نومبر 23, 2020

طاقتور یاظالم؟

طاقتور یاظالم؟

تحریر: ابو محمد الفاتح
۲۲ جولائی کو اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم طالبان کے چھ سو قیدیوں کو اس وقت تک رہانہیں کریں گے جب تک طالبان راہ راست پر نہیں آئیں گے- طالبان اب بھی اپنے آپ کو بیس سال پہلے کی طرح دیکھتے ہیں – جب تک یہ جنگ بندی نہیں کریں گے – جمہوری اصولوں کی پاسداری نہیں کریں گے -اسلحہ کلچر سے دستبردار نہیں ہوں گے اس وقت تک ہم بھی ان سے نمٹتے رہیں گے اور ان کے قیدی، قیدی رہیں گے۔ انہیں کسی صورت رہائی نہیں ملے گی- یہ ہمارا اٹل فیصلہ ہے اور یہ ہماری سرخ لکیر ہے جس سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے-
مزید کہا کہ طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ انہیں اب کسی عام آدمی سے نہیں ایک مضبوط اور طاقتور حکومت سے پالا پڑاہے اب اس کامقابلہ ان کے گلے پڑجائےگا-اس لیے ہٹ دھرمی کی بہ جائے ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور حقائق کاادراک کرلیناچاہیے-
قطع نظر اس کے کہ موصوف یہ باتیں کن مایوسانہ جذبات سے کررہےہیں صرف ایک بات کاجائزہ لیجیے-موصوف کاکہناہے کہ اس کی انتظامیہ ایک مضبوط حکومت ہے- مضبوطی کایہ عالم ہے کہ امریکا کاایک معمولی اہلکار افغانستان وارد ہوتاہے تو ملاقات کے لیے ائیر پورٹ سے باہر آنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتا-معمولی سپاہی سے لے کر چیف ایگزیکٹیو اور اشرف غنی تک سب اس کے پاس گھٹنوں کے بل وہیں حاضری دیتے ہیں اور اس مضبوط حکومت کے مالک قدم بوسی کے لیے باری کاانتظار کررہے ہوتے ہیں-
طاقت کایہ عالم ہے کہ انتظامیہ کارئیس گلا پھاڑ کر چیختاہے کہ ہماری ساری کوششیں، قربانیاں اور محنتیں امریکااور واشنگٹن کی حفاظت کے لیے ہیں-ا پنے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ طاقتور حکمراں کہتاہے کہ تمھاری وجہ سے وہاں کے حالات پر امن ہیں-
مضبوطی کی انتہا دیکھیے کہ اشرف غنی انس حقانی کی رہائی کو زندگی کاسب سے بڑاچیلنج قرار دیتاہے اور کہتاہے کہ اس کاتصور تک ممکن نہیں- یہ اگر رہاہوا تو میری زندگی ہی بے کار ہے -لیکن پھر یہی طاقت کاسر چشمہ ایک معمولی امریکی سفارت کار کے محض ایک فون پر نہ صرف اسے رہاکرتاہے بلکہ باعزت طریقہ سے اسے مطلوبہ مقام پر پہنچاتا ہے-
مولاناابوالکلام آزاد نے سچ فرمایاتھا کہ غصہ اور قانون بھی عجیب ہیں، کمزور کو دبالیتے ہیں اور طاقتور کے سامنے خود دب جاتے ہیں-انتظامیہ کے رئیس طاقتور کے سامنے کہتاہے کہ تمھارے امداد کے بغیر ہم چھ مہینے بھی اپنانظام نہیں چلاسکتے لیکن کمزوروں کو طاقت سے روندتا چلاجارہاہے-
آج جس وقت صدیق صدیقی زبانی گولہ باری کررہاتھا اسی وقت اس کے درندہ صفت فوجی ہرات میں عوام کو بمباری کانشانہ بنارہے تھے- جس طاقت کی وہ بات کررہاتھا اسی کو اپنی نہتی قوم کے خلاف استعمال کررہاتھا- کتنی افسوس کی بات ہے کہ پہلے تو بے گناہوں کو نشانہ بنایا- جب ان نشانہ بننے والوں کو دیگر مسلمان اٹھانے آئے تو ایک دفعہ پھر ظلم کی انتہا کردی اور بے دریغ بم گرائے جس سے بیسیوں معصوم جانیں تلف ہوئیں-
عین اسی وقت صوبہ بلخ میں طاقت کاایک وار کیا -طاقت کے بہترین استعمال کے طور پر بچوں کو خون میں لت پت کرکے شہید کردیا-مضبوطی کی دلیل کے طور پر یہ باتوں کے ساتھ عمل سے بھی ثبوت دیا کہ ہم ظلم وستم میں فرعون وابوجہل کو شکست دے چکے ہیں –
یہ ظالم وجابر اپنے ان کرتوتوں کو بڑا کارنامہ اور طاقت سمجھتے ہیں- لیکن انہیں یاد رکھناچاہیے کہ ظلم وستم تم سے زیادہ تمھارے آقاؤں نے کیا -مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ وہی صفر نکلا اور ذلت ورسوائی کو بغل میں لیتے ہوئے سرخم تسلیم کیا- اس لیے تمھارا بھی انجام انہیں جیسا ہوگا.ان شاءاللہ

Related posts