جولائی 09, 2020

معصومیت بھرے دردناک مظالم

معصومیت بھرے دردناک مظالم

تحریر: سیدعبدالرزاق

ہماراالمیہ یہ ہے کہ ظالم جتنا ظلم کرے۔ جو جی میں آئے، کر دے۔  جب چاہا، کسی کا گھر اجاڑ دیا۔ جب چاہا، کسی کے بچوں کو یتیم کر ڈالا۔ جب چاہا، باعزت خواتین کو بے عزت کر دیایا انہیں بیوہ کر کے شوہروں کے سائے سے محروم کر دیا۔ ان تمام مظالم کے باوجود وہ معصوم، پاک اور دھلا ہوا انسان دکھایا جاتا ہے۔ یار لوگ بھی اسے اسی طرح دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف اگر مظلوم مظالم کے خلاف آواز اٹھائے۔ اپنے جائز حقوق کے لیے کوئی جائز قدم اٹھائے تو بذاتِ خود اُسے ، اس کے اقدام کو غلط قرار دے کر اُسے پرلے درجے کا مجرم اور انتہا پسند بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان ہوئے معاہدے کے بعد طالبان کی جانب سے جتنے حملے ہوئے ہیں، وہ سب یاتو دفاعی طور پر ہوئے ہیں یا ظالم کے ظلم کے خلاف اس کی جارحیت کو کچلنے کے واسطے ہوئے ہیں۔ میڈیا، کابل انتظامیہ اور دیگر مکار دشمن ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی ان تمام حملوں میں کسی عام فرد کی ہلاکت ثابت نہیں کر سکے۔ اس کے باوجود طالبان کو میڈیا پر امن دشمن،دہشت گرد اور ترقی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے والے مجرم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب کہ دوسری طرف صرف گزشتہ دو دنوں میں جو دل خراش واقعات سامنے آئے ہیں، وہ کابل انتظامیہ کے مجرمانہ کردار کی نشان دہی کے لیے کافی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ مظلوم ہر حال میں ظالم اور ظالم کسی صورت معصومیت کے دائرے سے باہر نہیں لایا جاتا۔

بروز پیر 18  مئی کو صوبہ غزنی کے ضلع گیرو میں واقع CHC ہسپتال کٹھ پتلی اور امریکی فوج کی وحشت ناک بمباری کا نشانہ بنا۔ اس میں طبی آلات اور ہسپتال کی مکمل عمارت ملیامیٹ ہوگئی۔ عین اسی دن صوبہ قندز کے ضلع چہاردرہ میں واقع ہسپتال انہی درندوں کی سفاکانہ بمباری کی نذر ہو گیا۔ جب کہ وہاں موجود مریض اور طبی عملہ خون میں لت پت ہو کر جامِ شہادت نوش کر گیا۔ ابھی یہ غم سرد نہیں ہوا تھا کہ منگل کے روز اسی قندز کے ضلع علی آباد میں دریا پار کرانے والی کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔ کشتی میں موجود6  افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ان میں دومعصوم بچے اور دو خواتین شامل تھیں۔ ظلم کی انتہا تب ہوئی، جب اسی دن مغرب کے وقت صوبہ پروان میں مقامی مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔ مسجد میں موجود تمام نمازی بمباری کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے۔

ہسپتال ہو یا مسجد یا پھر سفر کے عوامی ذرائع آمد و رفت سب عوام ہی کے ہیں۔ عوام ہی ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ عوام ہی کے لیے تعمیر کی گئی تنصیبات ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ دشمن ان عوامی مراکز کو ہی نشانہ بناتا ہے؟ ظلم بالائے ظلم یہ کہ وہ اپنی اس درندگی کو دہشت گردی کے خلاف ایک مستحسن امر اور لائقِ داد کارنامہ سمجھتا ہے۔  کریلا اور نیم چڑھا یہ کہ میڈیا بھی اس درندگی کو چھپانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔

عوام دشمنی کا اس زیادہ مظاہرہ نہیں ہو سکتا۔ عوام کے جان و مال سے کھلواڑ اس سے زیادہ ممکن نہیں ہے۔ اس سے زیادہ ملک کی بربادی کا کوئی طریقہ چنگیزخان کو بھی معلوم نہیں تھا۔ جب کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ لوگ اب تک دوست اور دشمن کی پہچان نہیں کر سکے۔

Related posts