جولائی 11, 2020

امریکا مزید جانی و مالی نقصان سے بچے

امریکا مزید جانی و مالی نقصان سے بچے

آج کی بات
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے گزشتہ روز امریکی فوجی اکیڈمی سے فارغ ہونے والے فوجیوں کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ‘اب آپ کو ابدی جنگ کی طرف نہیں بھیجا جائے گا۔ اب آپ ان ممالک میں لڑائی نہیں کریں گے، جن کے نام زیادہ تر امریکیوں کو معلوم نہیں ہیں۔ اب آپ قدیم اقوام کی جنگوں میں شامل نہیں ہوں گے۔’
ظاہر ہے ان جنگوں سے ٹرمپ کا مقصد افغانستان کی طویل جنگ ہے، وہ گزشتہ دو دہائیوں سے اس کا شکار ہیں۔ اس دوران امریکا کو جانی نقصان کے علاوہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی پہنچا ہے۔ کئی بار امریکی اعلی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ وہ افغان جنگ نہیں جیت سکتے۔
ٹرمپ نے بجا طور پر کہا ہے کہ ان کی افواج اب قدیم اقوام کی جنگوں میں شامل نہیں ہوں گی۔ کیوں کہ افغانستان میں جاری طویل جنگ نے بین الاقوامی سطح پر امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وہ اس کے باعث شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ حال ہی میں ہونے والے سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا میں عوامی سطح پر اس جنگ کی حمایت بہت کم ہو گئی ہے۔ لوگ بہ خوبی جانتے ہیں کہ امریکی حکمرانوں نے اس جنگ کے بارے میں جھوٹے وعدے کیے تھے۔
آج سے تقریبا 20 سال قبل امارت اسلامیہ کے بانی مرحوم امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ ‘وہ افغانستان پر قبضہ کرنے کے ارادے سے دست بردار ہو جائے کیوں کہ افغانستان کو ترنوالہ سمجھنے والا کوئی بھی جنگجو افغان سرزمین کو ہضم نہیں کر سکا۔ امریکا کو افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ نہیں کرنا چاہیے۔ ورنہ وہ ایسی جنگ میں پھنس جائے گا، جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔’
مرحوم ملا صاحب کی پیش گوئی سچ ہو گئی ہے۔ امریکا ایک ختم نہ ہونے والی جنگ میں الجھ گیا ہے۔ ٹرمپ کو اپنے وعدوں پر قائم رہنا چاہیے اور جلدازجلد افغانستان سے اپنی تمام فوج واپس بلانے کی ضرورت ہے۔ افغان عوام کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔
امارت اسلامیہ اور امریکا کے درمیان رواں سال فروری میں دوحا میں ہونے والا معاہدہ افغانستان کی موجودہ پیچیدہ صورت حال سے نکلنے کا بہترین اور مختصر راستہ ہے۔ اس معاہدے کا مکمل نفاذ افغانستان اور امریکا دونوں کے مفاد میں ہے۔ افغان قوم اپنی آزادی دوبارہ حاصل کرے گی۔ وہ اپنے طور پر ایک مضبوط اسلامی ریاست بنائے گی اور امریکی قوم مزید جانی اور مالی نقصان اور بین الاقوامی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کے مزید خراب ہونے سے بچ جائے گی۔

Related posts