جولائی 09, 2020

عید الفطر کی مناسبت سے عالی قدر امیرالمؤمنین شیخ الحدیث مولوی ہبۃاللہ اخوندزادہ حفظہ اللہ کا پیغام

عید الفطر کی مناسبت سے عالی قدر امیرالمؤمنین شیخ الحدیث مولوی ہبۃاللہ اخوندزادہ حفظہ اللہ کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

إن الحمد للہ نحمدہ ونستعينہ ونستغفرہ ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن يضلل فلا ھادی لہ وأشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شريك لہ وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ.

قال اللہ عز وجل في محكم كتابہ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا ﴿۱﴾ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا ﴿۲﴾ وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا ﴿۳﴾  الفتح

افغانستان کی مومن ومجاہد قوم،  افغان مجاہدین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو !

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ !

عیدسعید ، عیدالفطر کی آمد کے مو   قع پر آپ حضرات کو دل کی گہرائیوں سے  مبارک باد پیش کرتاہوں۔ اللہ تعالی آپ کے روزے، تراویح اور تمام عبادات قبول فرمائے۔اللہ تعالی شہداء کی شہادتیں قبول فرمائے۔  مجاہدین اور مجاہد ملت کو ان کی خدمات اور تکالیف کا اجر عطا فرمائے، زخمیوں کو اللہ تعالی شفاء عاجلہ اور قیدیوں کو نجات اور قید سے خلاصی نصیب فرمائے۔

شہداء کے خاندانوں، عزیز واقارب  اور بچوں کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ انہیں  صبرجمیل اوراجرجزیل  عطا فرمائے اوران کے مقدس آرمانوں کی تکمیل فرمائے۔

مؤمن ہموطنو !

ملک کی موجودہ صورتحال میں امارت اسلامیہ کا مؤقف اور اہداف  آپ کے سامنے واضح کرنے کے لیے چند باتوں کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔

۱ –  ہمارا جہاد اللہ تعالی کی رضا، ملک کی مکمل خودمختاری اور یہاں حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کےاہداف لے کر یہاں تک پہنچا ہے ۔ اس جہاد میں عوام اور مجاہدین نے جو قربانیاں دیں اور جو تکالیف اور مصائب جھیلے  وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔  لہذا  مذکورہ اہداف کو حاصل  کرنے اور انہیں استقلال بخشنے کے لیے  اور  اس کی راہ میں حائل فتنوں اور خطروں  کی روک تھام کے لیے تمام ہموطنوں، خصوصا امارت اسلامیہ کے ذمہ داران   اور مجاہدین سے درخواست کرتاہوں کہ اپنے بنیادی مقاصد  اور اہداف پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔ اپنی صف اور قوت کو مضبوط تر کریں۔   باہمی اتحاد اور اطاعت کو مزیدمستحکم رکھیں اور انتظامی ڈھانچے کو مزید منظم کریں۔

۲ –   چونکہ   امارت اسلامیہ تمام ہموطنوں کا مشترکہ گھر ہے  اور اس قوم کی  40 سالہ قربانیوں اور آرزوؤں کی تکمیل کی خاطر جدوجہد میں مصروف ہے،

اس لیے ملک کے علماء کرام، روحانی مشائخ، قبائلی عمائدین، مصنفین، شعراء ، ادیب اور تمام بااثرشخصیات کو چاہیے کہ ملک میں حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ،امن ، تعمیرنو، اتحاد اور خودمختار افغانستان کے لیے ہم سے مزید تعاون کریں۔ اپنی تمام قوت  بروئے کار لائیں۔ اپنے حلقے کے لوگوں، شاگردوں

اور متعلقین کو حقائق سے آگاہ کریں۔  اپنی قابل فخر تاریخ سے انہیں باخبر کریں۔ دشمنی، تعصبات، اختلافات، اخلاقی بدعنوانی اورہر  اس برائی کا مقابلہ  کریں جو ہمارے مقدس دین، ملک کی سلامتی اور استقلال کو نقصان پہنچائے۔ یہ صاحب علم وفضل شخصیات افغانستان کی اسلامی شناخت، جہاد، حق کے لیے جدوجہد اور آئندہ نسل کی بیداری کے لیے مزید جدوجہد کریں،تاکہ ہمارےملک میں اسلامی اور ملی اقدار کے تحفظ کےلیے قربانی کا جذبہ مزید قوی اور مضبوط ہو سکے۔

۳ –  عالمی اور علاقائی ممالک سے امارت اسلامیہ کے سیاسی تعلقات ماضی کی نسبت بہت وسیع ہوچکے ہیں۔  امارت اسلامیہ کی پالیسی اور مؤقف ان پر واضح ہوچکا ہے،جس کی بنیاد پر یقین اور اعتماد کی فضا قائم ہورہی ہے۔  ہم اپنی پالیسی کے مطابق   اسلامی ممالک سے اسلامی  بھائی چارے کا رشتہ،پڑوسی ممالک سے اچھے ہمسائے  اور خطے اور دنیا بھر کے تمام ممالک کیساتھ مفید تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں ،تاکہ علاقائی اور عالمی معاشی خوشحالی، امن اور مشترکہ زندگی کے شعبوں میں لازمی  ذمہ داری ادا ہوتی رہے۔ دیگر ممالک سے بھی  یہی امید رکھتا ہوں کہ  اس سلسلے میں اسی نوع کے  اقدامات اٹھائیں گے ۔

۴- وہ طبقات  یا شخصیات جو جارحیت کے خاتمہ کے بعدمستقبل کے نظام کے متعلق خدشات کا شکار  ہیں، امارت اسلامیہ ایک بار پھران  سب کو  یقین دلاتی ہےکہ امارت اسلامیہ کی  پالیسی انحصارطلب  نہیں ہے، ہر کسی کو مرد ہو یا عورت انہیں ان کے حقوق ملیں گے، اس نظام میں  کوئی بھی محرومیت اور محکومیت  محسوس نہیں کریگا اور ان تمام شعبوں تک رسائی حاصل کی جائے گی، جو معاشرے کی خوشحالی، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہیں۔  سب کچھ مقدس شریعت کی روشنی میں آگے بڑھتا رہیگا۔ ان شاءاللہ تعالی۔

۵ –  چند وہ عناصر جو بیرونی اینٹلی جنس حلقوں کی جانب سے دیےجانےوالے منصوبے کی مطابق  اپنے مذموم اہداف اور اقتدار تک پہنچنے کےلیے  ملک میں لسانی، قومی، مذہبی اور دیگر بنیادوں پر  تنازعات اور تعصبات کو بھڑکا نا چاہتے ہیں اور ملک کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ افغان ملت اور امارت اسلامیہ انہیں اس طرح  کےاعمال کی اجازت نہیں دے گی۔ جس طرح ماضی میں اس طرح کے خطرات میں ملک کا دفاع کیا تھا،اب بھی ہمارے پاس صلاحیت ہے کہ اس کی روک تھام کریں ان شاءاللہ۔  لہذا بہتر یہ ہوگا کہ ایسی حرکتوں کے مرتکب افراد اپنی اپنی گریبانوں میں جھانکیں، مزید ناجائز اعمال و افکار سے اس ملت کو مسائل اور مشکلات سے دوچار نہ کریں۔

۶ –  ریاستہائے متحدہ امریکا کیساتھ تاریخی معاہدے پر دستخط اور اس کے نتیجے میں جارحیت کا خاتمہ امارت اسلامیہ اور تمام افغان ملت کے لیے ایک عظیم کامیابی سمجھی جاتی ہے اور اگر اس پر نیک نیتی سے عمل درآمد کیا جائے تویہ  تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔ امریکا کیساتھ جس معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں امارت اسلامیہ اس معاہدے کی پوری پاسداری کو لازمی سمجھتی ہے اور اس کی پوری طرح پابند ہے۔ مخالف فریق سے مطالبہ کرتی ہے کہ اپنے وعدوں پر مستحکم رہے اور اس عظیم تاریخی موقع کو ضائع ہونے سے بچا ئے۔  مذکورہ معاہدے پر عمل درآمد   ہمارے ملک اور امریکا کےلیے جنگ کے خاتمہ ،ملک میں میں داخلی امن  کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کا بہترین ذریعہ  بن سکتی ہے۔

امریکی حکام سے کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں کسی بھی طبقے کو اس بات کی  اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ہمارے اور آپ کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اور جسےعالمی سطح پر تسلیم کرلیا گیا ہے ،   اس معاہدے پر عمل درآمد  میں رکاوٹ بنیں ، اس میں تاخیری حربے  ڈالیں اور آخرکار اسے ناکامی سے دوچار کریں۔  اس معاہدے میں سب کچھ واضح طور پر لکھا چکاہے۔ یہ معاہدہ افغان اور امریکہ دونوں اقوام کے مفادات کے تحفظ  اور مسائل کے حل کے لیے ایک بہترین فریم ورک مہیا کرتا ہے،جس پر مکمل طور پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔  آئیے اس معاہدے کے نفاذ میں آگے بڑھیں ، تاکہ تمہاری افواج کے انخلا اور افغانستان و خطے میں امن اور استحکام کےلیے راہ ہموار ہوجائے۔

۷ –  کابل انتظامیہ کے جیلوں میں قیدی سخت حالات اور مشکلات میں زندگی بسر کررہے ہیں ، اس حوالے سے انسانی  تنظیموں،  فلاحی اداروں  اور شخصیات کو  اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور  جلد  از جلد  قیدیوں کی حفاظت اور رہائی کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے چاہییں ۔

۸ –  مخالف صف میں کھڑے افراد اگر مخالفت سے دستبردار ہوجائیں،ہماری طرف سے ان کے لیے عام معافی کا اعلان ہے۔  ہم سب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس عام معافی کے موقع  سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔  مخالفت سے دستبردار ہوجائیں اور ملک میں مکمل طورپر امن  کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ  میں ،جو اس ملک کے لاکھوں شہداء، زخمیوں، معذوروں، یتیموں، بیواؤں اور مصیبت زدہ افغانوں کی آرزو ہے، اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں۔

۹ – امارت اسلامیہ  ملک بھر میں شہریوں کے تحفظ اور ان کےنقصانات کے حوالے سے شدید حساسیت  رکھتی ہے،اسی بناء  پر امارت اسلامیہ نے عام شہریوں کی زندگی کے تحفظ اور انہیں نقصان نہ پہنچانے کی غرض سے خصوصی کمیشن قائم کیاہے، تاکہ جنگوں میں مجاہدین کی جانب سے عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے،اگر خدانخواستہ کوئی ایسا حادثہ رونما ہوجاتا ہے، تو اس کے مقدمہ کو فوری طورپر لیا جاتا ہے اور قصور وار افراد کو سزا دی جاتی ہے۔مگر مخالف فریق کی جانب سے باربار عام شہریوں اور گھروں  کو فضائی بمباری، میزائل حملوں اور بھاری ہتھیاروں کا نشانہ بنایا  جاتاہے، جو  پریشان کن عمل ہے۔ اس حوالے سے انسانی شعبے میں کام کرنے والے  ملکی اور بیرونی تمام حلقوں سے مطالبہ ہے کہ سویلین ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

۱۰ –  کرونا کی بیماری عالمی وبا ہے۔ اللہ تعالی کی جانب سے ایسی آزمائشیں انسانوں  پر اس وقت آتی ہیں جب اللہ تعالی کے دین، فطرت اور انسانی معیارات سے سرکشیاں اپنی آخری حد تک پہنچ جائیں۔  ہمیں اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرنا چاہیے۔ اپنے اعمال کا ازسرنو جائزہ لیں، اللہ تعالی کے احکام کو ترک نہ کریں، اسلامی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی کو سنوار دیں،تاکہ اس ہولناک عذاب اور  آزمائش سے نجات پاسکیں۔

مذکورہ بیماری کی روک تھام کے سلسلے میں امارت اسلامیہ  کے کمیشن برائے امور صحت کو ہدایات دے دی گئی ہیں کہ اپنی بساط میں جہاں تک ہوسکے اس  سلسلے میں جدوجہد کریں۔  عوام کو طبی سہولیات فراہم کریں او رجتنا ممکن ہوسکے ،اپنی طاقت بروئے کار لانے سے دریغ نہ کریں۔ عام ہموطنوں سے بھی ہماری گذارش ہے کہ اس بیماری سےبچاو کی خاطر شرعی اور طبی ہدایات کو مدنظر رکھیں،تاکہ خدانخواستہ متاثر نہ ہوجائیں، عالمی صحت کی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ہمارے ہموطنوں کیساتھ اس بیماری کی روک تھام میں زیادہ تعاون کریں اور ضروری وسائل مہیا کریں۔ امارت اسلامیہ امدادی سامان  کی منتقلی  اور شفاف  طریقے سےمستحقین میں  ان کی تقسیم کے سلسلے میں فلاحی اداروں کیساتھ ہر قسم کا تعاون  کرنے کےلیے تیار ہے۔

۱۱ – امارت اسلامیہ  کے تمام مجاہدین کو  ہدایت دیتاہوں کہ اس نازک صورتحال میں عام لوگوں کیساتھ ہمدردی اور شفقت بھرا سلوک کریں۔ کسی کو نقصان اور اذیت پہنچانے کا سبب نہ بنیں۔ کسی سے تکبراور ظلم سے پیش نہ آئیں ۔ اقتدار اور وسائل کا عوام کی اذیت کے لیے استعمال نہ کریں۔ ہر قسم کے امتیازی حیثیت ،جاہ طلبی  اوربرتری کے حصول سے گریز کریں۔  ہر افغان کو اپنا بھائی سمجھ کر اس کی عزت کریں۔

آخر میں ایک بارپھر اس بات کا اعادہ ضروری سمجھتا ہوں  کہ عید کے ان مبارک ایام میں کرونا وائرس کی وجہ سے تمام اہل وطن شدید مسائل سے دوچار ہیں۔ غریب اور لاچار افراد کے لیے مزدوری کے مواقع نہیں ہیں۔  لہذا ہمارے تاجر بھائیوں کو چاہیے کہ غریبوں پر شفقت کریں۔  شہداء کے خاندانوں، یتیموں، بیواؤں اور اپنے رشتہ داروں کا خاص خیال رکھیں اور غریبوں کیساتھ اپنی ہمدردی اور تعاون سے دریغ نہ کریں۔ والسلام

امیرالمؤمنین شیخ الحدیث مولوی ہبۃاللہ اخندزادہ زعیم امارت اسلامیہ افغانستان

۲۷  رمضان المبارک ۱۴۴۱ ھ ق

۲۰  مئی ۲۰۲۰  ء

۳۱  ثور ۱۳۹۹  ھ ش

Related posts