جولائی 09, 2020

کابل حکام کا ہر عمل مضحکہ خیز ہے

کابل حکام کا ہر عمل مضحکہ خیز ہے

آج کی بات

کابل انتظامیہ کی قومی سلامتی کمیٹی کے نئے سربراہ احمد ضیاء سراج نے دعوی کیا ہے کہ کابل اور ننگرہار حملے امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ داعش کے طالبان سے براہ راست روابط ہیں۔ دونوں ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔’

اس سے قبل کابل حکام نے اپنے مذموم اتحادی داعش کو بری کر دیا اور حملوں کا الزام مجاہدین پر لگا دیا۔ جب امریکا سمیت متعدد غیرملکی حمایت یافتہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان حملوں میں مجاہدین کے ملوث ہونے سے انکار کیا اور ان کی ذمہ داری داعش پر عائد کی  گئی تو کابل حکام نے ایک اور مضحکہ خیز دعوی کر دیا۔ سلامتی کونسل کے نئے سربراہ نے ناقابل اعتماد شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے دو ہفتے قبل کابل کے علاقے شکردرہ میں فوجی آپریشن کیا۔ جس میں داعش کا ایک کارکن ہلاک ہوگیا۔ ہم نے اس کے فنگر پرنٹس چیک کیے، جس سے ثابت ہوا کہ وہ اس سے قبل حقانی نیٹ ورک کا ممبر رہ چکا ہے۔ ان کے مطابق اس سے طالبان اور داعش کے مابین براہ راست رابطہ ثابت ہوا ہے۔  لہذا کابل حملے کے ذمہ دار بھی طالبان ہیں۔

یہ کابل انتظامیہ کی سلامتی کونسل کے سربراہ کا دعوی ہے، جو نااہلی اور مضحکہ خیز دستاویزات کے ساتھ میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام طالبان پر عائد کر کے خود کو قوم اور بین الاقوامی برادری کے سامنے کابل اور ننگرہار میں حالیہ شہری ہلاکتوں کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی ہے۔  تاہم جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ امریکا سمیت کابل انتظامیہ کے تمام غیرملکی انٹیلی جنس اداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ حملے داعش نے کیے تھے۔ داعش کے اہل کار قومی سلامتی کے مہمان خانوں اور ہیڈکوارٹر میں موجود ہیں۔

اشرف غنی نے اپنے ایک بیان میں امن کے لیے سازگار ماحول، کرونا وبا کے عروج اور رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں اپنی فورسز کو جارحانہ حملوں کا حکم دیا اور قوم کو خونریزی کا پیغام دیا۔ وزیرِداخلہ مسعود اندرابی نے اشرف غنی کے اس جنگ پسند موقف کو جواز پیش کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ‘صدر کا اعلان جنگ قیام امن کے لیے تھا۔

(کیا جنگ کا دوبارہ آغاز قیام امن کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے یا جنگ بند کرنا، قیدیوں کو رہا کرنا اور بین الافغان مذاکرات کرنا امن کی ضمانت ہے؟)

اس سے واضح ہوتا ہے کابل حکومت کے نا اہل عہدیداروں نے ہر معاملے کو مذاق سمجھ رکھا ہے۔ یہ کرپٹ ٹولہ ایک بار پھر غیرقانونی اور مضحکہ خیز انداز سے قوم پر مسلط کیا گیا ہے۔ حکام کو اپنی تضحیک پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔وہ امن مخالف ، جنگ پسند اور وحشیانہ اقدامات پر بھی شرمندہ نہیں ہیں۔

Related posts