اگست 04, 2020

سانحہ سنگین اور انسانی حقوق کی تنظیم کی معروضی رپورٹ

سانحہ سنگین اور انسانی حقوق کی تنظیم کی معروضی رپورٹ

آج کی بات

 

انسانی حقوق کے نام سے ایشین ڈویژن ہیومن رائٹس واچ نے 30 جون کو ایک رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی ہوئی ہے۔

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی کہ ایک دن قبل جنوبی صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین میں افغان فوج کی جانب سے فائر کئے گئے مارٹر شیل کے نتیجے میں ایک بڑا سانحہ رونما ہوا تھا۔

اس سانحہ میں بچوں اور بوڑھوں سمیت پچاس شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ جب کہ مال مویشی بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئی۔ تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ انسانوں اور جانوروں کے خون اور گوشت کو ملایا گیا تھا۔

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ہیومن رائٹس نے سانحہ سنگین کو نظر انداز کردیا اور اس کے بجائے اس نے انسانی حقوق کی پامالیوں کے عنوان سے ایک متعصبانہ ، سیاسی رپورٹ شائع کی جو ہر باشعور اور عقل مند انسان اس کی سیاسی بدنیتی کو سمجھتا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "ہم نے طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں 128 افراد سے بات کی، انہوں نے ہمیں بتایا کہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں اظہار رائے اور تعلیم پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں۔” اسی بنیاد پر رپورٹ کا عنوان رکھا ہے کہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے۔

مشتبہ افراد اور سرکاری عہدیداروں سے بات کرنے کی بنیاد پر پروپیگنڈا پر مبنی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے: "لوگوں کے لیے طالبان کے اقدامات کے بارے میں بات کرنا بہت مشکل اور خطرناک ہے۔” طالبان خوف اور دھمکیوں کے ذریعہ حکمرانی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنے زیر اقتدار علاقوں میں لوگوں کے سامنے خود کو جوابدہ نہیں سمجھتے ہیں۔”

انسانی حقوق کی اس تنظیم کی جانب سے سانحہ سنگین کو انسانیت کے خلاف گھناؤنا جرم قرار دینا چاہئے تھا، اس سانحہ پر ایک رپورٹ شائع کرنی چاہئے تھی، کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ جان، مال اور عزت کا تحفظ انسانوں کے بنیادی حقوق ہیں۔ لیکن ہلمند میں کابل انتظامیہ کے اہل کاروں نے ان حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی۔

لیکن اس تنظیم نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، ملک کے دیگر حصوں خصوصا دارالحکومت کابل میں انسانیت کے خلاف روز مرہ جرائم ، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی کی واردات، قتل و غارت، فوجیوں کی جانب سے اسکولوں میں چوکیوں کی تعمیر، اسکولوں میں طالبات کو بار بار زہر دینے، شہریوں کے احتجاج پر فوجیوں کی طرف سے فائرنگ کرنے، مساجد میں علماء اور نمازیوں کے پراسرار ٹارگٹ کلنگ کے مسلسل واقعات، کابل انتظامیہ میں خواتین پر جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات اور فوجی صفوں میں بچوں کا جنسی استحصال، سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور رشوت اور دیگر متعدد جرائم جو آزاد میڈیا اور دیگر ذرائع کی جانب سے بار بار دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ منظر عام پر آئے ہیں لیکن اس کے باوجود انسانی حقوق کی مذکورہ تنظیم اس پر خاموش ہے۔

اس کے برعکس طالبان کے بارے میں سرکاری اور دیگر مشتبہ افراد کے سوالوں پر مبنی پروپیگنڈا اہم سمجھا جاتا ہے۔

جب کہ امارت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں سیکڑوں بار کچھ مغربی ذرائع ابلاغ کو پتہ چلا ہے کہ عام شہری امارت اسلامیہ کی عدالتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے اپنے تمام قانونی اور دیگر مسائل حل کرتے ہیں اور رشوت اور انصاف کے بغیر ہر کام کرتے ہیں۔ افغانستان میں جنگ کی صورتحال کے پیش نظر تعلیم ، اظہار رائے اور دیگر تمام حقوق عوام کو فراہم کیا جاتا ہے۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیم کی تازہ ترین رپورٹ جو سانحہ سنگین سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے جاری کی گئی۔ بہت ہی افسوس ناک اور اس تنظیم کی سیاسی بدنیتی کا واضح ثبوت ہے۔

Related posts