اگست 07, 2020

سانحہ ہرات کابل انتظامیہ کی درندگی کی ایک مثال ہے

سانحہ ہرات کابل انتظامیہ کی درندگی کی ایک مثال ہے

آج کی بات
گزشتہ روز صوبہ ہرات کے ضلع گزرہ کے علاقے خم زیارت میں کابل حکومت کے طیاروں نے بگرام جیل سے رہا ہونے والے ایک قیدی کے گھر پر بمباری کی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ حملے کے ایک گھنٹہ بعد جب محلے کے لوگ لاشوں اور زخمیوں کو ملبے سے نکال رہے تھے، اسی گھر پر دوبارہ بمباری کی گئی ، جس میں خواتین اور بچوں سمیت 20 افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔
دشمن نے شرمناک طریقے سے اس واقعے کی خبر شائع کی اور اس حملے میں درجنوں مجاہدین کو شہید کرنے کا دعوی کیا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کچھ ذرائع ابلاغ نے بھی دشمن کے اس دعوی کی بنیاد پر مجاہدین کی شہادت کی خبر شائع کی اور شہریوں کی کوئی فریاد نہیں سنی کہ اس واقعہ کے متاثرین عام شہری ہیں، خاص طور پر خواتین اور بچے۔
کابل انتظامیہ نے ایک بار پھر عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور ان کے گھروں کو تباہ کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ میں دشمن نے نہتے شہریوں کے درجنوں گھروں پر بمباری کی ہے جس سے شہریوں کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔ پچھلے ہفتے کے دوران دشمن کی جانب سے نہتے شہریوں کو ہونے والے جانی نقصان کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں۔
22 جولائی کو کابل حکومت نے صوبہ بغلان کے ضلع ڈنڈ غوری کے گاؤں علاؤالدین خیل میں ایک مکان پر بمباری کی ، جس میں 7 بچے اور خواتین شہید اور زخمی ہو گئیں۔ اسی طرح پولیس اہل کاروں نے گاؤں کے اسپتال پر بھی فائرنگ کی، جس سے اسپتال کا ایک ملازم زخمی ہوگیا۔
19 جولائی کو صوبہ بغلان کے ضلع پل خمری کے علاقے لرخابیان مدرسہ گاؤں میں دشمن نے 2 گھروں پر بمباری کی جس میں 4 خواتین اور 1 بچہ شہید اور 3 خواتین زخمی ہوگئیں۔
18 جولائی کو کابل انتظامیہ نے صوبہ بلخ کے ضلع خاص بلخ کے عمرخیل گاؤں میں ایک مکان پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 5 خواتین اور بچے شہید ہوگئے اور مکان تباہ ہوگیا۔
18 جولائی کو صوبہ بلخ کے ضلع دولت آباد کے علاقے بیدو میں کابل انتظامیہ نے ایک مکان پر بمباری کی جس میں دو خواتین شہید ہو گئیں۔
17 جولائی کو صوبہ ہلمند کے ضلع مارجہ کے کیمپ کے علاقے میں افغان فورسز کی گولہ باری سے دو گھروں میں سات شہری شہید اور زخمی ہوئے۔
17 جولائی کو سوبہ میدان وردگ کے ضلع جغتو کے گاؤں قلعہ ندی میں کابل حکومت کی بمباری سے ایک گھر اور ایک دینی مدرسہ کو نقصان پہنچا اور مدرسے کے 4 طلبا زخمی ہوگئے۔
سانحہ ہرات کابل انتظامیہ کے ظلم و بربریت کی ایک مثال ہے۔ جب سے امارت اسلامیہ اور امریکہ کے مابین جارحیت کے خاتمے کا معاہدہ ہوا ہے، تب سے کابل حکومت نے جنگی پالیسی اختیار کی ہے۔ خاص طور پر عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور گھروں کو تباہ کررہی ہے۔ چار مہینوں میں کابل حکومت کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں ظالمانہ کارروائیوں، فضائی حملوں چھاپوں میں سیکڑوں شہری شہید ہو گئے ہیں، ایک منصوبے کے مطابق مکانات ، اسپتالوں ، مدرسوں ، اسکولوں اور مارکیٹوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔
ابھی تک سانحہ سنگین کے زخموں کا مداوا نہیں ہوا تھا کہ سفاک دشمن کی جانب سے ہرات میں ایک او ردلخراش سانحہ رونما ہوا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، یوناما اور سماجی کارکنوں کو سانحہ ہرات کی تحقیقات کرنی چاہئیں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہئے اور انہیں قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔
امارت اسلامیہ نے ہمیشہ اپنے مظلوم عوام کا دفاع کیا ہے، ملک اور عوام دشمنوں کو سزا دی ہے اور اس واقعہ کے مجرمین بھی سزا سے بچ نہیں سکتے ہیں۔

Related posts