جولائی 11, 2020

مذاکراتی عمل: مثبت بیانات کے ذریعے پیش رفت

مذاکراتی عمل: مثبت بیانات کے ذریعے پیش رفت

مستنصر حجازی
افغانستان کا مسئلہ پچھلے کئی دہائیوں سے بڑے اور مشکل مسائل کی فہرست میں رہا ہے۔ یہ مسئلہ افغانستان کے ظلم رسیدہ مسلمانوں کےلیے وبالِ جان بن چکا تھا۔ یہ دنیا کی پچھلے پچاس سالہ تاریخ کی کسی بھی استعماری قوت کی سب سے بڑی اور ظالمانہ جارحیت تھی جو ایک مسلمان ملک پرغصب کے لیے کی گئی تھی۔بیس سالوں کی جارحیت اور ظلم و ستم کے تمام طریقے آزمانے کے بعد بالآخر عالمی استعمار اپنے اُس مدمقابل قوت کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادہ ہوا جنھیں وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ دہشت گرد، انتہا پسند،عسکریت پسند اور نا جانے کن کن القابات سے یاد کیا کرتا تھا۔ مذاکرات کے معاملات طے ہوگئے، قیدیوں کی رہائی پر بات ہوئی اور افغانستان کی سر زمین سے بیرونی افواج کے انخلا کی تاریخ متعین ہوگئی۔امارت اسلامیہ کی قیادت نے مذاکرات کے دوران بیرونی افواج کے انخلا کو اولین شرط کے طور پر پیش کیا جسے پہلے ناقابل اعتنا اور بعد ازاں اسی طور پر تسلیم کرلیا گیا جس طرح امارت اسلامیہ کی قیادت چاہتی تھی۔
کسی بھی تنازعہ میں مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار مذاکرات کو عملی جامہ پہنانے کے دوران فریقین کے بیانات اور ایک دوسرے کے متعلق اظہار خیال پر ہوتا ہے/ کیوں کہ یہی سب سے نازک مرحلہ ہوتا ہے۔ معمولی سی بات پر تمام معاملات بگڑ بھی سکتے ہیں اور چھوٹی سی بات مثبت انداز میں کہہ دینے سے بات بن بھی سکتی ہے۔ لہذا مذاکرات کے معاملات کو احسن طریقے سے سلجھانے کے لیے دانش مندی دکھانے کا یہی بہترین موقع ہوتا ہے جس کا فریقین کو خیال رکھنا چاہیے۔امریکا اور طالبان مذاکرات کی خوش قسمتی کہیے کہ طرفین میں سے کسی نے بھی بیانات کے ذریعے ایسی صورت حال پیدا نہیں ہونے دی جس کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہوں۔ بالخصوص امریکی حکام نہایت احتیاط سے پالیسی بیانات دیتے رہے ہیں کیوں کہ انہیں اندازہ ہے کہ اگر مذاکراتی عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوگیا تو یہ امریکی مفاد ات کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے مرکزی کمانڈ کے سربراہ جنرل کیٹ میکنزی نے ایک تازہ بیان کے ذریعے مذاکرات کے معاملات کو مزید سلجھانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا "امریکا اور طالبان مذاکرات کی وجہ سے ہم افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد 12000 سے کم کرکے آٹھ یا چھے ہزار تک لے آئے ہیں اور مزید بھی اس میں کمی کی جارہی ہے۔” یہ بیان امارت اسلامیہ کی قیادت کو اعتماد دلانا ہے کہ امریکا پوری طرح مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے اور مطالبات پر عمل در آمد بھی کررہا ہے جوکہ مذاکراتی عمل میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کے بہت سارے مسائل کا حل بیرونی افواج کے انخلامیں ہے۔جس رفتار سے فوجی انخلا کا عمل شروع ہوگا اسی رفتار سے معاملات سلجھاو کی طرف جائیں گے۔
اگر معاہدے کی روح کے مطابق طالبان قیدیوں کا معاملہ بھی مقررہ وقت ہی پر حل ہوجاتا تو اب تک مذاکرات کے تمام معاملات حل ہوچکے ہوتے۔ اب مزید ان معاملات کا التوا کسی بھی فریق کے حق میں نہیں ہے۔ اس معاہدے کی تائید کرنے والے اقوام متحدہ اور نیٹو کو بھی کابل انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے حصے کا کام کر کے قیدیوں کی رہائی کا معاملہ جلد ہی نمٹائیں تاکہ مذاکرات کے معاملات آگے بڑھ سکیں۔

Related posts