جولائی 09, 2020

یکم جون ایک عہدساز دن

یکم جون ایک عہدساز دن

سیدعبدالرزاق
عام طور سے میڈیا اور دیگر سیاسی وسماجی ادارے یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ سوفیصد سچ بتاتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اپنے دور کے بااثر افراد اور طاقت کے زیرِاثر چلتے ہیں۔ یہ ہمیں کتنا ہی اطمینان دلانے کی کوشش کریں، کتناہی باور کرائیں کہ وہ حق اور سچ کی خاطر اپنی جان کھپاتے ہیں، لیکن ان کاعمل اور کردار بذاتِ خود ان کی باتوں کی نفی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر میڈیا مظلوم کی دہائی دیتا نہیں تھکتا۔ کڑوا سچ یہی ہے کہ اس نے کبھی مظلوم کی داد رسی نہیں کی ہے۔ افغانستان پر امریکی جارحیت کے وقت افغانوں پر کیاگزری؟ میڈیا ہمیں صرف یہ بتاتا رہا کہ وہاں چند قاتل، دہشت گرد، عالمی اصول سے نابلد لوگ تھے، جن کے خاتمے کے لیے امریکا نے یہ سب کچھ کیا۔
کیا امریکا کا کسی ملک کی پالیسی میں دخیل ہونا عالمی اصول کی رو سے درست عمل تھا؟ ہمیں اس بحث میں پڑنے سے ہی روک دیا گیا۔ صرف اتنا بتایا کہ جو ہوا درست ہوا اور امنِ عامہ کی خاطر ہوا۔ امریکا افغانستان میں کیا کرے گا؟ کب تک رہے گا؟ وہاں کے لوگوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرے گا؟ اقوامِ عالم کے ہاں اس بارے کیا دستور ہے؟ اس کی پابندی کا امریکا ذمہ دار ہے یا نہیں؟ سرِدست یہاں ان باتوں کو موضوعِ سخن بنانے کی حاجت ہی نہیں سمجھی گئی کہ وہ ہی زور و شمشیر کا مالک ہے۔ اسے کسی دستور کی پابندی کی ضرورت ہی کیا ہے؟
چوں کہ ایک طرف اس کائنات کا مالک یہ سب دیکھ رہا ہے۔ اس لیے امریکا کی انتہا درجے کی سازشی کوششوں کے باوجود کامیابی سچ کو ہی ملی۔ 2001 میں امریکی جارحیت کے نتیجے میں افغان غیور ملت کے لاتعداد جانبازوں کو بغیر کسی مقدمے اور جرم کے پابندِسلاسل کر دیا گیا۔ گوانتاناموبے جیسا بدنامِ زمانہ زندان ان مظلوموں سے بھر دیا گیا۔ وہاں مظالم و درندگی کے ایسے کارنامے رقم ہوئے، جن کاانسانیت کی تاریخ میں کسی نے سوچا نہیں تھا۔ طرفہ تماشا یہ کہ یہ سب خود کو معزز، متمدن اور تہذیب کا رکھوالا سمجھنے والی قوم کی طرف سے دیکھنے کو ملا۔ اس ظلم سے بڑھ کر ظلم یہ رہا کہ دنیاکے کسی بھی سطح کے میڈیا، انسانی حقوق کے ادارے، سیاسی و سماجی شخصیت نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ الٹا یہ باور کرایا جاتا رہا کہ چوں کہ طالبان ہی ظالم ہیں۔
جب غیور افغان عوام نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور دفاعی پوزیشن سنبھالی تو حق اور سچ کے ان نام نہاد علم برداروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دفاع کے حق کو بھی ظلم ثابت کرنا شروع کر دیا۔ مثل ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ ہزار سمجھایا کہ طالبان مجرم نہیں ہیں۔ لاکھ صدائیں دیں کہ ہم بے گناہ ہیں۔ اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ مجبوراً امریکا کی زبان میں نمٹنا شروع کیا تو نتیجہ دوحا مذاکرات کی بھیک کی صورت برآمد ہوا۔
ٹھیک چھ سال پہلے یکم جون کو ایک امریکی فوجی کے بدلے امارتِ اسلامیہ کے پانچ بہادروں کو رہائی دلائی گئی۔ ایک طرف یہ لمحہ امارتِ اسلامیہ کے لیے انتہائی قابلِ مسرت اور خوش کن تھا۔ وہیں یہ تاریخی طور پر پوری امتِ اسلامیہ کے لیے قابلِ صد افتخار تھا۔ جس امریکا کے سامنے اس کی مرضی کی ادنی مخالفت کرنے والی کی موت کنفرم سمجھی جاتی تھی، اب وہی امریکا گھٹنے ٹیکے فرزندانِ توحید کے سامنے مذاکرات کے لیے مجبور ہوگیا۔ امارتِ اسلامیہ کے ان شیروں نے ثابت کیا کہ جس امریکا کو دنیا خداسمجھے ہوئے تھی، جس کی نافرمانی کو ہلاکت سمجھا جاتا تھا، اسی امریکا کی نافرمانی کی جا سکتی ہے۔ اس کی مخالفت ہو سکتی ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھانا ایک طرف، اُس کی عقل ٹھکانے لانے تک اس کے ساتھ اسلحے کی بات ہی سب سے بہترین حل ہے۔
6 سال قبل امارت اسلامیہ کے جو رہنما رہا کرائے گئے، وہ یہ پیغام دے رہے تھے کہ امریکا کی بیڑیاں، جیلیں، سختیاں اور انتہا درجے کے مظالم سہے جا سکتے ہیں، لیکن امریکا کی افغانستان میں دخل اندازی کسی صورت برداشت نہیں ہے۔ اس تاریخ ساز دن کی مناسبت سے یہ ایک شعر ان غیور سپاہیوں کے نام ؎
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

Related posts