نومبر 23, 2020

مایوسی کی انتہاء اور شرم کامقام

مایوسی کی انتہاء اور شرم کامقام

تحریر: سیدعبدالرزاق
ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا اور پڑھاتھا کہ محمد بن قاسم نے ایک خاتون کے ناموس کی خاطر پوری مملکت اور اپنی جوانی قربان کرنے کی ٹھان لی تھی اور اسی خاطر اپنے دیس سے ہزاروں کیلو میٹر دور کاسفر،مشقت اور تھکن برداشت کیاتھا-اسی مقصد کے لیے ہر آنے والی مشکل کا خندہ پیشانی سے استقبال کیاتھا-
ہم نے تاریخ کے دریچوں میں یہ بھی دیکھاہے کہ خلیفہ معتصم باللہ نے ایک خاتون کی عصمت دری پر پوری فوج کو تیاری کاحکم دے کر اس عورت کے انتقام لینے کے لیے اس ملک پر چڑھائی کی تھی اور صرف ایک ہی خاتون کی وجہ سے جان جوکھوں میں ڈالاتھا-
اسلام کی تاریخ میں بے شمار واقعات اس نوعیت کے پڑھے ہیں اور اسلام کے احکام میں جا بہ جا دیکھاہے کہ عورت ذات دشمن کی بھی ہو اس پر ہاتھ اٹھانا منع ہے اور صنف نازک خواہ کسی بھی فریق کی ہو محترم ہے-
خود ہماری پشتون اور افغانی روایات اس بات کی شاہد ہیں کہ ایک بندہ بحیثیت پشتون وافغان گولی برداشت کرسکتاہے مگر اس کی طرف منسوب کسی عورت ذات کو گالی برداشت نہیں-توہین کاسوچ بھی نہیں سکتا اس کی عزت وعصمت کی حفاظت کے لیے جان دینے کو تیار ہوتاہے اور اسی کے لیے ہرطرح کی دشمنی مول لیتاہے-
ان حقائق میں جھانکنے کامقصد اس تصویر کی حقیقت بتلانی ہے جسے چند دنوں سے کابل انتظامیہ بڑے فخر سے پیش کررہی ہے جس میں ایک خاتون مشین گن ہاتھ میں لیے نظر آتی ہے اور انتظامیہ بتارہی ہے کہ اس خاتون نے طالبان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ہے اور اسی خاتون نے شکست سے دوچار کیاہے-
اب قطع نظر صورتحال کے ویسے تاریخی پس منظر میں یہ کتنی عیب کی بات ہے؟ جس شخص اور ادارہ کو ملت کی نمائندگی کادعوی ہو-جو بات بات پہ ملت کی حفاظت کی دہائی دیتاہو جو اپنے قانون کو سو فیصد اسلامی باور کراتاہو کم از کم اس کی تو ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خواتین کو تحفظ دے لیکن طرفہ تماشہ دیکھیے کہ اسے خاتون سے ہی ڈھارس بندھی ہے کہ وہ میری محافظ ہے-
جس ادارہ کی پشت پر نیٹو، امریکااور دنیابھر کے ممالک کھڑے ہو اور جان ومال سے اس کی حفاظت کررہے ہو-ہر ممکن کوشش کی حد تک اسے بقا کی تمنا رکھتے ہو-عالمی سطح پر امداد دیتی ہو کتنی شرمناک بات ہے کہ اسے اب ایک خاتون کے سہارے کی امید ہے۔
اس واقعہ کی حقیقت یہ ہے کہ صوبہ غور میں ایک علاقہ کو مجاہدین قاتل ملیشیا سے صفایا کررہے تھے۔ اس جنگ میں بہت سے ہلاک اور بہت سے قید ہوئے۔ اس دوران ایک لڑکی جس کاوالد اسی قاتل ملیشیا میں قتل ہواتھا کی فائر سے دو مجاہدین زخمی ہوئے- اس جنگ میں فتح مجاہدین کو ملی اور علاقہ پر ان کاکنٹرول قائم رہا۔ مجاہدین کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا-
اب اس میں خوش ہونے والی بات اس کے سوا کیاہوسکتی ہے کہ دشمن بوکھلاہٹ اور مایوسی کی انتہا کو پر ہے- بے شرمی کی اعلی ترین مثال قائم کررہاہے- جو دنیا کے بلند وبالا وسائل کے باوجود شکست سے دوچار رہا اب وہ اس خاتون کے پلے اپنی زندگی کے شب وروز گزاررہاہے-
بے شرمی کے ساتھ بے غیرتی یہ ہے کہ خاتون کو چیک پوسٹ میں رکھنے کی کیاضرورت پیش آئی ہے؟کیا اس خاتون کی عزت وعصمت یہاں محفوظ رہ سکتی ہے؟ کیا اسلام کے احکام یہی ہیں؟کیاافغان ثقافت اور روایت ہمیں یہی سکھاتی ہے؟ کیاتاریخ سے ہم نے یہی سبق حاصل کیاہے؟ان حقائق پر سے تو نظریں ہٹائی جاتی ہیں اور شرم سے ڈوب مرنے کے بجاے بڑی ہٹ دھرمی سے دجل کو بروئے کار لارہے ہیں-اب یہ ذہن نشین کرلیناچاہیے کہ فتح خداوندی کی ایک عظیم نشانی یہی ہے کہ مادیات سے مالامال لوگ اب خود صنف نازک کا سہارا ڈھونڈ رہ ہے-

Related posts