اگست 04, 2020

قیامِ امن کے لیے سنجیدگی کی ضرورت

قیامِ امن کے لیے سنجیدگی کی ضرورت

تحریر: سید عبدالرزاق

تیس جون کو قطر دفتر کے ترجمان جناب محمد سہیل شاہین نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ بتایا کہ قطر دفتر کے رئیس اور دیگر ارکان نے امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پمپیو کے ساتھ ایک آن لائن کانفرنس کی جس میں امن معاہدہ کی تعمیل کے حوالہ سے بات چیت ہوئی-کانفرنس میں قیدیوں کی رہائی،بین الافغانی مذاکرات اور معاہدہ کی تمام شقوں کی عمل در آمد پر سیر حاصل گفتگو ہوئی-گفتگو میں امارتِ اسلامیہ کا وعدے پر قائم رہنا اور اپنی طرف سے معاہدہ کی کسی بھی فلور پر خلاف ورزی سے مکمل اجتناب کاذکر آیا جسے تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا اور دوسری جانب سے بھی یہی مطالبہ کیاگیا-
عین انہیں دنوں مذاکرات کے لیے امریکہ کاخصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد بھی قطر دفتر کے ارکان سے قیام امن کے حوالہ سے گفتگو کرچکا تھا -یہ باتیں اور ملاقاتیں اور اس طرح کے بیانات بلاشبہ ایک خوش آئند امر ہے اور اس سے ملت کے سپنوں کو تعبیر ملتی ہے -لیکن اس کے ساتھ کچھ ایسی باتیں بھی پیش آتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے جانبین کی سنجیدگی کو شدید زد پڑتی ہے اور تناو کا باعث بن رہی ہیں-
اس زمرے میں قیدیوں کی رہائی میں تاخیر،بین الافغانی مذاکرات کی دانستہ طور پر تاخیر،امریکا اور کابل انتظامیہ کی جگہ جگہ غلط بیانی اور کابل انتظامیہ اور اس کی معیت میں امریکی فوجیوں کی بعض کاروائیاں آتی ہیں جن سے بدمزگی اور افراتفری میں اضافہ ہوتاہے اور ملت میں اضطراب کی لہر دوڑتی ہے-
جون کے مہینے میں کئی دفعہ اس طرز کی کوششیں ہوئیں ہیں جن سے امن معاہدہ کی ساکھ شدید متاثر ہونے کاخدشہ ہے -پچیس جون کو ایک امریکی جریدے واشنٹن پوست نے ایک جعلی رپورٹ شائع کی جس میں امارتِ اسلامیہ پر روس چین اور دیگر ممالک کے آلہ کار ہونے کا بے بنیاد الزام دھراتھا جس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی-اس رپورٹ کی امارتِ اسلامیہ نے سختی سے تردید کی تو سانحہ ہلمند جیسا گھناونا جرم سرزد ہوا -ملت اس کرب سے نہیں نکلی تھی کہ یکم جولائی کو امریکی دفاعی محکمہ پنٹاگان نے ایک اور بے بنیاد رپورٹ نشر کی جس میں امارت اسلامیہ کو بہارت میں القاعدہ کو سپورٹ کرنے کامجرم ٹہرایا تھا اور حسب ِسابق کسی بھی سطح پر کسی بھی ثبوت کی ضرورت نہیں سمجھی گئی-
اس رپورٹ کو بھی امارتِ اسلامیہ نے فی الفور رد کیااور بہترین انداز اور مضبوط دلائل سے اس کی تردید کی -لیکن جانبِ مقابل کایہ رویہ انتہائی قابل افسوس، امن خواہشوں کی راہ میں رکاوٹ اور ملت کی امنگوں کا بدترین قاتل ہے-یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ قیامِ امن میں لب ولہجہ کا بڑا کردار ہوتاہے اگر لب ولہجہ درست نہ رہا تو پھر یہ مذاکرات،ملاقاتیں اور باتیں سب بے معنی ہیں –
اس سے زیادہ قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ دانستہ طور ہر ہورہاہے جو بہت نازیبا عمل ہے۔ اگر امریکا واقعی امن عمل کو آگے بڑھانا چاہتاہے اور صحیح معنوں میں انسانیت سے کوئی ہمدردی رکھتاہے پھر اسے ان ملاقاتوں اور باتوں سے بالاتر ہو کر عمل کے میدان میں سنجیدگی دکھانی ہوگی ورنہ جو طرزِ عمل اس نے اب تک اپنا رکھاہے اس سے یہ عمل مزید گھمبیر ہوگا جس سے نکلنے کا پھر کوئی طریق نہیں رہے گا.

Related posts