ستمبر 19, 2020

تازه ترین

حملے اور دعوت،آفسرسمیت 9 ہلاک، 2گرفتار، 7 سرنڈر

حملے اور دعوت،آفسرسمیت 9 ہلاک، 2گرفتار، 7 سرنڈر

کٹھ پتلی فوجوں کو امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے نیمروز، فراہ، زابل، قندہار اور ہلمند صوبوں میں نشانہ بنایا، جب کہ کمیشن برائے دعوت و ارشاد کے کارکنوں کی جدوجہد کے سلسلے میں بادغیس، روزگان اور فاریاب صوبوں میں کمانڈر سمیت 7 اہلکاروں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز سہ پہر کے وقت صوبہ نیمروز ضلع دلارام کے مربوطہ علاقے میں مجاہدین نے دو فوجیوں جہان گل ولد باچاگل باشندہ صوبہ لغمان ضلع علیشنگ اور عبدالصبور ولد عین الدین صوبہ قندوز کے رہائشی کو اسلحہ اور اسناد سمیت گرفتار کرلیےاور ان کے مقدمہ کو شرعی عدالت کے حوالے کردیا۔

دوسری جانب جمعرات کےروز صوبہ فراہ کے صدر مقام فراہ شہر کے برنگتوت، شورآباد اور گنھکان کے علاقوں میں کاروائی کرنے والے اہلکاروں پر مجاہدین نے حملہ کیا،جو دن بھر جاری رہا، جس کے نتیجے میں 7 اہلکاروں کو ہلاکتوں کا سامنا اور دیگر فرار ہوئے۔

واضح رہےکہ لڑائی کے دوران 2 مجاہدین بھی شہادت کے اعلی مقام پر فائز ہوئے۔ تقبلہمااللہ تعالی

اسی طرح بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب  صوبہ زابل ضلع شہرصفا کے سیدان گاؤں نامی چوکی پر مجاہدین نے حملہ کیا اور کچھ دیر کے بعد دشمن نے چوکی کو چھوڑ کر فرار کی راہ اپنالی، جب کہ صوبہ ہلمند ضلع سنگین کے تورمہ ماندہ کےعلاقے میں مجاہدین کے لیزرگن حملے میں ایک فوجی ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔

نیز عشاء کے وقت صوبہ قندہار کے صدر مقام قندہار شہر کے نازک کوٹی کے علاقے میں مجاہدین نے فوجی آفسر زلمے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ بادغیس ضلع قادس کے رہائشی  فوجی کمانڈر نے محافظ کے ہمراہ مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جنہوں نے ایک موٹرسائیکل، ایک ہیوی مشین گن، دو کلاشنکوفیں بھی مجاہدین کے حوالے کردیا، جب کہ صوبہ روزگان ضلع دہراود کے رہائشی 3 پولیس اہلکاروں شاہ ولی ولد بازمحمد، مرزا ولی ولد سیدعلی اور احسان اللہ ولد محمدحسن، اسی طرح  صوبہ فاریاب ضلع قیصار کے باشندوں دو مقامی جنگجوؤں محمدرفیق ولد عبدالسلام اور شراف الدین ولد حضرت گل نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کیا اور ایک کلاشنکوف بھی مجاہدین کے حوالے کردیا۔

Related posts