جولائی 11, 2020

اقوام متحدہ کی غیر مستند رپورٹ کا مقصد

آج کی بات

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے میڈیا کو ایک خبر بھیجی ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اب بھی ہزاروں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں اور امارت اسلامیہ ان کے ساتھ رابطے میں ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2019 سے اب تک طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلقات ہیں اور القاعدہ طالبان کی مدد سے افغانستان میں ایک بار پھر مضبوط ہو گئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ رپورٹ سلامتی کونسل کے (تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی مانیٹرنگ گروپ) نے تیار کی تھی اور 27 مئی کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی۔ جب کہ دوحہ معاہدے میں لکھا گیا تھا کہ 29 مئی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس موضوع پر بحث کی جائے گی کہ امارت اسلامیہ کے رہنماوں کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے ہٹایا جائے۔ تاکہ افغان امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ اس فیصلے کی اقوام متحدہ نے قطر معاہدے کے دوران توثیق کی تھی۔

اس رپورٹ میں مذکورہ بالا بیان کی طرح بہت ساری غیر مستند اور غیر یقینی باتیں شامل کی گئی ہیں جو اقوام متحدہ جیسا بین الاقوامی ادارہ تو کجا ایک باشعور شخص بھی اس کو کہنے سے شرم محسوس کرے گا۔

کیونکہ دور سے پتہ چلتا ہے کہ اس بے بنیاد اور بے دلیل الزام تراشی کا مقصد صرف اور صرف امریکہ اور امارت اسلامیہ کے مابین معاہدے کو کمزور کرنا اور خود کو بری الذمہ قرار دینا ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے نام پر افغانستان کے بارے میں متعدد بار ایسے بے بنیاد اور متعصبانہ بیانات نے اس کی حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ایسا کرتے ہوئے کوئی بھی توقع نہیں کر سکتا کہ اس کو ایک ثالث اور غیر جانبدار ادارے کی حیثیت سے دیکھے۔

دوحہ معاہدے کے مطابق جو سب سے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کی توثیق کی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ معاہدے کے بعد دس دن کے دوران قیدیوں کا تبادلہ مکمل کیا جاتا، بین الافغان مذاکرات شروع ہوتے جس میں افغانستان کے مستقبل کے نظام ، جنگ بندی اور دیگر متعلقہ امور پر سنجیدہ بات چیت ہونی چاہئے تھی۔ تمام افغان ایک مثبت نتیجہ تک پہنچ جاتے۔ لیکن افسوس کہ امریکہ نے بھی اس حوالے سے کماحقہ کردار ادا نہیں کیا، نہ اقوام متحدہ نے اور نہ ہی دیگر اسٹیک ہولڈرز نے۔

یہی وجہ ہے کہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کے بجائے آج تک وہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔

مختصر یہ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی یہ غیر مستند رپورٹ غلط ہے، جو صرف اپنے عزم اور ذمہ داری سے بچنے کے لئے شائع کی گئی۔

Related posts