نومبر 23, 2020

امن کی راہ میں کون رکاوٹ ہے

امن کی راہ میں کون رکاوٹ ہے

آج کی بات

امارت اسلامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ہم کابل حکومت کے تمام قیدیوں کو اس شرط پر رہا کریں گے کہ فریق مخالف بھی دی گئی فہرست کے مطابق ہمارے قیدیوں کی ایک خاص تعداد کو رہا کرے اور ہم قیدیوں کی رہائی کے بعد غیر مشروط بین الافغان مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ کابل انتظامیہ نے فوری طور پر امارت اسلامیہ کے اصولی اور پرامن موقف کو مسترد کرتے ہوئے قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا۔

کابل انتظامیہ قیدوں کی رہائی میں رکاوٹ ڈال کر بین الافغان مذاکرات کو معطل کررہی ہے اور اس طرح اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے۔ کابل انتظامیہ کے حکام امارت اسلامیہ کے پانچ ہزار قیدیوں میں سے چھ سو کے بارے میں متضاد موقف رکھتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ان میں پاکستانی قیدی شامل ہیں اس لئے انہیں رہا نہیں کیا جائے گا۔ پھر کہتے ہیں کہ یہ قیدی جرائم میں ملوث ہیں اور ان کی عدم رہائی کی وجہ بھی یہی ہے۔ جب کہ وزیر خارجہ  حنیف اتمر نے ان قیدیوں کے بارے میں کہا کہ ان قیدیوں نے غیر ملکیوں کو ہلاک کیا ہے اور ان غیر ملکیوں نے ہمیں بتایا ہے کہ ان قیدیوں کو رہا نہ کریں۔

امارت اسلامیہ نے امریکہ کو جو فہرست فراہم کی ہے ا میں کوئی ابہام نہیں ہے، جس میں ہر قیدی کا نام ، والد کا نام ، صوبہ ، ضلع ، گاؤں، شناختی کارڈ نمبر اور گرفتاری کی تاریخ درج ہے۔ دشمن ان قیدیوں کے بارے میں جو پروپیگنڈہ کررہا ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے، تمام قیدی افغان ہیں اور ان میں کوئی بھی مجرم شامل نہیں ہے۔ ان قیدیوں کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے امریکی جارحیت کے خلاف جہاد کیا ہے یا انہیں مجاہدین سے ہمدردی کے جرم کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اور بین الاقوامی انسانی کنونشنوں کے قوانین کے تحت انہیں سیاسی اور جنگی قیدی سمجھے جاتے ہیں۔

ایوان صدر جو کابل انتظامیہ کا نصف حصہ ہے، قیدیوں کے ایک چھوٹے مسئلے پر اصولی موقف اختیار نہیں کر سکتا ہے، صبح کچھ کہتا ہے اور شام کو کچھ اور کہتا ہے، اشرف غنی ایک فیصلہ کرتا ہے اور وزیر خارجہ اس کے برخلاف موقف اختیار کرتا ہے۔ اس صورتحال میں کابل انتظامیہ کے حکمران افغانستان کے مستقبل کے لئے کیا وژن رکھتے ہیں؟ بات بالکل واضح ہے، انہیں افغانستان اور افغان عوام کے مستقبل کے بارے میں کوئی خیال نہیں ہے ، ان کی ساری توجہ حملہ آوروں کے اہداف اور اپنے ذاتی مفادات پر مرکوز ہے۔

اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ کون اور کون سا فریق امن کی مخالفت کرتا ہے اور وہ جنگ کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔ کابل حکومت کے حکام کے تازہ ترین متضاد موقف امن کے خلاف ہیں اور وہ امن عمل کی روک تھام کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ امارت اسلامیہ وطن عزیز کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے پرعزم ہے اور افغان عوام کے بلند و بالا اہداف کے حصول کے لئے ہر جائز طریقے سے جدوجہد کرتی ہے۔

ان شاء اللہ

Related posts