جولائی 09, 2020

دشمن کی دوغلی پالیسی

دشمن کی دوغلی پالیسی

تحریر: سید عبدالرزاق
عید کے بابرکت موقع پر امارتِ اسلامیہ کی روزِ اول سے پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ جنگ موقوف کر دیتی ہے۔اس حوالے سے اگرچہ اعلان نہ بھی ہو، مگر عملاً یہی طریقہ رہا ہے۔مجاہدین عید کے تین روز تک اقدامی جہاد کے بجائے دفاعی طور پر مورچے سنبھالے رہتے ہیں۔ گزشتہ سال دشمن کے منفی اور زہرآلود پروپیگنڈے کو ختم کرنے کے لیے باقاعدہ ان تین دنوں میں جنگ بندی کا اعلان بھی کیا گیا۔ یہ امارت اسلامیہ کے لیے ایک معمول کا کام تھا۔ البتہ دنیا اس سے بے خبر تھی، بہرحال اُس نے طالبان کا یہ عمل قابلِ تحسین قرار دیا۔
رواں سال بھی امارت نے عید کے موقع پر اعلان کیا کہ مجاہدین تین دن دفاعی پوزیشن میں رہیں گے۔ جتنا ممکن ہو، یہ تین دن اپنے مظلوم عوام کی خدمت، غم گساری اور ان کے ساتھ ہمدردی میں گزاریں۔ امارت کے اس اعلان پر کابل انتظامیہ نے خیرمقدم کا اظہار کیا اور بھرپور تحسین و پذیرائی کی۔ دونوں جانب سے یہ عمل دنیا نے بھی پسند کیا اور نیک فالی کا اظہار کیا۔ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ کم از کم تین دن فریقین اپنی بات پر قئم رہیں گے۔ جو زبان سے کہا گیا ہے، ویسا ہی عمل ہوگا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کابل انتظامیہ نے اپنی بات کے برخلاف انتہائی بھونڈا انداز اپنایا۔ اُسن نے عید کے دن کا لحاظ بھی نہ کیا اور ظالمانہ کارروائی کرتے ہوئے عید کے پہلے روز صوبہ لغمان کے ضلع علی شنگ کے کچھ گھروں پر میزائل داغے، جس سے کئی مظلوم شہری شہید ہو گئے۔
کابل انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ 2 ہزار قیدی رہا کیے جائیں گے۔ اگرچہ قیدیوں کی یہ رہائی دوحا معاہدے کے تحت ہے، پھر بھی کابل انتظامیہ اپنی طرف سے یہ دکھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ گویا یہ رہائی عید کی خوشی اور طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے پیش نظر رو بہ عمل لائی گئی ہے۔ بہرحال کوئی بھی وجہ ہو، عید کے تیسرے روز 9 سو قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی۔ بعض قیدی اسی دن اپنے اہل ِ خانہ تک پہنچ گئے، جب کہ کچھ نے رات رستے میں گزاری اور وہ اگلے دن اپنے گھر پہنچ گئے۔ اپنے قیدیوں کو وصول کرنے کے لیے ان کے اہل خانہ استقبال کے لیے آئے تھے۔ اسی دوران ایک دل خراش واقعہ پیش آیا۔ صوبہ زابل کے ضلع شاہ جوئی ضلع میں ایک قیدی کے اہلِ خانہ اسے لینے آئے تھے۔ آنے والوں میں قیدی کے بچے اور بھائی بھی شامل تھے۔ ابھی وہ انتظار میں تھے کہ بوکھلاہٹ زدہ دشمن نے ان پر فضائی بمباری کر دی، جس سے وہاں موجود معصوم بچے شہید ہو گئے۔
دشمن کی یہ شرم ناک کارروائی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس طرح کا دوغلاپن اس کے رگ و پے میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ ہمیشہ سے اس کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ایک جانب امن کی دہائی دیتا نہیں تھکتا اور دوسری جانب نہتوں کا خون کر کے خود امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے میں بھی پیش پیش رہتا ہے۔

Related posts