اگست 08, 2020

ایوان صدر اور ٹارگٹ کلنگ

ایوان صدر اور ٹارگٹ کلنگ

آج کی بات

 

اشرف غنی کے صدارتی محل میں داخل ہونے کے بعد ایک طرف آزادی اظہار رائے پر پابندی لگ گئی، تو دوسری طرف امن کارکنوں ، سیاسی تجزیہ نگاروں ، ادیبوں ، مذہبی اسکالروں اور قبائلی عمائدین کے قتل کا ایک پراسرار سلسلہ شروع ہوا، بہت سارے محققین ، ادیب اور با اثر شخصیات کو کابل حکومت کی نام نہاد قومی سلامتی ایجنسی نے دھمکیاں دیں، کچھ کو گرفتار کیا گیا اور کچھ کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کیا گیا۔

امارت اسلامیہ اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے آغاز کے بعد ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ اور وسیع تر ہوگیا، وفاقی دارالحکومت کابل شہر میں امن کارکنوں اور سیاسی شخصیات کو دن دیہاڑے ٹارگٹ کر کے شہید کردیا گیا، جب مجرموں کو ہتھیار سمیت گرفتار کیا گیا تو آگلے روز انہیں رہا کردیا گیا۔ مساجد اور جنازوں میں منصوبے کے تحت دھماکے ہوئے، وزیر اکبر خان مسجد اور شیر شاہ سوری مسجد کے امام اور دیگر مذہبی سکالرز اور با اثر شخصیات شہید ہوگئیں۔

کچھ عرصہ قبل امارت اسلامیہ کی خفیہ ایجنسی نے کابل- لوگر قومی شاہراہ پر داعش کے دو اہل کاروں کو گرفتار کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کابل انتظامیہ کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل کی سربراہی میں وہ خفیہ کارروائیاں کررہے ہیں، ان کی جانب سے انہیں ہتھیار اور پیسے فراہم کئے جاتے ہیں اور انہیں ٹارگٹ کلنگ کے لئے ٹاکس دیا جاتا ہے۔ داعش کے انہی اہل کاروں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے سیاسی تجزیہ کاروں (وحید مژدہ اور حسن حقیار) پر حملہ کیا تھا اور دیگر اہم شخصیات بھی نشانہ بنانے کے لئے ان کی لسٹ میں شامل تھیں۔ داعش کے ان اہل کاروں کے بیانات بے بنیاد الزامات نہیں تھے بلکہ ان کے پاس اہم دستاویزات تھیں اور امارت اسلامیہ کی خفیہ ایجنسی کے مجاہدین نے ان سے اہم وسائل بھی برآمد کر لئے۔

نیز کابل حکومت کے سابق انٹلی جنس اہلکار (حسیب قوای مرکز) نے یہ بات بالکل واضح کردی کہ قومی سلامتی (این ڈی ایس) نے کابل میں متعدد ممتاز مذہبی اسکالرز اور سیاسی شخصیات کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا اور ان میں سے ہر ایک کو نشانہ بنانے پر انہیں 25 لاکھ افغانی رقم دینے کا وعدہ کیا تھا، حسیب نے ایک ویڈیو پیغام میں اسی موضوع کو تفصیل سے بیان کیا اور اس میں ملوث افراد کے نام اور اہداف کے مقامات کا بھی تذکرہ کیا۔

معتبر اور درست معلومات کی بنیاد پر کابل حکومت نے نام نہاد نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے 241 رجمنٹ میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک خصوصی شعبہ قائم کیا ہے ، اس شعبہ کو امریکی جارحیت مخالف اور بااحساس سیاسی شخصیات ، مذہبی اسکالرز ، محققین اور با اثر شخصیات کو قتل کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ 241 رجمنٹ ریاستی ٹارگٹ کلنگ کا یہ شعبہ افغان عوام کا پیشہ ور کار قاتل ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکمرانی میں بھی فعال تھا، جس نے لاتعداد افغانوں کو قتل کیا۔

گزشتہ روز امارت اسلامیہ کے انٹلی جنس کمیشن نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں سیاسی اور علمی شخصیات اور امن کارکنوں کو آگاہ کیا تھا کہ کابل انتظامیہ کے241 ویں انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انہیں نشانہ بنانے کے لئے دوبارہ سرگرمیوں کا آغاز کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ امارت کی جانب سے انہیں اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔

کابل انتظامیہ کے سربراہ جو حب الوطنی اور سیاسی طور پر باشعور ہونے کا دعویدار ہے، کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ وہ ٹارگٹ کلنگ اور ریاستی دہشت گردی کی بنیاد پر کامیابی حاصل نہیں کر سکتا اور یہی طریقہ کار اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دے گا۔ اشرف غنی کو نورمحمد ترکی سے لے کر ڈاکٹر نجیب تک کمیونسٹ حکومتوں کے تاریک انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔ اور مزید جنگ، ریاستی دہشت گردی اور امن مخالفت کو جاری نہیں رکھنا چاہئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی رہنماوں کو کابل حکومت کے خفیہ ادارے کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کے انتظام کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس کی سرگرمیوں کو ناکام بنانا چاہئے، خاص طور پر پچھلے کچھ مہینوں میں عوامی مقامات پر ہونے والے دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے المناک واقعات کی تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

Related posts