ستمبر 19, 2020

تازه ترین

باتیں ایسی کہ عقل بھی ماتم کرنے لگے

باتیں ایسی کہ عقل بھی ماتم کرنے لگے

تحریر: سیدعبدالرزاق
۳۰ جولائی کو کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کے معاونِ دوم نے امارتِ اسلامیہ کو ایک دفعہ پھر موردِ الزام ٹھہرایا کہ وہ امن کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے-اپنی اس بات پر دلیل یہ دی کہ قطر معاہدہ میں کابل انتظامیہ کاکوئی رول نہیں تھا مگر پھر بھی خیرسگالی کے لیے طالبان کے چھیالیس سو قیدی رہاکیے ہیں-اس کے باوجود طالبان مذاکرات کی میز سے آنکھیں بچائے نظر آتے ہیں اور جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہیں-
موصوف نے امیرالمؤمنین کے پیغام پر بھی کئی اعتراضات کیے کہ طالبان خود کو فاتحین قراردے رہے ہیں جو کسی طرح بھی قابلِ برداشت نہیں ہے-طالبان کے سربراہ نے اپنے پیغام میں اسلامی نظام اور اپنی حاکمیت کاعندیہ دے دیاہے- انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم جمہوریت اور دستوری آئین سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے- مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کابل میں یکجہتی اور سیاسی جماعتوں کی بھر پور وحدت موجود ہے اس لیے کسی غلط فہمی کاشکار نہیں رہناچاہیے-
موصوف کی باتوں کو سن کر مجھے تو تعجب کے ساتھ ان کی عقل پہ بھی شک سا ہونے لگتاہے-یہ کیا بے تکی ہے کہ ہم امن بھی چاہتے ہیں اور اپنے کو اس امن عمل میں شریک بھی نہیں سمجھتے- اور شریکِ عمل نہ ہوکر بھی اقدام کرتے ہیں اور پھر اپنے ہی اقدام کو ادھورا چھوڑ کر الزام کسی اور پہ دھرتے ہیں-
اگر واقعی آپ امن عمل میں شریک نہیں ہیں تو آپ دونوں فریقین کو چھوڑیے کہ وہ اپنے معاملات خود ہی نمٹائیں اور آگے بڑھیں۔ آپ بیچ میں کیوں آتے ہیں اور حل شدہ باتوں کو گھمبیر بناکر مزید تناؤ پیدا کرتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ ہم امن چاہتے ہیں -امن لانے کاطریقہ طے ہوچکاہے -آپ اس میں رکاوٹ کیوں ڈال رہے ہیں؟
ایک مختصر سے موازنہ کی زحمت اٹھائیں تو حقیقت سامنے آجائے گی-طالبان نے وعدہ کیاتھا کہ ہم اپنے حملوں میں کمی لائیں گے چنانچہ ایساہی کیاہے۔ اپنے کیے گئے وعدے سے ایک انچ بھی تجاوز نہیں کیاہے- جبکہ اس کے برعکس کابل انتظامیہ نے بارہا جارحانہ رویہ اپنانے کے ساتھ برملا طبل جنگ بجایا ہے-طالبان نے وعدہ کیاتھا کہ ایک ہزار قیدی رہاکریں گے چنانچہ بغیر کسی شرط کے تمام مطلوبہ تعداد پوری ہوچکی ہے جبکہ جانبِ مقابل نے امن چاہنے کے دعووں کے برخلاف بلاوجہ قیدیوں کی رہائی روک رکھی ہے- طالبان نے وعدہ کیاتھا کہ ہم اپنی ملت کے خون سے ہاتھ رنگنا نہیں چاہتے بلکہ اسے تحفظ دیتے ہیں اور اسی کے لیے ہرممکنہ کوشش کریں گے۔ عملا دیکھیے تو اپنے وعدے سے سرمو انحراف نہیں کیاہے-جبکہ نام نہاد نمائندہ ہونے کے دعویدار کئی دفعہ اپنے عوام کے خون سے ہولی کھیل چکے ہیں-
ایک اور بات، معاون دوم سرور دانش کہتاہے کہ ہمیں امن عزیز ہے اور اسی کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں جبکہ پھر یہ کہتاہے کہ جمہوری نظام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے-جنابِ والا کو کوئی بتایے کہ یہ مذاکرات اور امن کوشش نہیں -یہ زور زبردستی اور دھونس دھمکی کے تحت دباؤ ڈالناہے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دباؤ تمھارے آقاووں کا نہیں چل سکا تمھیں کیسے یہ گر آزمانے کاخیال آیا؟
موصوف کہتاہے کہ طالبان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس وقت ایک مضبوط اتحاد قائم ہے-یہ ایسی بات ہے کہ سننے والے کاسر شرم سے جھک جاتاہے-کیاوہی اتحاد ہے جس میں سودا بازی کے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں؟ کیا وہی اتفاق جس میں ملت کے قاتل کو مارشل کاعہدہ دیاگیا؟ کیا اس کو آپ مضبوط اتحاد کہیں گے جس میں بلا کسی قانونی نکتہ کے ایک غیر آدمی کو محض اقتدار بچانے کی خاطر پچاس فیصدی حصہ دیاگیا؟
کیا مضبوطی کا مطلب یہ ہے کہ قوم وملت کا ظلم وجبر سے جینا حرام کیاجائے؟
کیا مضبوط اتحاد کامعنی یہی ہے کہ کرپشن اور فسادات میں عالمی سطح ہر نام پہلی نمبر پر آئے؟
باتیں ایسی ہیں کہ کوئی ادنی فہم ودانش کا انسان بھی انہیں کہنے والے کی عقل کی کمزوری پر محمول کرتاہے-سوچنے لگے تو عقل ان پہ ماتم کرنے لگتی ہے- کابل انتظامیہ اور اس کے افراد کو عقل سے ماورا ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہیے ورنہ ذلت در ذلت کے ساتھ ان کے فہم ودانش پر بھی سوالات اٹھیں گے۔

Related posts