جولائی 11, 2020

 5000 قیدیوں کا عمل کیسا مکمل ہوگا؟

 5000 قیدیوں کا عمل کیسا مکمل ہوگا؟

آج کی بات

کچھ ذرائع اور بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ کابل انتظامیہ کی جیلوں سے تمام 5 ہزار قیدیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا ، بلکہ ہوسکتا ہے کہ کسی بہانے پر دو یا تین سو قیدیوں کو رہا نہ کیا جائے۔

اس کی بہت ساری وجوہات ہیں ، ایک یہ کہ اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا ہے ، شاید اس لئے کہ کچھ قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاسکتا ہے. دوسرا یہ کہ زیرحراست افراد میں سے کچھ پھانسی یا عمر قید کی سزا اور کچھ قیدی مخصوص افراد کے قتل میں ملوث ہیں اس لیے انہیں رہا کرنے میں قانونی پیچیدگیاں رکاوٹ ہیں. تیسرا یہ کہا جاتا ہے کہ دوحہ معاہدہ میں یہ نہیں لکھا ہے کہ پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کیا جائے گا بلکہ یہ لکھا ہے کہ پانچ ہزار تک قیدی رہا کیے جائیں گے۔

پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ اس حوالے سے امارت اسلامیہ کا موقف بالکل واضح ہے کہ افغانستان امن عمل دوحہ معاہدے کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے، اگر اس کے علاوہ کوئی اور روڈ میپ لاگو ہوتا ہے یا خفیہ مقاصد کے لئے رکاوٹیں اور بہانے بنائے جاتے ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ امن عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔  لہذا امارت اسلامیہ اس کے علاوہ کسی اور منصوبے پر یقین نہیں رکھتی ہے۔

دوسرا مسئلہ مذکورہ وجوہات کا ہے ، پہلی وجہ اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ ہے ، افغانستان کی جیلوں میں خاص طور پر پانچ ہزار قیدیوں کی اس فہرست میں کوئی ایسا قیدی نہیں ہے ، جو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہے۔  یہ بہانہ مضحکہ خیز لگتا ہے ، دوسری وجہ کچھ لوگوں کی قانونی پیچیدگیوں کے بارے میں ہے ، یہ بھی ناقابل قبول ہے کیونکہ قیدیوں کی رہائی کا عمل ایک معاہدے کے تحت ہورہا ہے، یہاں فریق مخالف اپنے تمام قانونی حدود کو توڑنے کا پابند ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو یہ عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، اور ایک قیدی کو بھی ان کے اصولوں کے مطابق رہا نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ دوحہ معاہدے میں پورے پانچ ہزار قیدیوں کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے، بلکہ (پانچ ہزار تک) امر پر اتفاق ہوا ہے. اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں سیکڑوں ، یعنی دو یا تین سو قیدیوں کو رہائی کے عمل سے روکا جائے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہاں دو ، تین ، پانچ یا چھ افراد رہ جائیں، اور وہ بھی فریقین کے درمیان اتفاق رائے قائم ہونے تک اگر کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے تو اس وجہ سے بات چیت کا عمل معطل نہیں ہونا چاہئے۔  .

لیکن اب اگر دوسرا فریق اس نکتے ات فائدہ اٹھاتے ہوئے سیکڑوں قیدیوں کی عدم رہائی کی بات کرتا ہے تو یہ معقول نہیں ہے اور اس عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

امارت اسلامیہ کا مؤقف یہ ہے کہ اپنی جانب سے اس معاہدے کی ہر شق کے لئے پوری طرح پرعزم ہے اور فریق مخالف کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی ، لہذا اگر سیکڑوں قیدی زیر حراست رہیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قیدیوں کی رہائی جس عمل مکمل نہیں ہے۔

Related posts