جولائی 09, 2020

ہولناک سانحات اور کابل انتظامیہ کے الزامات کے مقاصد

ہولناک سانحات اور کابل انتظامیہ کے الزامات کے مقاصد

تحریر: سیف العادل احرار
چند روز قبل کابل اور ننگرہار میں ہولناک سانحات کے بعد ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی اور دیگر اعلی حکام نے ان حملوں کی ذمہ داری طالبان پر عائد کر دی جب کہ امارت اسلامیہ نے ان سفاکانہ واردات سے لاتعلقی کا اعلان کیا، امریکہ، یورپی یونین اور روس نے موقف اختیار کیا کہ ان حملوں میں داعش ملوث ہے جب کہ خود داعش نے باضاطہ طور پر ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی۔
ان حملوں کے فورا بعد کابل حکام نے طالبان کو مورد الزام ٹہرایا اور یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ طالبان اور داعش پس پردہ ایک ہیں، کیوں کہ ان حملوں سے محض تین دن قبل کابل انتظامیہ نے اعلان کیا کہ کابل میں داعش اور حقانی نیٹ ورک کے مشترکہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا، اس خبر کی اشاعت سے بھی ان کا مقصد یہ تھا کہ داعش اور حقانی نیٹ ورک ایک ہیں جب کہ حقانی نیٹ ورک طالبان کا اہم حصہ ہے، لہذا طالبان اور داعش ایک ہیں۔
امارت اسلامیہ کے ترجمان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ چند مفادپرست عناصر امن عمل کی راہ میں رکاوٹ اور حائل ہیں یہ حملے بھی ان کی سازش ہے۔ محترم ذبیح اللہ مجاہد نے متعدد دلائل کے ساتھ ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا، امارت اسلامیہ کے مجاہدین جو اسلامی تعلیمات سے آراستہ اور خوف خدا سے معمور ہیں کیا وہ کسی بے گناہ شخص کا قتل کر سکتے ہیں؟ کیا وہ دشمن پر کاری ضرب لگانے کے بجائے خواتین اور معصوم بچوں کو مارنے کے لئے اپنی اسلامی پالیسی سے تجاوز کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ امارت اسلامیہ کی قیادت میں جید علماء کرام اور شیوخ عظام شامل ہیں جو ہر اقدام اور فیصلہ قرآن و حدیث کی روشنی میں کرتے ہیں۔ کیا اسلام ایسی سفاکیت کی اجازت دیتا ہے؟ کیا امارت اسلامیہ کی قیادت اور جید علماء کرام ان بزدلانہ حملوں کی اجازت دیتے ہیں؟ کیا امارت اسلامیہ کی پالیسی میں فرقہ واریت کی گنجائش ہے؟ اگر نہیں تو پھر امارت اسلامیہ پر الزام تراشی کا واضح مطلب یہ ہے کہ کابل حکام اور داعش کے درمیان قریبی تعلقات کے پیش نظر داعش کو ان حملوں سے بری الذمہ قرار دیتے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طالبان کو مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے تاکہ داعش کا مجرانہ چہرہ بے نقاب کرنے سے محفوظ رکھا جائے۔
امریکہ نے کابل حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں میں طالبان کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کریں، ان حملوں کے بعد امریکہ اور کابل حکام نے الگ الگ موقف اختیار کیا ہے، واشنگٹن کو یقین ہے کہ ان حملوں میں طالبان ملوث نہیں ہیں، افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد نے کہا ہے کہ امن کا راستہ سیدھا نہیں ہے اور اس میں کئی چیلنجز اور مشکلات حائل ہیں، لیکن امن کی طرف بڑھنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں، کیوں کہ افغانستان اور عالمی سطح پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ افغان جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، اس کا حل سیاسی ہے، کابل حکومت نے طالبان کے ایک ہزار سے زائِد اور طالبان کابل حکومت کے 253 قیدیوں کو رہا کر چکے ہیں لیکن یہ تعداد ناکافی ہے، ہم نے ان پر مزید قیدیوں کی رہائی کے زور دیا ہے۔
زلمی خلیل زاد کے مطابق اگر کابل حکام کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ ان حملوں میں طالبان ملوث ہیں تو وہ واشنگٹن کے ساتھ یہ شواہد شریک کریں۔ ادھر کابل میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے دعوی کیا کہ طالبان اور داعش کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں، انہوں نے مشترکہ طور پر ان حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ کابل حکام پہلے دن سے امن عمل کی مخالفت کررہے ہیں، انہوں نے دوحہ معاہدے کے برخلاف قیدیوں کے تبادلے سے انکار کیا اور پھر امریکہ کے دباو پر صرف ساڑھے نو سو قیدی رہا کر کے قیدیوں کی رہائی کا عمل پھر معطل کر دیا، کابل حکام اس لئے قیدی رہا نہیں کرتے ہیں تاکہ بین الافغان مذاکرات شروع نہ ہوسکیں۔
ان حملوں کے بعد زیادہ تر لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی داعش اور افغان خفیہ ادارے نے مشترکہ طور پر کی تھی، کیوں کہ پارلیمنٹ کے ارکان اور مختلف حلقوں نے متعدد بار دعوی کیا ہے کہ این ڈی ایس اور داعش کے درمیان خفیہ روابط موجود ہیں، جب امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے جوزجان میں داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی شروع کی تو داعش کے سرکردہ رہنماوں کو کابل حکام نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اسی طرح کنڑ اور ننگرہار میں جب مجاہدین نے داعش کے خلاف آپریشن شروع کیا تو کابل حکام طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتے تھے اور جب ان دونوں صوبوں سے داعش کا صفایا کر دیا گیا تو داعش کے سنیئر کمانڈروں اور لیڈرشپ نے کابل حکام کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا، ان شواہد سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کابل ہسپتال اور ننگرہار کے حملوں میں داعش کے روپ میں کابل انتظامیہ کا خفیہ ادارہ ملوث ہے۔
کابل انتظامیہ علاقائی اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے، اس وقت نہ صرف امریکہ اور کابل انتظامیہ کے درمیان اختلافات موجود ہیں بلکہ روس، پاکستان، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی کابل انتظامیہ کے فاصلے بڑھنے لگے ہیں، دو روز قبل شنگھائی تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں کابل انتظامیہ شریک نہیں تھی، 18 مئی کو افغانستان کے چار اہم پڑوسی ممالک چین، روس، پاکستان اور ایران ویڈیو کانفرنس کے ذریعے افغان تنازع پر تبادلہ خیال کریں گے لیکن اس کانفرنس میں بھی کابل انتظامیہ شامل نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی کابل انتظامیہ کی قانونی حیثیت ختم ہوچکی ہے اور اس کے دن گنے جاچکے ہیں۔
امریکہ نے اعلان کیا کہ دوحہ معاہدے کے مطابق جولائی تک ہم افغانستان میں پانچ فوجی اڈوں سے فوجی انخلا کریں گے اور شیڈول کے مطابق بتدریج تمام افواج کا انخلا یقینی بنائیں گے۔ ادھر صدر ٹرمپ نے بھی کابل حکام کو واضح پیغام دیا کہ ہم افغانستان میں پولیس کی ڈیوٹی انجام نہیں دے سکتے، امریکی فوج دنیا کی طاقت ور ترین فوج ہے، ہم نے افغانستان میں بیس برس تک جنگ لڑی، اب افغان حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کی حفاظت کریں، ایسی صورتحال میں کابل حکام بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور ان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے والا ہے اس لئے وہ امن عمل کو سپوتاژ کرنے کے لئے ہر ممکن طریقے سے تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے یہ ہتھکنڈے جلد ناکام ثابت ہوں گے۔
دوحہ معاہدے کے مطابق بین الافغان مذاکرات میں ملک کے سیاسی مستقبل پر تمام افغان تبادلہ خیال کریں گے اور متفقہ اسلامی آئین اور اسلامی حکومت تشکیل دیں گے جس میں جرائم پیشہ اور کرپٹ عناصر کی گنجائش نہیں ہوگی اور نہ ہی چند محدود اشخصاص اقتدار میں ہوں گے اور نوے فیصد سے زائد افغان اقتدار سے بے دخل رہیں گے، اسی لئے بھی موجودہ کرپٹ اور مفاد پرست عناصر امن عمل کی مخالفت کرتے ہیں اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ملک میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، قوم بخوبی جاتی ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے حقائق کو مسخ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی قوم کے حقیقی نمائندے طالبان کو بدنام کیا جاسکتا ہے، امریکہ، نیٹو اور کابل حکام نے طالبان کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کئے، سینکڑوں ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کے خلاف مذموم پروپیگنڈے کئے گئے لیکن آج امریکہ اور پوری دنیا اس بات پر متفق ہیں کہ طالبان ہی افغانستان کی اصل عسکری اور سیاسی قوت ہیں جنہیں عوامی تائید حاصل ہے اسی لئے امریکہ نے امارت اسلامیہ کے ساتھ تاریخی معاہدہ کیا اور اقوام متحدہ نے اس کے توثیق کر دی، اس صورتحال کے پیش نظر کابل حکام کے منصوبوں، پروپیگنڈوں اور الزامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے، کیوں کہ پوری دنیا اور افغان عوام اس بات پر متفق ہیں کہ کابل اور ننگرہار حملوں سے طالبان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

Related posts