اگست 08, 2020

ایوان صدر کے جنگجو جو بائیڈن کا انتظار کر رہے ہیں

ایوان صدر کے جنگجو جو بائیڈن کا انتظار کر رہے ہیں

آج کی بات

صوبہ سمنگان کے صدر مقام ایبک شہر میں کٹھ پتلی انتظامیہ کے انٹلیجنس وار سنٹر پر مجاہدین کے ایک ہلاکت خیز حملے میں سو سے زائد اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ قومی سلامتی کے ماتحت خفیہ ادارے این ڈی ایس نے ایک بار پھر مجاہدین کے خلاف جارحانہ جنگ لڑنے کی تیاری کا اعلان کر دیا۔

اس کے علاوہ اشرف غنی کے سابق نائب صدر، گیلم جم ملیشیا کے جنگجو کمانڈر اور اخلاقی مجرم رشید دوستم نے جعلی مارشل کی تقریب سے خطاب کے دوران اسی قسم کا اظہار خِیال کیا۔

ایوان صدر کے اعلی حکام ایک طویل عرصے سے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، انہیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں امریکی اپنی پالیسی میں تبدیلی لائیں گے اور افغانستان پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کی پالیسی جاری رکھیں گے۔ اس کے ساتھ کابل کے کٹھ پتلی حکام حسب سابق برسراقتدار رہیں گے اور ڈالروں کے عوض افغانوں کو مارتے رہیں گے۔

سب سے پہلے تو جنگ میں اضافے کے حوالے سے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کابل حکام اعلان جنگ کرتے ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار انہوں نے جارحانہ جنگوں کے اعلانات کئے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل ایواب صدر کے سربراہ اشرف غنی نے بھی مجاہدین کے خلاف جارحانہ جنگ شروع کرنے کا حکم جاری کیا تھا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہر روز اپنے فوجیوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں۔ جس کی تازہ مثال سمنگان کا واقعہ ہے۔

لہذا ان جرنیلوں اور بلیک واٹر کے کرایہ داروں کا اعلان جنگ خود کو تباہ کرنے کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے لیکن وہ مجاہدین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، ان شاء اللہ، مجاہدین شکست خوردہ دشمن کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔

دوسرا یہ کہ ایوان صدر کے حکام اس امید پر امن عمل کو روک رہے ہیں کہ آئندہ امریکی انتخابات ان کے لئے ایک ایسی تبدیلی لائیں گے جو ان کی سیاسی بقا اور ان کے مصنوعی اقتدار کو دوام بخشنے کا باعث بنیں گے لیکن اب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو بائیڈن کی باتوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

جو بائیڈن آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم حریف ہیں۔ اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ افغانستان میں صورتحال کس طرح کی ہے، بلکہ اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی افواج کو بے ہودہ جنگ سے واپس بلائیں اور امریکی مفادات کا تحفظ کریں۔

انہوں نے کہا "اگر طالبان امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد اقتدار میں آئے تو ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔” ہماری ذمہ داری اپنے لوگوں اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

جو بائیڈن کی ان باتوں نے ایوان صدر کے حکام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جو امن عمل کو روکنے کے لئے دن رات سازشوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے قیدیوں کی رہائی کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی اور کررہے ہیں۔ وہ بین الافغان مذاکرات سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں، جنگ، چھاپوں ، فضائی حملوں ، راکٹ حملوں ، علاقوں پر قبضہ کرنے، طالبان کے نام پر نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے اور دیگر جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں۔ لیکن پھر بھی مجاہدین کو جنگ کی شدت کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

مجاہدین نے دفاعی پوزیشن اختیار کی ہے یا امن عمل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کچھ کارروائیاں کرتے ہیں۔ جو بڑے پیمانے پر معاہدے سے متصادم نہیں ہے۔ لہذا ایوان صدر کے جنگجو جو بائیڈن کی امید پر ایک نئی جارحانہ جنگ کے موڈ میں ہیں۔

Related posts