اگست 08, 2020

کمیشن برائے دعوت وارشاد کی جستجو، 48 فوجی سرنڈر

کمیشن برائے دعوت وارشاد کی جستجو، 48 فوجی سرنڈر

کمیشن برائے دعوت و ارشاد امارت اسلامیہ کے کارکنوں کی جدوجہد کے نتیجے میں بلخ، بدخشان،غزنی، کنڑ، پروان،پکتیا اور پکتیکا  صوبوں میں کابل انتظامیہ کے 48 سیکورٹی اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کیا اور مجاہدین کے ان کے اس اقدام کو سراہا۔

تفصیل کے مطابق صوبہ بلخ کے شورتپہ،بلخ، دولت آباد، نہرشاہی، چاربولک اور کشندہ اضلاع کے مختلف علاقوں کے رہائشی کابل انتظامیہ کے 36 فوجی، پولیس اور مقامی جنگجوؤں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبرداری کا اعلا نکیا، جن میں عبدالخالق ولد عبدالمجید، عزیزاللہ ولد طاغن، پنجی ولد عبدالجبار، جمعہ تردی، ولد روزقل، عبدالغفور ولد عبدالکریم، شکراللہ ولد دولت، محمد ولد جمعہ، سلیم اللہ ولد چاری، عبدالحنان ولد بابہ گل، شمس اللہ ولد ابراہیم، پنجی ولد آق محمد، پنجی ولد قل مراد، سخی بردی ولد محمد، نصرالدین ولد شراف الدین، امان اللہ ولد جان آغا، عبداللہ ولد محراب، عبدالشکور ولد خانزادہ، تمیم ولد ابراہیم، عبدالمجید ولد جمعہ خان، حمیداللہ ولد حضرت میر، جمعہ الدین ولد سراج الدین، گلدی ولد اللہ مراد، قربان گلدی ولد اللہ مراد، عبدالبشیر ولد محمدحسن، لعل محمد ولد اکرام الدین، نجیب اللہ ولد عبدالحکیم، جمشید ولد فیض اللہ، شریف اللہ ولد محمدیوسف، احمد ولد عزیزاللہ، محمداکبر ولد عبدالقادر، محمدنعیم ولد محمدنبی، گل خان ولد نصرالدین، خانزادہ ولد گل زادہ، اسداللہ ولد عبدالجبار، محمدیاسین ولد مقسوم اور عبدالبصیر ولد قلیچ شامل ہیں۔

اسی طرح صوبہ پکتیکا کے اومنہ اور مٹھاخان کے رہائشی 5 فوجی محمدخان، شہزاد، خان، عبدالرحیم اور محمد حکیم جب کہ صوبہ غزنی ضلع قرہ باغ کے باشندے مقامی جنگجو مسی خان ولد گلاب خان اور صوبہ پکتیا ضلع زرمت کے رہائشی پولیس اہلکار غازی ولد زازئی ، صوبہ کنڑ ضلع دانگام کے رہائشی پولیس اہلکار ولی اللہ ولد فاتح گل، صوبہ پروان ضلع سیاہ گرد کے باشندے افغان فوجی صدام ولد محمدکبیر  اور صوبہ بدخشان کے ارغجن خواہ اور ارگو اضلاع کے رہائشی نام نہاد قومی لشکر کے 3 جنگجوؤں امراللہ ولد عبدالاحد، وحیداللہ ولد عبدالشکور اور  اسرائیل ولد راز محمد نے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

Related posts