اگست 07, 2020

دین اور دیانت کے خلاف صریح دشمنی

دین اور دیانت کے خلاف صریح دشمنی

ہفتہ وار تبصرہ

استعمار اور اس کے حواریوں کی جارحیت سے ہی افغانستان میں مذہبی اقدار اور شعائر کو کچلنے کا عمل شروع  ہوا اور کوشش جاری ہے، تاکہ غیر اسلامی ثقافت، اقدار اور اخلاق کو ہماری مؤمن ملت پر مسلط کردیں۔

نظریات اور عقائد کے پھیلانے کا ایک اہم حصہ تعلیم کا میدان ہے۔ اکثر ممالک میں غیرمذہبی نظریات تعلیمی نصاب کے ذریعے پھیلائے گئے ہیں اور ان سے معصوم مؤمن بچوں کے اذہان آلودہ ہوچکے ہیں۔

چونکہ ہماری ملت کا مذہبی شعور بلند اور اسلامی غیرت کا جذبہ زندہ ہے، یہاں تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا کام بتدریج شروع ہوا۔ دین مخالف ٹولے نے  پہلے جہاد، شریعت، اسلامی نظام، شرعی حدود وغیرہ موضوعات کو نصاب سے نکال دیے   اور ان کی جگہ بعض غیرمذہبی اجنبی اصطلاحات کا اضافہ کیا گیا۔

اقتدار سنبھالتے ہی سیکولر نظریہ سے ترتیب یافتہ کابل صدارتی محل کے موجودہ سربراہ اشرف غنی  ہرشعبے میں غیرمذہبی ثقافت کی نشوونما اور فروغ کے لیے کمربستہ ہوئے۔ جیسا کہ موصوف اختلاط، بدعنوانی، بےحجابی اور دیگر ناجائز اعمال کے فروغ میں سرفہرست ہے، اسی طرح انہوں نے نوجوان نسل کو گمراہ اور  اپنی اسلامی ثقافت سےدور رکھنےکے ہدف کا بھی انتخاب کیا  ہواہے۔

ان کی حکمرانی میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹڈیز اینڈ ریسرچ  نےملک کے اہم امور کا جائزہ لینے   کے بجائے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی تعلیمی نصاب میں دینی مضامین اور اصطلاحات کو ہدف بنایا اور کوشش کررہا ہے کہ ان دینی موضوعات پر بنیاد پرستی کا الزام لگا کر انہیں نصاب سے ہٹا دے۔

اس انسٹی ٹیوٹ کو کابل انتظامیہ کے اعلی حکام کی حمایت حاصل ہے، گذشتہ برس اعلی تعلیم کے نصاب میں اسلامی ثقافت کے مضمون کو اپنے حاسدانہ پروپیگنڈے کا ہدف ٹہرایا تھا اور اس سال اسکولوں کے نصاب میں ایمان، اسلام، اللہ تعالی، قرآن، حمد، نعت، دعاء، اسلامی نظریات اور اخلاقی اقدار کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں بنیاد پرستی اور شدت پسندی کے عوامل سمجھے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام کے عظیم شعائر و رسومات کے خلاف اس طرح جسارت صرف اور صرف لادین حکمرانوں کی حمایت سے ممکن ہے۔ ورنہ ایک گمنام ریسرچ سینٹر کبھی بھی اتنی جرائت نہیں کرسکتی کہ اسلام اور مسلمانوں کی سرزمین میں اتنی بےشرمی سے دینی اقدار پر حملہ آور ہوجائے۔

ہمارے خیال میں تعلیمی نصاب میں دینی مضامین کو نشانہ بنانا، اس کے بعد ان کے متعلق مختلف الزامات اور غلط پروپیگنڈے بیان کرنا،مذہب کے خلاف اس وسیع جارحیت کا ایک قلیل حصہ ہے، جو جارحیت کے زیرسایہ مقبوضہ افغانستان میں مختلف طریقوں سے جاری ہے۔  ہماری مؤمن ملت، علمائےکرام، بااثراشخاص، ادیب، دانشور اور اہل قلم حضرات دشمن کے ان سازشوں کے خلاف خاموش نہیں رہنے چاہیے، بلکہ تمام ممکنہ وسائل سے ان کی روک تھام کریں۔

دینی مضامین کے خلاف ان شیطانی سازشوں کی امارت اسلامیہ شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے  اور اسے ہماری مؤمن ملت کے خلاف صریح  جارحیت اور بےاحترامی سمجھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم ان سازشی عناصر کو  بتاتے ہیں کہ یہاں ماضی میں بھی ایسی کوششیں کی گئی تھیں، مگر اللہ تعالی نے انہیں شکست سے دوچار کیں۔ تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ دین کے دشمنوں کی اس طرح  بلاجواز حرکات سے صرف  انہوں نے اپنے آپ اور سیاسی موجودگی کےلیے قبریں کھودی ہیں اور مؤمن ملت کی مجاہدانہ ردعمل نے ان کے تمام کوششوں کو ناکارہ بنا دی ہے۔

Related posts