جولائی 09, 2020

کیا طالبان اپنا موقف تبدیل کریں گے؟

کیا طالبان اپنا موقف تبدیل کریں گے؟

تحریر: عنایت اللہ خاموش
اگرچہ امریکہ کے ساتھ 19 سالہ جنگ اور اس کے بعد حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں تاریخی معاہدہ کرنے کے باوجود امارت اسلامیہ نے اپنی حیثیت برقرار رکھی ہے اور اپنے اصولی موقف پر قائم ہے، جو عالمی سطح پر اس کی کامیاب سفارتکاری کا ثبوت ہے اور اس کو اپنے ملک اور قوم کے حقوق کے دفاع کے لئے قوت بخشی ہے لیکن چونکہ اب بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے اور ان مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی ہیں، لہذا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان اپنے اصولی موقف پر سمجھوتہ کریں گے یا وہ حسب سابق اپنے موقف پر ڈٹے رہیں گے؟
اس وقت کابل انتظامیہ کے بہت سارے حکام یہ سوچ رہے ہیں کہ حزب اسلامی کی طرح امارت اسلامیہ بھی ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے گی اور وہ کسی مضبوط پروگرام ، طاقت اور نظام کے بغیر کابل انتظامیہ میں ضم ہو جائے گی۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ امارت اسلامیہ بین الافغان مذاکرات میں اپنے موقف سے دستبردار ہو جائے گی اور کئی معاملات میں وہ پسپائی اختیار کرے گی۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ امارت اسلامیہ کی سفارت کاری اور واحد کمانڈ پر نظر ڈالیں۔ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ امارت اسلامیہ اپنی پوزیشن بدل دے گی۔
"کیوں کہ اگر ہم امریکہ اور امارت اسلامیہ کے مابین معاہدے کے متن کو دیکھیں اور وہاں قیدیوں کے تبادلے کی شق پر غور کریں تو ثابت ہوتا ہے کہ امارت اسلامیہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتی اور جو لوگ کسی نہ کسی بہانے قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ ہیں، وہ یہ خیال دل سے نکالیں کہ امارت اسلامیہ پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کے بغیر بین الافغان مذاکرات شروع کرے گی۔ کیوں کہ یہ اس کا مسلم حق ہے اس پر معاہدہ ہوا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے لہذا پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی سے قبل امارت اسلامیہ کی قیادت ہرگز بین الافغان مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گی یہ اس کا اٹل فیصلہ اور اصولی موقف ہے اور کابل انتظامیہ سمیت عالمی برادری کو بھی اس حق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔
لہذا امارت اسلامیہ اپنا موقف تبدیل نہیں کرے گی اور اسے تبدیل نہیں کرنا چاہئے۔ جن لوگوں کے رشتہ دار ، دوست اور جاننے والے کابل انتظامیہ میں کام کرتے ہیں انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ کابل انتظامیہ سے نکال کر قوم کی مخالفت سے انہیں دستبردار کریں اور ایسی جنگ میں خود کو قربان نہ کریں جو ہر طرح سے ان کے لئے نقصان دہ ہے۔ چند ہزار پیسوں کی خاطر ایسے حکام کے لئے اپنی زندگی تباہ نہ کریں جن کی اولاد اور جدائیداد امریکہ اور مغربی دنیا میں ہیں، کابل انتظامیہ کے اعلی حکام غیر ملکی انٹیلی جنس قوتوں کے لئے کام کرتے ہیں اور ان سے بھاری رقم معاوضہ وصول کرتے ہیں جب کہ یہاں کے غریب اور آن پڑھ نوجوان سیکورٹی فورسز میں بھرتی ہوکر چند ہزار پیسوں کی خاطر اپنی دنیا اور آخرت تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، لہذا سنجیدہ اور سمجھ دار لوگوں کو چاہئے کہ وہ انہیں منع کریں اور انہیں سمجھانے کی کوشش کریں، ویسے بھی اب صورتحال تبدیل ہوتی جارہی ہے اور آئے روز افغان فورسز کے جو درجوق اہل کار امارت اسلامیہ کے سامنے سرنڈر ہوتے ہیں جو امارت اسلامیہ کی سربراہی میں نئی اسلامی حکومت کے قیام اور موجودہ کرپٹ نظام کے خاتمے کی بشارت ہے۔
ان دانشوروں اور ہمدرد افغانوں کو اپنے مشن کو پورا کرنا چاہئے اور مادیت پر قومی اسلامی مفادات کو ترجیح دینی چاہئے اور قوم کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے ہر ایک اپنا فرض ادا کریں، ملک کو اس سمت لے جانا چاہئے جو ہماری حقیقی اقدار کی شان کے مطابق ہو۔

Related posts