نومبر 23, 2020

دوحہ معاہدے کے متعلق امریکا اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں !

دوحہ معاہدے کے متعلق امریکا اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں !

شہامت کا اداریہ

بعد ازاں جب 4 جولائی 2020ء کو مملکت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی وزارت خارجہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اور امارت اسلامیہ کے سیاسی نائب اور قطر دفتر کے سربراہ جناب ملا عبدالغنی برادر کے درمیان ملاقات ہوئی۔

کابل انتظامیہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے میڈیا کو بتایا کہ اتوار کےروز مزید سینکڑوں قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔

ان کے بقول امریکا اور طالبان (امارت اسلامیہ) کے درمیان طے شدہ معاہدے کے بعد امن کے بارے میں براہ راست مذاکرات کا موقع فراہم کریں۔

یادرہے کہ اس سے قبل کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے بھی کہا تھا کہ آنے والے اتوار کو  رہائی پانے والے پانچ ہزار قیدیوں  کی باقی تعداد کو بھی پوری کیا جائے گا۔اب چونکہ اتوار کا دن بھی گزرگیا، لیکن قیدیوں کی رہائی کا کوئی پتہ نہیں۔ ایسامعلوم ہو رہا ہے کہ کابل انتظامیہ کے سربراہ  کے مانند اپنے وعدوں اور بیانات کو پابند ہے اور نہ ہی  اس کے متعلق کوئی اخلاقی  کا احساس کرتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق کابل انتظامیہ مختلف دھڑوں کا مجموعہ ہے۔ انتظامیہ کے حکام کے درمیان آپس میں اتحاد اور ہم آہنگی نہیں ہے۔ وہ مختلف امور اور مقدمات میں ایک دوسرے کیساتھ دست وگربیان ہیں۔

امراللہ صالح وغیرہ قیدیوں کی رہائی کی مخالفت کیساتھ ساتھ جنگ جاری رکھنے پر اصرار کررہا ہے، وہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کرنے کا موقع نہیں چاہتا ہے اور جان بوجھ کر کوشش کررہا ہے، تاکہ اس کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں،ان میں ایک قیدیوں کی رہائی کے عمل میں خلل  ڈالنے اور اسے مؤخر کرنا ہے۔

ظاہر بات ہے کہ دوحہ معاہدے میں امریکا اور امارت اسلامیہ کے درمیان سمجھوتہ طے پایا تھا کہ دستخط کے بعد دس دن کے اندر اندر فریقین چھ ہزار قیدیوں کو رہا کریں گے اور تاخیر کے بغیر بین الافغان مذاکرات شروع ہوجائیں گے،  مگر بدقسمتی سے امریکی فریق نے نہ صرف جس طرح وعدہ کیا تھا ،اس طرح اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری سرانجام نہ دی، بلکہ کابل انتظامیہ انتظامیہ کی جانب سے دوحہ معاہدہ پر عمل درآمد نہ کرنے کی جسارت پر بھی چشم پوشی کرلی۔ لیکن اس کے باوجود  امارت اسلامیہ  اپنی پوری قوت، تدبر اور بصیرت کیساتھ دوحہ معاہدہ پر قائم رہی  اور امریکا و کٹھ پتلی انتظامیہ کو اسے نقصان پہنچانے یا منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

خلاصہ کلام یہ کہ موجودہ تاخیر اور معطلی کا ذمہ دار امریکہ ہے. اور یہ سوال بہت سارے لوگوں کیساتھ ہے. کہ امریکہ نے ابھی تک 5ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کے اپنے وعدے کو کیوں پورا نہیں کیا

خلاصہ کلام یہ ہے کہ موجودہ تاخیر اور معطلی کی ذمہ دار امریکا ہے ۔ کافی لوگوں کے پاس یہ سوال ہے کہ امریکا نے اب تک پانچ قیدیوں کی رہائی کے وعدے کو کیوں پورا نہیں ہے؟ تو ضروری ہے کہ امارت اسلامیہ کی طرح امریکا بھی دوحہ معاہدے کا پابند رہے اور کسی کو اسے نقض کرنے کی اجازت نہ دیں۔ ہاں!  کابل انتظامیہ کے عنوان سے امن مخالف ان عوامل کو ختم کردے، جو فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا کو ختم کررہی ہے اور  قانونی و اخلاقی ذمہ داری کی رو سے امن مخالف عناصر کو متنبہ کرکے انہیں سزا دیں، تاکہ عمومی طور پر عالمی برادری اور افغان قوم سمجھ لے، کہ امریکا درحقیقت جارحیت کو ختم کرنے کیساتھ ساتھ افغانستان میں امن لانے میں دلچسپی رکھتی ہے

ترجمہ : حافظ عبدالہادی

Related posts