جولائی 11, 2020

امن دشمنی کا نیاچہرہ

امن دشمنی کا نیاچہرہ

تحریر: سید عبدالرزاق
جون کی 13 تاریخ کو ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین نے دو بندے گرفتار کر کے ان کا بیان ریکارڈ کر رہے ہیں۔ یہ دو افراد اپنا تعلق داعش کے ساتھ بتا رہے ہیں۔ ان کے پاس اپنے اس تعلق کے ٹھوس ثبوت بھی ہیں۔ وہ یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ داعش کے افغان انٹیلی جنس NDS کے ساتھ کس طرح کے مضبوط روابط ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ مشہور جرنلسٹ اور افغان امن میں واضح کردار ادا کرنے والے وحید مژدہ کو انہوں نے قتل کیا تھا۔ اس قتل منصوبہ این ڈی ایس نے بنا کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ کابل میں دو پیش امام بھی این ڈی ایس کے منصوبے کے تحت قتل ہوئے تھے۔ انہوں نے حیران کن انکشاف یہ بھی کیا کہ این ڈی ایس کے سابق سربراہ اور حالیہ صدارتی انتخابات کے امیدوار رحمت اللہ نبیل نے انہیں امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ زلمے خلیل زاد کے قتل کامنصوبہ بھی دے رکھا ہے۔ جس کی رو سے اس وقت ان کا اہم مشن زلمے خلیل زاد کا قتل ہے۔
اگرچہ یہ ویڈیو چہ امارتِ اسلامیہ کے مرکزی اور رسمی عنوان کے تحت شائع نہیں ہوئی اور بعد میں بھی اس کی رسماً تائید نہیں ہوئی۔ البتہ اس ویڈیو نے دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔افغان میڈیا نے یہ ویڈیو ہاتھوں ہاتھ لی اور خوب پرچار کیا۔ افغان میڈیا کے بعد مشہور چینل الجزیرہ اور دیگر نے بھی اسے خوب پذیرائی بخشی۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے الجزیرہ کی اس رپورٹ پر اس مسئلے کو سنجیدہ لیا اور اس پر تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے اس اعلان کے بعد 20 جون کو شمشاد نیوز نے مرکزی ملزم رحمت اللہ نبیل کو اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے بہ طور مہمان مدعو کیا تھا۔ رحمت اللہ نبیل نے دورانِ گفتگو خود پر عائد الزام کی تردید یا توثیق کرنے کے بجائے زلمے خلیل زاد کو آڑے ہاتھوں لیا اور الزامات کی پوجھاڑ کر دی۔ خلیل زاد کو کو ذاتی مفادات کا اسیر کہا اور اس کے بیٹے پر سنگین کرپشن کا الزام لگا دیا۔ علاوہ ازیں اس نے امارتِ اسلامیہ کو ہمیشہ کی طرح بے بنیاد اور بلادلیل پاکستان کی مفادات کامحافظ قرار دیا اور اپنے اس دعوی پر کوئی بھی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
رحمت اللہ نبیل بڑے عرصے تک ایک اہم عہدے پر رہا ہے۔ وہ بے شمار ناحق قتل میں ریکارڈ رکھتا ہے۔ اس پر صرف ایک قتل کا الزام کیامعنی رکھتا ہے؟ اس وقت افغان عوام جارحیت سے خلاصی اور استعمار سے آزادی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ اس کے کچھ کچھ آثار بھی نمودار ہوئے ہیں۔ جن کی واضح مثال اٹھارہ ماہ کے طویل مذاکرات اور 29 فروری کو قطر میں ہونے والا معاہدہ ہے۔ ایسے میں ویڈیو کا آنا اور رحمت اللہ نبیل کے خلاف ناقابل ِ انکار حقائق سامنے آنا خود موصوف پر یہ ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ کھلم کھلا امن دشمن منصوبوں کا اعتراف کرتا اور اپنی اصلیت بتلا دیتا یا ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر عدالت دامن پکڑتا۔ عوام کو اضطرابی کیفیت سے نکالنے میں کردار ادا کرتا۔ اس نے الٹا خود پر عائد الزام کو خاطر میں نہ لاتے ہوے مزید الزامات کا سہارا لیا ہے۔ اس کاواضح مطلب ہے کہ انہیں عوام کو امن اور اطمینان کی زندگی گزارنا نہیں اچھا نہیں لگتا۔
ان کے الزامات کا رخ طالبان اور زلمے خلیل زاد کی طرف تھا۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زلمے خلیل زاد نے مذاکرات میں بھرپور امریکی نمائندگی سرانجام دی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قیامِ امن میں ان کی کوششیں بہت اہم رہی ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے افغان عوام کی امنگوں کی جو ترجمانی کی اور اس راہ میں ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں، وہ بھی قوم کے بھی سامنے ہے۔ ایک دنیا طالبان کے کردار سے واقف ہے۔ ایسے میں امارتِ اسلامیہ یا خلیل زاد پر کوئی الزام لگانا اس کے علاوہ کیامعنی رکھتا ہے کہ داعش اور اشرف غنی انتظامیہ کو عوام کی خوشی برداشت نہیں ہے۔ بجا طور پر پتا چلتا ہے کہ ویڈیو میں موصوف پر عائد الزامات نہ صرف حقیقت ہیں، بلکہ موصوف اس سے بھی زیادہ سچے الزامات کے حامل ہیں۔

اشرف غنی اور افغان انٹیلی جنس کا یہ کردار کوئی قابلِ تعجب نہیں ہے۔ اس کی حکمرانی اور بالادستی اور اس کی ہوس پرستی تب ہی قائم رہ سکتی ہے، جب عوام باہم دست و گریبان ہوں۔ وہ خون میں لت پت اور مشکلات و مصائب میں گھرے رہیں۔ اگر عوام کو امن و اطمینان نصیب ہوگا (اور یقینا ہوگا۔ ان شاءاللہ) تو دشمن کی تمام محنت رائیگاں چلی جائے گی۔ اس لیے دشمن یہ کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح امن کی فضا برباد رہے۔البتہ دشمن کو یاد رکھنا ہوگا کہ اس کی یہ عوام دشمنی بہرحال آشکارا ہو جائے گی۔ ان شاء اللہ

Related posts