اکتوبر 27, 2020

جنگی جرائم جون2020

جنگی جرائم جون2020

تحریر: سید سعید
4 جون 2020 کو صوبہ غزنی کے صوبائی دارالحکومت کے قریب افغان فورسز کی جانب سے سمندا گاؤں پر مارٹر فائر کئے گئے جس سے ایک خاتون شہید اور دو دیگر خواتین زخمی ہوگئیں۔
4 جون کو صوبہ فاریاب کے ضلع جمعہ بازار کے ینگی قلعہ کے علاقے میں افغان فورسز نے لوگوں کے گھروں پر مارٹر گولے فائر کئے، ایک گولہ ایک مکان پر گرا جس سے ایک شخص شہید ہوگیا۔
6 جون کو افغان فوج نے صوبہ دایکندی کے ضلع گیزاب کے قزلباش کے علاقے میں گاؤں کے پیش امام (مولوی شاہ محمد) اور ایک اور دکاندار کو شہید کردیا۔
7 جون کو صوبہ فراہ کے دارالحکومت کے قریب خورمالق کے علاقے میں افغان فوج نے فوجی آپریشن کے دوران مقامی لوگوں کے گھروں سے قیمتی سامان لوٹ لیا اور دو کسانوں (عبدالرحیم اور عبدالرازق) کو شہید کردیا۔
7 جون کو صوبہ پروان کے ضلع شنواری کے علاقے شترشہر میں افغان فورسز کی ایک کارروائی میں ایک دکاندار شہید اور دو شہری زخمی ہوگئے۔
7 جون کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے چرخکیان ماندہ کے علاقے میں افغان اہل کاروں نے لوگوں پر فائرنگ کردی ، جس کے نتیجے میں ایک شخص شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
8 جون کو کابل کے ضلع موسہی میں افغان اہل کاروں نے محمد گل اکا نامی 80 سالہ موذن کو شہید کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد مقامی لوگوں نے احتجاج کیا جس پر پولیس اہل کاروں نے فائرنگ کر دی جس سے نوزالدین نامی شخص شہید اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے۔
9 جون کو سرکاری فوج نے صوبہ قندھار کے ضلع ارغستان کے امین قلعہ کے علاقے میں ایک دینی مدرسہ کو نذر آتش اور ایک بچے کو شہید کردیا۔
10 جون کو صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب کے علاقے خواجہ میں افغان فورسز کی فائرنگ سے چار شہری زخمی اور ایک شہید ہوگیا۔
11 جون کو سرکاری فوج نے صوبہ نیمروز کے ضلع دلارام کے دھمزنگ کے علاقے میں مقامی آبادی پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک شخص شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
12 جون کو افغان فوج نے صوبہ غزنی کے نظر خان کے علاقے میں خانہ بدوشوں کے خیموں پر مارٹر گولے فائر کیے جس کے نتیجے میں دو بچے شہید اور دو عام شہری زخمی ہوگئے۔
12 جون کو صوبہ میدان وردگ کے سالار کے علاقے میں افغان فورسز نے عام شہریوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اقبال نامی ایک دکاندار شہید ہوگیا۔
12 جون کو صوبہ خوست کے ضلع موسی خیل میں افغان فورسز کے مارٹر حملے میں دو خواتین اور دو بچے زخمی ہوگئے۔
13 جون کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کے گاؤں شہاب الدین میں افغان فورسز کے مارٹر گولوں سے ایک مکان تباہ اور ایک خاتون شہید ہوگئی۔
13 جون کو ایک شہری (حمید اللہ جان) جو اپنی کار میں سوار تھا، کو افغان اہل کاروں نے صوبہ میدان وردک ضلع سید آباد کے ہفت ایشیاء کے علاقے میں اغوا کرکے شہید کردیا۔ نیز جاوید نامی ایک اور شخص جو اپنے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار تھا، گھر سے جاتے ہوئے راستے میں افغان اہل کاروں نے شہید کر دیا اور اس کے بھائی پر شدید تشدد کیا گیا۔
14 جون کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے ضلع پانکلا کے علاقے میں افغان فورسز کی فائرنگ سے ایک بچہ شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
14 جون کو صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے محیب خیل کے علاقے میں حکومتی فورسز کی جانب سے فائر کیا گیا راکٹ شادی کی تقریب پر جاگرا جس سے خواتین اور بچوں سمیت نو شہری زخمی ہوگئے۔
14 جون کو افغان فوج نے صوبہ فراہ کے ضلع فراه رود کے میاجوئی کے علاقے میں کے مارٹر شیل فائر کئے جس کا ایک گولہ ایک دینی مدرسے پر گرا، جس کے نتیجے میں مولوی عبدالباری نامی شہری اور دو کم عمر حافظ شہید اور ایک اور شخص زخمی ہوا۔
14 جون کو صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے قریب خضر کے علاقے میں اربکی ملیشیا کے اہل کاروں نے ایک سواری گاڑی کو نشانہ بنایا اور 14 شہریوں کو زخمی کردیا۔
15 جون کو افغان فورسز نے دارالحکومت غزنی کے علاقے ارباب قلعہ میں ایک شہری کو شہید کر دیا۔
15 جون کو افغان فوج نے غزنی کے صوبائی دارالحکومت کے قریب اسفندا گاؤں پر مارٹر فائر کیا، جس کے نتیجے میں ایک بچہ شہید ہوگیا اور لوگوں کو مالی نقصان پہنچا۔
15 جون کو صوبہ ہلمند کے ضلع گریشک کے مضافات میں ہرات کی طرف جانے والی سڑک پر افغان فوجیوں نے مہاجر بازار نامی مقامی بازار کو بلڈوز کردیا اور اس میں شہریوں کی 200 دکانوں، 13 کنٹینروں، 8 میڈیکلوں اور ایک پیٹرول پمپ کو مسمار کر دیا، قیمتی سامان ضبط کرکے لوگوں کو کروڑوں افغانی نقصان پہنچایا۔
20 جون کو صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے عمر خیل کے علاقے میں سرکاری فوج کی بمباری میں دو شہری شہید اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔
21 جون کو صوبہ غور کے ضلع اللہ یار کے علاقے غار میں افغان فوج کے فضائی حملے میں دو افراد زخمی ہوئے اور ایک مسجد کو نقصان پہنچا۔
21 جون کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے علاقے پانکیلی میں افغان فورسز کے حملے میں چار شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔
23 جون کو صوبہ کاپیسا کے ضلع نجراب کے تپہ احمد بیگ کے علاقے میں افغان فورسز نے ایک زخمی طالب کو تشدد کا نشانہ بنایا ، اس کے گلے میں پھندہ ڈالا اور پھر اس کو شہید کر دیا۔
23 جون کو صوبہ غزنی کے ضلع قرباغ میں افغان فوج نے دو دیہاتیوں (نعمت اللہ اور عبدالکریم) کو گھروں سے حراست میں لیا اور ٹینکوں کے پیچھے گھسیٹ کر شہید کردیا۔
23 جون کو صوبہ قندوز کے علاقے چرخاب میں افغان فورسز نے ایک شہری کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا۔
24 جون کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے علاقے چہاردہ میں افغان فورسز کی جانب سے ڈی سی توپ فائر کئے گئے جس سے دو خواتین شہید اور تین بچے زخمی ہوگئے۔
24 جون کو افغان فوج نے صوبہ بلخ کے ضلع خاص بلخ کے وزیر آباد کے علاقے میں شہریوں کے گھروں پر بمباری کی جس میں چار شہری شہید اور چار دیگر زخمی ہوگئے۔
26 جون کو صوبہ پکتیکا کے ضلع خیر کوٹ کے گاؤں سہ گانہ میں افغان فورسز کے چھاپے کے دوران ایک شہری (حاجی عبدالباری) اور اس کا 13 سالہ بیٹا شہید ہوگیا۔
26 جون کو صوبہ خوست کے ضلع دوہ مندہ کے گاؤں ایتی میں قریب واقع فوجی اڈے سے مارٹر گولے فائر کیے گئے جس سے 6 بچے شہید اور زخمی ہوگئے۔
26 جون کو صوبہ پروان کے ضلع بگرام کے گاؤں نیاز درہ میں افغان فورسز نے مقامی لوگوں کا گندم جلایا۔
26 جون کو صوبہ کنڑ کے ضلع منور کے گاوں بچی میں افغان اہل کاروں کے چھاپے کے دوران تین شہری شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔
26 جون کو صوبہ بدخشاں کے ضلع خاش خانہ کے گاؤں کزر میں افغان فوج کی فائرنگ سے محلے کے پیش امام (مولوی عبدالوکیل) کا مکان تباہ اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔
26 جون کو افغان فورسز نے میدان وردگ کے دارالحکومت کے علاقے فولاد خانی میں ایک شہری (ظفر خان) کو اپنے گھر سے باہر نکال کر شہید کردیا اور جندی خیل میں ایک اور شہری (سلطان محمد) کو بھی شہید کردیا۔
27 جون کو صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب کے گاؤں ترکو میں افغان فوج نے ایک مکان پر بمباری کی جس میں ایک شخص شہید ہوا۔
28 جون کو صوبہ پکتیکا کے ضلع یوسف خیل کے گاؤں مشیخیل میں پولیس اہل کاروں کی فائرنگ سے ایک بچہ شہید اور دو زخمی ہوگئے۔
28 جون کو صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب کے جوئی گنج ، اکازی اور اسحاق زئی دیہات میں افغان فوج کی بمباری سے چار شہری شہید اور دو دیگر زخمی ہوئے اور ان کے مکانات کو نقصان پہنچا۔
29 جون کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے پرانا بازار میں مویشی منڈی پر میوند چھاونی سے افغان فورسز کی جانب سے مارٹر گولے فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں 27 شہری شہید اور 40 سے زیادہ عام شہری زخمی ہوگئے۔ شہداء اور زخمیوں میں بزرگ ، جوان اور بچے سب شامل ہیں، یہ لوگ جانور خریدنے اور بیچنے کے لئے مویشی منڈی آئے تھے۔ کابل انتظامیہ نے حملے کی تردید کی لیکن عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ گولے قریب واقع فوجی چھاونی سے داغے گئے اور منڈی میں آگرے، حملے کے دو دن بعد اقوام متحدہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ حملہ افغان فوج کی کارستانی تھی۔
29 جون کو صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے قریب گمبزی میں افغان فورسز کی فائرنگ سے 5 شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔
30 جون کو صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب کے علاقے مرکزی میں افغان فوج کے فضائی حملے میں ایک خاتون اور ایک بچہ زخمی ہوا اور ایک مسجد اور مکان کو نقصان پہنچا۔
30 جون کو صوبہ بغلان کے ضلع وسطی بغلان کے چھٹے روڈ کے علاقے میں افغان فوج کی بمباری سے ایک گاؤں کی مسجد کو نقصان پہنچا اور لوگوں کو مالی نقصان پہنچا۔
ذرائع: [بی بی سی ریڈیو ، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک اور پژواک نیوز ایجنسی ، افغان ویب سائٹ، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیاء اور بینوا ویب سائٹس]

Related posts