اگست 04, 2020

امن کی راہ میں ایک بار پھر رکاوٹ

امن کی راہ میں ایک بار پھر رکاوٹ

تحریر: سیدعبدالرزاق
جب سے امریکااور امارتِ اسلامیہ کے درمیان امن معاہدہ دستخط ہواہے اسی وقت سے مسلسل کابل انتظامیہ بے چینی کا شکار ہے-امن معاہدہ سے قبل کابل انتظامیہ کے رئیس اشرف غنی گلہ پھاڑ کر کہتا تھا کہ میں ہر قیمت پر امن چاہتاہوں- چیخ چیخ کر کہتاتھا کہ امن کے قیام کے لیے میراسر تن سے جدا ہوجائے میں اس کے لیے بھی تیار ہوں- زور لگاکر بلند آواز سے وہ امارتِ اسلامیہ کے ایک ایک بڑے کا نام لے کر للکار کے انداز میں امن کی نام نہاد دعوت دیتا تھا اور اس کایہ طریقہ بلاشبہ غلط تھا کہ اس وقت اس کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا تو مذاکرات کا مقصد کیاٹھہرتا؟
امریکا کے ساتھ جیسے ہی امن معاہدہ دستخط ہواتو موصوف اور اس کی انتظامیہ نے کروٹ بدل لی- آئے روز معاہدہ کی تعمیل میں رخنے ڈالناشروع کیے-کبھی بین الافغانی مذاکرات کی جگہ کی تعیناتی میں اختلاف تو کبھی اپنے خودساختہ آئین کے تحفظ کا رونا۔ کبھی ڈھونگ انتخابات تو کبھی اپنی مرضی کے نتائج کے انتظار میں حیص بیص کاشکار بنتا جارہا تھا-امن معاہدہ میں پہلااقدام قیدیوں کی رہائی کاعمل تھا -اس پر موصوف نے بجائے اسانی پیداکرنے کی قدم قدم پر رکاوٹیں ڈالیں- حالانکہ یہ واقعی، سنجیدہ اور حقیقی مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کا سب سے بڑااور مضبوط راستہ تھا اگر اسے اختیار کیا جاتا۔
قیدیوں کی رہائی میں جب لیت ولعل سے کام لینا شروع کیا تو امارتِ اسلامیہ نے دباو ڈال کر یہ عمل شروع کروایا-جو کام دس دنوں میں ہونا تھا اس پر پانچ مہینوں کاطویل عرصہ گزرا لیکن پھر بھی انتہاء کو نہیں پہنچا-خدا خدا کرکے رہاہونے والوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار تک پہونچ گئی جس سے امن کے قیام، بند مذاکرات کے کھلنے کی ایک جھلک نظر آگئی -مگر یہاں پھر اس بد نیت اور بدخو دشمن نے دراڑ ڈال دی-ابھی کل ۵ جولائی کو اس کی بنائی ہوئی کمیشن براے رہائی نے اعلان کیا کہ ان قیدیوں کی لسٹ میں سے پانچ سو سے کچھ اوپر کے قیدیوں کو نہیں رہاہونے دیاجائے گا- وجہ یہ بتائی کہ یہ سنگین جرائم میں ملوث ہیں-پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ سنگین جرائم ان کے بقول خود کش حملوں میں ملوث ہونا یے۔بعض اہم سرکاری شخصیات کے قتل کی منصوبہ بندی اور اس جیسے جرائم شامل ہیں۔
اس بھونڈے اور بے بنیاد وجہ کو سن کر بندہ ششدر رہ جاتا ہے-عقل ماتم کرنے لگتی ہے-آخر ایسی کیا مت ماری گئی ہے؟ کیوں ملت کو مخمصہ میں رکھاجاتا ہے؟اگر واقعی یہ جرائم ایسے ہیں جن کی وجہ سے رہائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی تو پھر یہ جو رہاہوئے یا رہاہونگے ان کے جرائم کیاتھے؟
ظاہر ہے ان میں کسی کو بھی چوری، ڈکیتی یا پھر ذاتی لڑائی جھگڑے کی بنیاد پر تو گرفتار نہیں کیاگیاتھا- یہ سب اس جرم میں شریک تھے کہ کسی نے امریکی فوجی کو کلاشن سے قتل کیاہے تو کسی نے ان کے غلاموں کو گولی ماری ہے-یہ ایک بارودی سرنگ نصب کرنے کے جرم میں گرفتار ہواہے تو وہ دوسرا ٹینک تباہ کرنے کے جرم میں جیل لایا گیاہے.
آخر یہ دو تہذیبوں کے درمیان جنگ ہے-اس میں جو بھی گرفتار ہوگا جس جانب سے بھی ہو وہ اپنے حریف کی نگاہ میں شدید مجرم ہوگا۔ پھر یہ کیامعنی رکھتاہے کہ جی وہ جو رہاہوئے وہ کم مجرم تھے اورجو باقی ہیں وہ زیادہ مجرم ہیں؟
آخر ان ملت دشمنوں کے عزائم اس کے سوا اور کیاہوسکتے ہیں کہ ان جیسے ڈھکوسلوں سے امن کے خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیں؟
ایسی سمجھ سے بالاتر باتیں اور شوشے بجاطور پر یہ پتہ دیتی ہیں کہ ملت کے یہ قاتل کسی صورت ملت کو پر امن نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس نازک وقت میں وہ صلح اور آشتی کی جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں-لیکن یاد رکھیں جس طرح دیگر سرخ لائنیں سفید ہوگئیں ان شاءاللہ یہاں بھی ناکامی اور رسوائی ان کامنہ چڑھارہی ہوگی۔

Related posts