نومبر 23, 2020

دشمن بھی کیا عقل سے عاری ملاہے؟

دشمن بھی کیا عقل سے عاری ملاہے؟

تحریر:سید افغان
کہتے ہیں کہ سلطان عالمگیر اورنگزیب رحمہ اللہ کا ایک ہندو مہاراجہ سے جنگ ہوئی- دونوں آمنے سامنے آئے-دونوں کی فوجیں صف بستہ ہوگئیں- دونوں جانب سے خیمے لگالیے گئے- جنگ شروع ہوئی-کئی دن تسلسل کے بعد ہندو مہاراجہ کو اپنی کشتی ڈاں واڈول نظر آئی اور شکست کو اپنے گھر میں داخل ہوتے دیکھ لیا-تو اپنی ماں سے صورتحال بیان کرکے مشورہ طلب کیا-ماں نے عالمگیر اورنگزیب سے مشورہ کرنے کاکہا- بیٹا بڑا متعجب ہوا کہ اپنےدشمن سے بھی بھلا کوئی خیر کی توقع کی جاسکتی ہے؟
والدہ نے کہا: تمھارا دشمن جس مسلک کا پیروکار ہے اس کی تعلیم یہی ہے کہ کوئی مشورہ کرنے آئے چاہے دشمن ہی کیوں نہ ہو اسے بھلائی کا مشورہ دینا چاہیے -دوسری بات یہ ہے کہ تمھارا دشمن انتہا درجہ کاعقلمند ہے اور عقل کسی کی برائی نہیں چاہتا-بیٹے نے ماں کی گفتگو سن کر سلطان کی راہ لی اور شب دیجور میں سیدھے ان کے ہاں پہنچا -سلطان نے انہیں دیکھ اس کاارادہ معلوم کرلیا- مہاراجہ نے پوری سرگزشت سناڈالی تو سلطان نے مشورہ دیا کہ تم مجھ سے صلح کرلو نو ماہ کے لیے-اس دوران آپ تیاری بھی مکمل کرلیں گے۔ سنجیدگی سے جنگ کے انجام پر غور کاموقع بھی ملےگا اور شکست کے نازیبا داغ سے بھی جان خلاصی ہوگی-
سلطان ہو یا ہندو دونوں نے جہاں انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کیا وہاں یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ خواہ مخواہ جنگ اور خون ریزی محض ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے بالکل مناسب نہیں ہے-اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوئی کہ دشمن کی طرف سے بھی صلح،امن اور آشتی کاپیغام آئے تو اسے حسن اسلوبی سے قبول کرناچاہیے اس سے کمزوری کااندازہ نہیں لگانا چاہیے-
خدا کی شان ہے امارتِ اسلامیہ کو دشمن بھی ملے ہیں تو انتہا درجہ کے کورے اور عقل سے فارغ-رواں جولائی کے مہینے میں قطر دفتر کے ترجمان جناب محمد سہیل شاہین نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کابل انتظامیہ کے بقیہ قیدیوں کو بھی رہاکرنے کو تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارے چھ سو قیدی بھی جلد سے جلد رہا ہوجائیں-اس کاایک فائدہ تو یہ ہوگاکہ نیک شگونی کی فضا بنے گی-دوسرا یہ کہ دونوں جانب کے قیدیوں کو سہولت ہوگی اور تیسرا یہ کہ جلد سے جلد انٹراافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔ امن کی فضا لانے میں دونوں جانب کاکردار ہوگا-
یہ ایک اچھا اور بہترین موقع تھا لیکن کابل انتظامیہ نے انتہائی غیر سنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہوئے محض اپنے ناجائز اقتدار کو بچانے کی خاطر اگلے روز بیان جاری کیا کہ ہم کسی صورت قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے- خواہ کچھ بھی ہوجاے-اس سے پتہ چلتاہے کہ دشمن کتنا کم ظرف اور عقل سے پیدل ہے-کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس طرز عمل سے وہ امارت اسلامیہ کو زک پہنچائےگا تو پھر انہیں یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ امارت اسلامیہ سے زیادہ تو وہ اپنے ان افراد کو دق کررہے ہیں جو طالبان کی قید میں ہیں۔
کیاان کے اس رویہ کا مقصد پھر یہ نہیں ہوگا کہ انہیں امن سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں تو بس اپنے مفادات سے لگاو ہے-اس بات کی ایک مضبوط دلیل یہ ہے کہ اس پیغام کے بعد وہ مسلسل بمباری اور عوام کا ناحق قتل عام میں کررہے ہیں-شاید وہ اس طرح دباو بڑھانا چاہتے ہیں لیکن کیاوہ یہ ادراک کرنا پسند کریں گے کہ اس دباو کو یہ ملت کب سے مسترد کرچکی ہے؟
دشمنی اور ناچاقی دنیا میں ہوتی رہتی ہے اور ہوتی رہی ہے لیکن یہاں تو سردست دشمنی ہی کے اصول کو پس پشت ڈال کے رکھا گیا۔ جو دشمن کی نااہلی، بے وقوفی اور ہٹ دھرمی کاپتہ دیتی ہے مگر یہ انداز کسی اور کو نہیں خود انہیں کے گلے پڑے گا ان شاءاللہ۔

Related posts