اگست 04, 2020

سنگین کا المیہ اور حکام کا بے دریغ جھوٹ

سنگین کا المیہ اور حکام کا بے دریغ جھوٹ

آج کی بات

 

ہلمند میں آج کے خونی واقعہ سے متعلق ایوان صدر کا اعلامیہ اور تین ترجمانوں کے بیانات حیران کن اور شرمناک ہیں۔

کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کے ماتحت میوند چھاونی کے فوجیوں کی جانب سے ضلع سنگین میں مویشیوں کے کاروبار کرنے والے گنج گراؤڈ پر مارٹر گولے داغے گئے جس کے نتیجے میں 50 سے زائد نہتے شہری شہید اور زخمی ہوئے جب کہ بڑی تعداد میں جانور بھی ہلاک ہوگئے۔

لیکن ایوان صدر کی طرف سے شرمناک ، متضاد، جھوٹ اور پروپیگنڈے پر مبنی رد عمل سامنے آئے۔

سب سے پہلے ایوان صدر کے ترجمان صدیق صدیقی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ یہ واقعہ طالبان کے دو بم دھماکوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

اس کے بعد ایوان صدر سے ایک اور بیان سامنے آیا جس نے اس واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے مجرموں کی نشاندہی نہ کرنے سے صدیقی کا دعوی مسترد کر دیا، جس نے اس واقعہ میں مجاہدین کو ملوث قرار دیا تھا۔

اس کے بعد ایک اور ترجمان دواخان نے واقعہ پر غم اور دکھ کا اظہار کئے بغیر اپنے ٹویٹر پر چند اشعار شائع کئے۔

اس کے بعد ایک اور ترجمان مرتضوی نے اس واقعے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا لیکن انہوں نے مجرموں کا نام نہیں لیا۔

ایوان صدر کے یہ متضاد ، تنزیہ اور جھوٹے رد عمل اس وقت میڈیا کے سامنے آئے جب اس وقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین کی ویڈیوز ، آڈیوز اور تصویری دستاویزات نے واقعے کی حقیقت کو پہلے ہی سے سورج کی طرح واضح کردیا تھا۔

اسی وجہ سے ایوان صدر کے غیر معقول اور جاہلانہ رد عمل سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ مظالم ان کے نشئی سپاہیوں کی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ حکام بالا کی براہ راست ہدایات پر ڈھائے گئے۔

اس واقعہ سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ ملک میں آئے روز رونما ہونے والے انسانیت سوز مظالم اور پراسرار جرائم سبھی حکام بالا کی براہ راست کمانڈ پر انجام دیئے جاتے ہیں، کیوں کہ ایوان صدر سے منسلک اور اس سے وابستہ میڈیا ہمیشہ ایسے واقعات کے بعد جواز پیش کرنے اور الزام تراشی کرنے کی شرمناک کوششں کرتا رہتا ہے۔

یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ کٹھ پتلی حکومت کے اعلی حکام کے نزدیک ان بیچارہ اور غریب افغان عوام کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس لئے لاپرواہی اور بے دردی سے ان کا قتل عام کیا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل کمیونسٹ دور میں بھی کٹھ پتلی حکام اپنے اقتدار کے آخری وقت میں مظلوم شہریوں پر ایسے ہولناک مظالم ڈھاتے تھے۔ لیکن آخر کار مظلوم عوام نے ان مظالم کا بدلہ لے لیا اور انہیں اپنے تمام جرائم کی سزا بھگتنی پڑی۔

موجودہ کٹھ پتلی حکام کو گزشتہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے مظلوم عوام بے یار و مددگار نہیں ہیں، وہ ایک طاقتور ذات پر یقین رکھتے ہیں جس کے حساب اور انتقام سے کوئی جابر بچ نہیں سکتا۔

و ماذلک علی اللہ بعزیز

Related posts