اگست 07, 2020

اسلامی نظام کے لیے حالات سازگار کیوں نہیں؟

اسلامی نظام کے لیے حالات سازگار کیوں نہیں؟

تحریر: ابومحمدالفاتح

 

اٹھائیس جولائی کو امیرالمؤمنین شیخ الحدیث ہبة اللہ اخند زادہ صاحب کاعید کی مناسبت سے پیغام نشر ہوا -بنیادی طور پر اس میں ایک نقطہ یہ بھی تھا کہ ہمارا جہاد استعمار کے خاتمہ اور صحیح معنوں میں ایک اسلامی نظام کے قیام کے لیے تھااور ہے-استعماری قبضے کے خاتمے اگر چہ کچھ کچھ اثارنمودار ہورہے ہین لیکن یہ جد وجہد اسلامی نظام کے قیام تک جاری رہے گی-

اس پر کابل انتظامیہ کے رئیس اشرف غنی کے معاون براے اطلاعات سالم حسنی نے ردعمل دیتے ہوے ایرانی خبررساں ایجنسی کو کہا کہ اس وقت ملک میں جمہوری نظام قائم ہے اور خالص اسلامی نظام کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں-اسلامی نظام کاقائم ہونا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا ؛کیونکہ  یہاں اس وقت جو ماحول ہے وہ کسی طرح بھی اسلامی نظام سے ہم آہنگ نہیں ہے-

موصوف کی یہ بات درحقیقت ایک بہت ہی بنیادی اعتراض کاجواب اور بذات خود ایک تلخ حقیقت کااعتراف ہے- جب امارتِ اسلامیہ کی جانب سے اسلامی نظام کی بات کی جاتی ہے اور جہاد کی وجہ بتائی جاتی ہے تو آگے سے اعتراض ہوتا ہے کہ جی موجودہ نظام مکمل اسلامی ہے پھر اسلامی نظام کا کیامعنی؟ آج موصوف نے ردعمل میں جو کچھ کہا وہ در حقیقت اس دھوکے سے پردہ اٹھانا تھا-اور اس بات کا کھلے بندوں اظہار تھا کہ موجودہ نظام ہرگز اسلامی نہیں بلکہ اغیار کا مسلط کردہ ہے-جس کالازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو بندے اس نظام کے رکھوالے ہیں وہ افغانی روایات کے امین ہیں اور نہ ہی افغانی اور اسلامی ثقافت سے کوئی سروکار رکھتے ہیں-

موصوف کی بات کا غور سے جائزہ لیاجائے تو یہ سوال پیداہوتاہے کہ آخر اسلامی نظام کے قیام سے کیاچیز مانع ہے اور کیونکر نہیں آسکتا؟

آخر وہ کونسے حالات ہیں جن کی وجہ سے اسلامی نظام معلق رہے گا؟

آخر اسلامی نظام کے تقاضے کیاہیں کہ جس کے لیے باقاعدہ فضاء کی ہمواری لازمی ہے؟

ظاہر ہے موصوف ان سوالوں کو جواب دینے کی بہ جائے دباتا رہے گا لیکن حقیقت دبنے سے مزید ابھرتی ہے-اور نکھر کر سامنے آتی ہے-اس وقت کابل انتظامیہ میں شامل تمام ارکان وہ ہیں جن کا ماضی شدید داغدار ہے۔تو اسلامی نظام کے قیام میں انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر اتا ہے۔ -اسلام، اسلامی احکام اور افغانی بود وباش سے انہیں دور کابھی واسطہ نہیں-جتنا ان سے ممکن ہوسکاہے انہوں نے اسلام کو پیروں تکے روندنے کی کوشش کی ہے-ایسے میں اسلامی نظام کیسے انہیں قبول ہوگا؟

دوسری بات یہ ہے کہ کابل انتظامیہ نے گزشتہ اٹھارہ سالوں میں ریاستی سطح پر کرپشن کے ساتھ ساتھ عوامی املاک اور اموال پر بے تحاشا قبضے کررکھے ہیں -زمینوں،جائیدادوں اور دوکانوں سے لے کر چھوٹی چھوٹی ملکیتوں تک کو زبردستی ہتھیایاہے-اس راہ میں ظلم وستم سے بڑھ کر قتل اور کشت وخون سے بھی دریغ نہیں کیاہے-ساتھ میں ملک کے غریب ولاچار عوام کے نام پر حاصل کیاجانے والاامداد پورا کاپورا ان کی جیبوں کی نذر ہوچکاہے-ایسے حالات میں اگر اسلامی نظام آئےگا تو ان سب کامحاسبہ ہوگا اور ان سب چیزوں کاکڑااحتساب ہوگا جس کے لیے نہ یہ تیار ہیں اور نہ ہی تیار ہونا ان کی بس کی بات ہے؛ اس لیے یہ تو کہیں گے کہ اسلامی نظام بظاہر ناممکن ہے-

تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ یہ ناجائز اقتدار اور عہدوں ومناصب کی یہ بھرمار اور طومار اسی نام نہاد جمہوریت اور ڈیمکریسی کے کرشمے ہیں-ان کی یہ جاہ وعزت اور لوٹ مار اسی غیر کے نظام کی برکت سے قائم ہیں-اتنے بڑے القابات اور بڑے بڑے اور لاحقے جو ان کے ناموں سے وابستہ ہیں یہ اسی غلامی کے بل بوتے انہیں حاصل ہیں-اور ظاہر ہے انہیں تو بس اقتدار کی ہوس چڑھی ہیں اس کے علاوہ تو انہیں کسی چیز کی فکر نہیں پھر وہ اسلامی نظام کو جو کہ ان کی تمام محنتوں اور سرمایہ حیات کو بہالے جاتاہے کیوں گلے لگائیں گے؟

یہ وہ اہم باتیں ہیں جن کو وہ اسلامی نظام کے لیے رکاوٹ سمجھتے ہیں ورنہ یوں دیکھاجائے تو پوری ملت اسی کے لیے منتظر اور اسی کے لیے چشم براہ ہیں -قول سے بڑھ کر عمل سے بھی لمحہ بہ لمحہ اور قدم بہ قدم اپنے اس انتظار کاثبوت بھی دیاہے-اور ان شاءاللہ ان کی تمنائیں دشمنوں کی ذلت کے ساتھ برآئیں گی-

Related posts