جولائی 09, 2020

امارت اسلامیہ کی عام معافی اور امن کی آواز

امارت اسلامیہ کی عام معافی اور امن کی آواز

آج کی بات

 

امارت اسلامیہ کی قیادت کی جانب سے عام معافی کے اعلان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کابل انتظامیہ کے سینکڑوں اہل کاروں نے حال ہی میں کابل انتظامیہ سے علحیدگی اختیار کرکے امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 150 سے زائد فوجیوں ، پولیس اہل کاروں اور کابل انتظامیہ کے دیگر ممبران فراہ ، لغمان ، بلخ اور بغلان میں مجاہدین میں شامل ہوئے۔

امارت اسلامیہ نے معمول کے مطابق ان کے اس جرات مندانہ اقدام کو سراہا ، ان کا خیرمقدم کیا اور انہیں عام زندگی کی طرف گامزن کردیا۔  یہ بات خوش آئند ہے کہ قابض قوتوں کے پروپیگنڈے سے متاثر اور ڈالر کی وجہ سے ورغلائے گئے لوگ اب حقیقیت سمجھتے ہیں اور غیرملکیوں کے مقاصد کے لئے اپنے مسلمان بھائیوں کو قتل کرنے سے باز آتے ہیں اور یوں اپنی دنیا اور آخرت کو تباہی سے بچاتے ہیں۔

امارت اسلامیہ ایک بار پھر مخالف صف میں شامل تمام لوگوں سے غیر ضروری اور بلاجواز مخالفت کو ترک کرنے کی تاکید کرتی ہے ، یہ ان کے لئے ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی قوم کی طرف واپس آئیں ، کیونکہ وہ جن کے لئے اپنے مسلمان بھائیوں کو نشانہ بنارہے تھے وہ آہستہ آہستہ ان سے چھٹکارا پانے جارہے ہیں۔  بہتر ہوگا کہ کابل انتظامیہ کی صف میں شامل اہل کاروں کو ہوش کا ناخن لینا چاہیے اور ہوس اور انا کی بجائے اپنی جان، اللہ ، دین ، ​​ملک اور عوام کی خاطر  دوسروں کی دنیا کو تباہ کریں اور نہ ہی اپنی دنیا اور  آخرت کو داو پر لگائیں۔

امارت اسلامیہ نے ان کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں ، جب بھی وہ آئیں گے ہیروز کی طرح ان کا استقبال کیا جائے گا ، ماضی میں ان کی غلطیاں معاف کردی جائیں گی ، ان سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا اور امن و سکون کے ماحول میں دوسرے عام شہریوں کی طرح انہیں بھی عام زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔  کابل انتظامیہ کی صف میں اپنے مسلمان بھائی کے خلاف لڑنے سے انکار کرنے پر اس انتظامیہ کے ارکان ایک عارضی اور معمولی فائدہ کھو کر مستقل عزت، اطمنان اور دارین کی بربادی سے نجات حاصل کرتے ہیں۔

ان شاء اللہ

Related posts