جولائی 11, 2020

سو فیصد اسلامی نظام کیوں؟

سو فیصد اسلامی نظام کیوں؟

تحریر:سیدعبدالرزاق

امارتِ اسلامیہ کے مرکزی ترجمان جناب ذبیح اللہ مجاہد نے 16 جون کی رات ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں دوٹوک کہا کہ ‘ہم کبھی بھی کرپٹ اور فساد زدہ نظام کاحصہ نہیں بنیں گے۔ ہم عوام کی تمناؤں کو ذاتی مفادات اور کرسی کے لیے قربان نہیں کریں گے۔ ہم اس سو فیصد صحیح اسلامی نظام قائم کریں گے۔ ہم عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے۔ ہمارا معاملہ ان لوگوں سے ہے، جو افغانستان پر امریکی بالادستی اور مغربی کلچر کو فروغ دینا چاہتے اور وہ اسی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔’
ذبیح اللہ مجاہد کی یہ باتیں جہاں عوام کی امیدوں کی ترجمانی اور باعث مسرت ہیں، وہیں اس میں ایک اہم پیغام مضمر ہے۔ وہ پیغام سمجھنے کے لیے یورپ کی تاریخ پر نظر ڈالنا ہوگی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اہلِ مغرب جہاں گئے، وہاں اپنا سکہ جمانے کے لیے پوری توانائی استعمال کی گئی ہے۔ اس نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے مختلف حسین اور دل فریب نعروں کا استعمال کیا۔ مقبوضہ ملک میں کچھ ضمیرفروش ڈھونڈ کر ان سے اپنے مقصد کے لیے خاطرخواہ فائدہ اٹھایا۔ مغرب نے دنیا کو دکھانے کی حد تک اپنی قبضہ مہم تو روک دی، البتہ وہ اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے ضمیرفروشوں کو اپنا جانشین بنا گیا، جس کانتیجہ یہ ہواکہ جو نقصان ان غداروں نے پہنچایا، اتنا نقصان تو شاید مغرب خود نہیں پہنچا سکا۔
ذبیح اللہ مجاہد اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ اب کی بار ایسانہیں ہوگا۔ استعمار کے انخلا کے ساتھ اس کے نمک خواروں کو بھی اپنا بوریا بستر گول کرنا ہوگا۔ یہاں امریکا کے ساتھ لڑائی اور محاذ آرائی محض ان کے ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے نہیں تھی۔ یہ کشمکش اور اس عوام کی قربانیاں اس نظام کے خلاف سامنے آئی ہیں، جو امریکا یہاں مسلط کرنا چاہتا ہے۔یہ سختیاں اور مصائب اس لیے برداشت کیے گئے ہیں، تاکہ اس قانون اور دستور کو روندا جائے، جو مشرقی اور اسلامی ثقافت برباد کرنا چاہتا ہے۔افغانستان کے عوام کے اس مردانہ وار مقابلے کامقصد ہی یہ ہے کہ اپنی روایات، اقدار اور اپنا تشخص برقرار رکھا جا سکے۔ تاریخی ظلم و ستم اور وحشت و درندگی کے سامنے اپنی کمزوری کااعتراف نہ کرنا اور اس سب کے سامنے سدِّسکندری بننا یہی معنی رکھتا ہے کہ نسلِ نو مغرب کی زہرآلود تہذیب سے بچ سکے۔
یہ تمام اہداف تبھی حاصل ہو سکتے ہیں، جب ملک میں حقیقی اسلامی نظام نافذ ہو۔ اس نظام کی اس حیثیت سے حکمرانی ہو، جس میں دیگر نظاموں، ثقافتوں اور تہذیبوں کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ اسلامی نظام اپنی انہی بنیادوں پر قائم کیا جائے، جو مسلمانوں کو وحی کی ابدی رہنمائی سے حاصل ہے۔ اسے نافذ کرنے کا اختیار ان افراد کے ہاتھ میں ہو، جن کی تعلیم و تربیت اسی نظام کے سائے تلے ہو چکی ہو۔ جن کی بود و باش اسی نظام میں ہوئی ہے۔ جن کا کردار اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے قربانیوں سے بھر پور ہو۔ جن کی عوام سے وفاداری، وطن دوستی، اسلام پرستی اور آزادی و حریت سے عشق ثابت ہو چکا ہو۔ جن کاکردار سچائیوں اور حقائق پر مبنی سب کے سامنے عیاں ہو۔
اسی طریقے سے افغانستان کو صحیح آزادی ملے گی۔ یہ عوام تب یہ آزادی کی چھاؤں میں بیٹھ سکے گی۔ ظاہر ہے اگر مغربی کارندے یہاں موجود ہوں گے، مغرب کے وفادار یہاں راج کریں گے تو اسلامی نظام کاشیرازہ بکھر جائے گا۔ افغانستان کی آزادی سلب ہو جائے گی۔ اگر یہاں مغرب کا ایک بھی وفادار باقی رہا تو عوام نت نئے مصائب کا شکار ہوں گے۔ جن کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے ذبیح اللہ مجاہد کایہ کہنا بالکل بجا اور عوام کی امنگوں کی سوفیصد ترجمانی ہے کہ ‘ہم کبھی بھی کرپٹ اور فساد زدہ نظام کاحصہ نہیں بنیں گے۔’

Related posts