی بی سی ریڈیو ، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک اور پژواک نیوز ایجنسی ، افغان ویب سائٹ، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیاء اور بینوا ویب سائٹس]

Related posts