جولائی 09, 2020

عارضی سے مستقل جنگ بندی بہتر ہے

عارضی سے مستقل جنگ بندی بہتر ہے

آج کی بات

 

اگرچہ طویل عرصے سے عید کی خوشیوں کے دوران غیر اعلانیہ عارضی جنگ بندی کرنا امارت اسلامیہ کا معمول رہا ہے ، جس نے ہمیشہ عید کے دوران اقدامی جنگ کی سطح کو صفر تک کم کردیا ہے۔ لیکن اس بار اور پچھلی بار عید الفطر کے موقع پر جنگ بندی کے اعلان کو عوامی سطح پر کافی پذیرائی ملی جیسا کہ کوئی نیا فیصلہ آیا ہے۔

عوام کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا بھرپور خیرمقدم کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ ناجائز فوجی قبضے کی وجہ سے مسلط شدہ جنگوں سے کتنے تنگ آچکے ہیں، جو جنگ بندی کے چند لمحوں کو بھی غنیمت سمجھتے ہیں!

امارت اسلامیہ جو اس طویل جنگ کا شکار ہے۔ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ افغانستان کو نہ صرف مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے ، بلکہ جنگ اور اس کے اسباب کے مستقل خاتمے کی بھی ضرورت ہے۔ افسوس کہ عارضی جنگ بندی کے ذریعے افغان مسئلہ کبھی بھی حل نہیں ہوسکتا۔

اگر عارضی جنگ بندی کرنا کسی مسئلہ کا حل ہوتا تو امارت اسلامیہ سب سے پہلے اس کو ترجیح دیتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ عارضی جنگ بندی افغانستان کے بحران کے خاتمے کا حل قرار دینا جھوٹی کوشش ہے جس پر ہمیشہ فریق مخالف زور دیتا ہے۔

افغان عوام کو ہمیشہ کے لئے جنگ کے خاتمے کی ضرورت ہے ، اور یہ جنگ تب ہی ختم ہوسکتی ہے جب اس کے اسباب ختم ہوجائیں گے۔ وجوہات ظاہر ہیں کہ بیرونی جارحیت اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والا سیٹ اپ ہے جو افغانوں کی امنگوں اور ان کی قومی اقدار کے تحفظ کے بجائے قابض قوتوں کے اہداف کا محافظ نظام سمجھا جاتا ہے۔

اسی لئے امارت اسلامیہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر زور دے رہی ہے ، جس سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی ، جہاں جنگ کی باقی وجوہات کے خاتمے اور ملک میں پائیدار امن ، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے پر تبادلہ خیال ہوگا۔

بہرحال امارت اسلامیہ ایسے کسی بھی اقدام کی تعریف کرتی ہے جو امن کی طرف گامزن ہوگا، بین الافغان مذاکرات کے لئے ماحول سازگار بنائے گا ملک میں پائیدار امن ، سلامتی اور استحکام جس سبب بنے گا اور بالآخر ایک جامع ، آزاد اور مستحکم اسلامی نظام کے قیام کا باعث بنے گا۔ دوسری طرف سے دو ہزار  قیدیوں کی رہائی کا اعلان اچھی خبر ہے اور معاہدے پر عمل درآمد کرنے سے ہم دوسرے پرامن مراحل کے قریب جاسکتے ہیں۔  ان شاء اللہ

Related posts