جولائی 09, 2020

درست حملے اور آندھا دھند بمباریاں

درست حملے اور آندھا دھند بمباریاں

تحریر: حبیب مجاہد
ملک میں جاری جنگ کے حوالے سے ایک اہم موضوع عام شہریوں کی ہلاکتوں کا مسئلہ ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر شہری ہلاکتوں کا الزام لگاتے ہیں۔ اگرچہ جنگ میں عام طور پر شہریوں کو نقصان ہوتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ فریقین اپنے اپنے اصولوں کے مطابق شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لئے کتنے حساس اور سنجیدہ ہیں اور وہ اس کے لئے کتنے محتاط ہیں۔
اگر ہم فوجی آپریشنوں اور دونوں اطراف کے حملوں پر نظر ڈالیں تو ہم معلوم ہوتا ہے کہ اس میں شامل فریقین کے درمیان زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ قابض افواج اور افغان فورسز جو جدید ہتھیاروں سے لیس اور جنگی ٹکنالوجی سے آراستہ ہیں، ان کے حامی بعض اوقات دعویٰ کرتے ہیں کہ زمین کے اندر کچھ سنٹی میٹر تک اپنے اہداف کو دیکھنے اور گولی مار سکتے ہیں۔ لیکن ان دعوؤں کے باوجود وہ لوگوں پر اندھا دھند بمباری کر رہے ہیں اور بار بار مکمل گائوں کو مٹی کا ڈھیر بناتے ہیں۔ اسی طرح افغان اہل کار دور دراز دیہاتوں پر مارٹر گولے فائر کرتے ہیں اور رات کے چھاپوں میں بھی زیادہ تر نہتے شہری لقمہ اجل بنتے ہیں۔
دوسری طرف امارت اسلامیہ کے مجاہدین جو بہت کم وسائل کے ساتھ جہاد کررہے ہیں، وہ جہاد کے اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہیں اور شہری ہلاکتوں کی روک تھام کو اپنی جدوجہد کا ایک اہم اصول سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ شہروں جیسے پیچیدہ علاقوں میں بھی وہ کاروائیاں کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے حملوں میں عام شہریوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے اور اگر نقصان ہوتا بھی ہے تو وہ معمولی ہوتا ہے۔
پچھلے دنوں اشرف غنی کے اعلان جنگ کے بعد مجاہدین نے گردیز اور غزنی میں کار بم حملے کیے۔ تین دن قبل گردیز کے ایک فوجی کلب پر فدائی حملہ ہوا۔ فدائی مجاہد نے صرف فوجی کلب کی عمارت اور اندر موجود فوجیوں کو نشانہ بنایا جس سے عمارت تباہ اور اس میں درجنوں اہل کار ہلاک ہوئے، طالبان نے گردیز حملہ اس طرح کیا کہ مخالفین اور میڈیا کو منفی پروپیگنڈا کرنے یا شہری ہلاکتوں کا دعوی کرنے کا موقع نہیں ملا اور نہ ہی میڈیا نے کسی شہری کے نقصان کا کوئی ثبوت پیش کیا۔
اسی طرح مجاہدین نے گزشتہ روز غزنی شہر میں ایک خصوصی انٹیلی جنس یونٹ پر ہموی ٹینک سے فدائی حملہ کیا۔ یہ حملہ غزنی شہر میں ہوا اور انٹیلی جنس سنٹر کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا، اس حملے کی منصوبہ بندی بھی اس طرح کی گئی تھی جس میں کسی شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ غزنی کے گورنر کے ترجمان اور مقامی حکام نے بھی ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ اس حملے میں کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا ہے۔
مجاہدین کے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی شرح بلکل نہ ہونے کے برابر ہے اور مخالفین کی طرف سے روزانہ فضائی اور ڈرون حملوں، گولہ باری اور رات کے چھاپوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وجہ اسلحے کی نوعیت نہیں ہے بلکہ بنیادی وجہ یہ ہے کہ فریقین شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے کتنے سنجیدہ اور پرعزم ہیں۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین افغان عوام کو اپنی عوام سمجھتے ہیں، ان کی مشکلات سے انہیں تکلیف پہنچتی ہے اور ان کے غم و درد میں شریک ہوتے ہیں لہذا وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے حملوں کے دوران شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہ ہو لیکن دوسری طرف فریق مخالف جو کابل سے زیادہ نیو یارک کے تحفظ کے لئے فکر مند ہے، وہ پورے افغان عوام کو اپنا دشمن سمجھتا ہے، اس لئے وہ بلا روک ٹوک عوام کو نشانہ بنارہے ہیں۔

Related posts