اگست 08, 2020

مجاہدین اور پولیس کے حملے،آفسر سمیت 8 ہلاک10سرنڈر

مجاہدین اور پولیس کے حملے،آفسر سمیت 8 ہلاک10سرنڈر

پولیس اہلکاراور امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے روزگان اور قندہار صوبوں میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، جب کہ روزگان، پکتیکا اور فراہ صوبوں میں 10 سیکورٹی اہلکار مجاہدین سے آملے۔

آمدہ اطلاعات کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب صوبہ روزگان کے صدر مقام ترینکوٹ شہر کے کوٹ وال کے علاقے چنارک کے مقام پر قائم چوکی میں تعینات پولیس اہلکاروں کی باہمی لڑائی سے 5اہلکار ہلاک اور ایک اہلکار  5عدد کلاشنکوفوں، ایک راکٹ، اور دیگر فوجی سازوسامان کے ہمراہ مجاہدین تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

دوسری جانب چورہ اور خاص روزگان کے رہائشی 3 اہلکاروں صدیق اللہ ولد عجب خان، عصمت اللہ ولد عبدالحکیم اور خیراللہ ولد اخترمحمد نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، خیراللہ نےایک کلاشنکوف وغیرہ بھی مجاہدین کے حوالے کردیا۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ قندہار ضلع ارغستان کے مغلگیان کے علاقے میں سنیچر کےروز شام کے وقت ڈسٹرکٹ سیکورٹی آ‌فسر عبدالناصر کی گاڑی دھماکہ سے تباہ اور اس میں سوار آفسر سمیت 3 اہلکار لقمہ اجل بن گئے۔

گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران صوبہ پکتیکا کے صدر مقام شرنہ شہر اور مٹھاخان و یوسف خیل اضلاع میں کمیشن برائے دعوت و ارشاد امارت اسلامیہ کے کارکنوں کی جدوجہد کے دوران کمانڈر سمیت  کابل انتظامیہ  کے 6 اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبردار ہوئے،جن میں کمانڈر گل محمد عرف شین، احمدخان ولد صمدخان، جنت گل ولد خلیل، احسان اللہ ولد نعمت اللہ، حمداللہ ولد فیروز اور سیدگل ولد محمدعظیم شامل ہیں۔ جب کہ صوبہ فراہ ضلع پشت رود کے برنگکی کے باشدے پولیس اہلکار عبدالجبار ولد عبدالغنی مجاہدین سے آملے۔

Related posts