جولائی 11, 2020

اشرف غنی کیوں پریشاں ہے؟

اشرف غنی کیوں پریشاں ہے؟

تحریر: سید عبدالرزاق

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ افغانستان میں جاری کشمکش،خون کی ہولی فساد اور بدامنی کاواحد سبب استعمار اور امریکی جارحیت ہے-تاریخی طور پر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی آزاد،خود مختار اور مستقل مملکت میں جب کوئی غیر دخل اندازی کرتاہے تو وہ ملک وملت بے اتفاقی، ناچاقی اور انتشار وانارکی کامرکز بن جاتاہے-ساتھ میں یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ فساد اور بدامنی اسی وقت اختتام کو پہنچے گی جب امریکی فوجی مکمل انخلاء کریں گے اور افغانستان کو اپنے اہلِ خانہ کے سپرد کیاجائے گا-
اس وقت افغان ملت خوشی اور شادمانی سے سرشار ہے- انتیس فروری کے بعد سے ان کی امنگیں بھر آئی ہیں اور ہر فردِ ملت دائمی امن اور آزاد وخود مملکت کے حصول کے خواب دیکھ رہا ہے- لیکن کچھ ذاتی مفادات کے اسیر خود غرض اور ملت دشمن لوگ ان کے اس خواب کو اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے کسی قیمت پر شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیتے-
تازہ مثال کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کا وہ انٹرویو ہے جو اس نے ۲۴ جون کو ایک امریکی ادارے”ٹیڈ”کو دیا تھا- جس میں موصوف نے امریکا کو افواج کی انخلا پر متوجہ کرکے اپنی پریشانی سے آگاہ کردیا اور بتادیا کہ امریکا اس پر سنجیدگی سے غور کرے اور اس مسئلہ کے انجام کو مد نظر رکھے۔ اس کو یوں ہی مہمل نہ چھوڑے-
یاد رہے کہ ۱۹ جون کو امریکی سنٹرل کمانڈ کے جنرل فرانک کنٹ مک کینزی نے میڈیا کو بتایاتھا کہ امریکا نے اپنی فوج کی تعداد معاہدہ کے مطابق 14000سے کم کرکے 8400 تک پہنچادی ہے-
اشرف غنی نے اپنی اس تشویش کااظہار پہلی دفعہ نہیں کیاہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی دفعہ امریکا کی سرکردہ شخصیات کے سامنے اپنی یہ دہائی دہراچکاہے اور براہِ راست خود صدر ٹرمپ کو بھی خط لکھ چکاہے جس میں اس بات کااظہار بھی کیاتھا کہ افغانستان کی معدنیات اور وسائل سے بے شک اپناخرچہ پوراکیاجائے لیکن فوج کسی صورت نہ نکالی جائے-اپنی اس فریاد کے لیے دلیل وہ یہ تراشتاہے کہ اس طرح کے انخلا سے بہت ہی زیادہ خطرناک انجام سامنے آئیں گے جن کااس وقت لوگوں کو ادراک نہیں ہورہا-
وہ خطرناک انجام کیاہے جس نے اشرف غنے کو تشویش میں ڈالاہے؟
اس کااظہار اس نے کبھی نہیں کیاہے اور اگر کبھی لب کشائی کی بھی ہے تو بہت مبہم ہوتی ہے یانرے ڈھکوسلے-
اصل بات کیاہے؟اشرف غنی کو یہ تشویش کیوں لاحق ہے؟اس کی بوکھلاہٹ کی اصل وجہ کیاہے؟یہ وہ سوالات ہیں جو ملت کررہی ہے-اور اس کا جواب اشرف غنی زبان کی بہ جاے عملا دے رہاہے-معاہدہ میں رکاوٹیں، عوام کا قتل،جیلوں میں ڈالنااور معصوموں کاخون بہانا۔ وہ اعمال ہیں جو اس پریشانی کی اصل وجہ بتاتے ہیں-
ملت یہ سمجھتی ہے کہ ہماری آزادی خارجی افواج کی انخلا سے جڑی ہے،استقلال اور حریت کاواحد طریقہ غیروں کی مداخلت کے رستے مسدود کرنا ہے۔ جبکہ اشرف غنی اپنی بقا امریکا کی موجودگی میں دیکھتاہے اور اسی کو اپناسب کچھ تصور کرتاہے – امریکی انخلا سے اسے اپنا اقتدار ختم ہونے کا ڈر لاحق ہے -اس لیے وہ بار بار ان کو یہاں ٹھرانے پر اصرار کررہاہے-
ساتھ میں قوم کو یہ بھی یقین ہے کہ اشرف غنی ان کانمائندہ ہے اور نہ ہی انہوں نے اسے منتخب کیاہے-وہ قوم کاخیرخواہ ہے اور نہ ہی غمخوار -اسے صرف اور صرف اپنی کرسی اور اقتدار کی فکر ہے چاہے اس کے بدلہ ملت خون میں لت پت ہو یا بے عزتی اور غلامی کی دلدل میں پھنسے۔ اس کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے-اسی لیے وہ غیروں کی چاپلوسی کے لیے آخری حدےتک جاسکتاہے-
لیکن اس کی یہ پریشانی،تشویش اور ڈھکوسلے اب کوئی کام نہیں آئیں گے۔ اس کے آقا اس سے بیزار اور ملت اسے مسترد کرچکی ہے۔ وہ کتناہی تگ ودو کرلے بہر حال اسے ناکامی اور مایوسی ہی ملے گی ان شاء اللہ۔

Related posts