ستمبر 19, 2020

تازه ترین

امارت اسلامیہ کا پرامن موقف

امارت اسلامیہ کا پرامن موقف

آج کی بات

امارت اسلامیہ نے عیدالاضحی کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کیا اور مجاہدین کو عید الاضحی کے تین دن کے دوران دشمن کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ نیز امارت اسلامیہ نے یہ بھی کہا تھا کہ امیر المومنین حفظہ اللہ کی شفقت اور نیک نیتی کے تحت عید کے دن تک کابل حکومت کے ایک ہزار قیدیوں میں سے اب تک زیرحراست اہل کاروں کو بھی رہا کیا جائے گا اور فریق مخالف سے بھی توقع ہے کہ امارت اسلامیہ کے پانچ ہزار قیدیوں کو دوحہ معاہدے کے تحت فہرست کے مطابق رہا کرنا چاہئے تاکہ بین الافغان مذاکرات کے لئے راہ ہموار ہوسکے۔

اگرچہ امارت اسلامیہ کا امن پسندانہ مؤقف سورج کی طرح عیاں اور واضح ہے ، لیکن دشمن وقتا فوقتا یہ کہتا ہے کہ امارت اسلامیہ جنگ پر اصرار کرتی ہے۔ امارت اسلامیہ اور امریکہ کے مابین مذاکرات اور معاہدے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کون سا فریق جنگ پر زور دے رہا ہے اور کون سا فریق امن کے خواہاں ہے۔

امارت اسلامیہ اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے آغاز اور معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد کابل حکومت نے اپنا جنگ پسندانہ موقف دنیا پر واضح کر دیا. اس نے متعدد مساجد ، اسکولوں ، اسپتالوں پبلک مقامات اور عوامی اجتماعات کو نشانہ بنایا۔ بازاروں ، مارکیٹوں ، جنازوں اور شادیوں کی تقاریب پر بمباری کی گئی اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا ،جس کے نتیجے میں ایک ایک حملے میں درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ سنگین اور ہرات میں حالیہ سانحات مظلوم عوام کے خلاف حکومت کی نفرت ، بربریت اور جنگجوانہ موقف کی تازہ مثال ہیں۔

لوگوں کے خلاف کھلی کارروائیوں ، چھاپوں اور بم دھماکوں کے علاوہ کابل انتظامیہ نے مساجد اور بازاروں میں پراسرار دھماکے بھی کیے ہیں اور علما اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کا نیا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے، جن میں سے کچھ مجرمین نے ان واقعات کا اعتراف بھی کیا ہے اور کابل حکومت کے اندر ان سرغنہ افراد کی نشاندہی بھی کی ہے جنہوں نے انہیں ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔

اب جب کہ 5000 + 1000 قیدیوں کا تبادلہ مکمل ہونے کے قریب ہے اور اس معاہدے میں اس امر لر اتفاق کیا گیا ہے کہ تبادلے کے بعد بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوجائے گا ، امارت اسلامیہ قیدیوں کی ایک مخصوص تعداد کی رہائی کے بعد فوری طور پر بین الافغان مذاکرات کے لئے تیار ہے۔ لہذا فریق مخالف کو بین الافغان مذاکرات کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرنی چاہئے اور امن کا موقع ہوس اقتدار کے لئے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

حقیقت یہ ہے کہ امارت اسلامیہ نے کابل حکومت کے جنگی اعلانات اور سازشوں کے باوجود تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا اور پھر کابل انتظامیہ کے ایک ہزار فوجیوں کے باقی قیدیوں کو بھی نیک نیتی کے ساتھ رہا کیا ، یہ امارت اسلامیہ کے پرامن موقف کی ایک مثال ہے۔ کابل انتظامیہ کو بھی جنگ سے باز رہنا چاہئے اور خلوص کے ساتھ امن مذاکرات کی طرف آنا چاہئے۔

Related posts