جولائی 09, 2020

ایوان صدر کےجنگ پسندکس طرح امن چاہتے ہیں

ایوان صدر کےجنگ پسندکس طرح امن چاہتے ہیں

آج کی بات

کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے گزشتہ روز ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا ہے کہ ان کی مزید فوجیں دفاعی موقف اختیار کرنے کے بجائے امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے خلاف جارحانہ حملے کریں گی۔

اشرف غنی یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کابل ، ننگرہار اور بلخ میں عام شہریوں پر تین خونی اور وحشیانہ حملے ہوئے، جن کا کوئی اسلامی اور انسانی جواز نہیں بنتا۔

ننگرہار کے ضلع خیوا میں ایک جنازے پر داعش کا ظالمانہ حملہ، صوبہ بلخ کے ضلع خاص بلخ میں قبائلی عمائدین کے اجتماع پر کابل انتظامیہ کے طیاروں کی بمباری اور کابل کے علاقے دشت برچی میں غیر سرکاری اسپتال پر سرکاری فورسز کی وردی میں داعش کے پراسرار حملے میں کم از کم 100 بے گناہ افغان شہید اور زخمی ہوئے۔

کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے اگرچہ بظاہر ننگرہار اور کابل کے ان حملوں (جو کابل انتظامیہ کے شرپسند اتحادی گروہ داعش کی آڑ میں حکومت کی انٹلیجنس اہل کاروں کی کارستانی ہے) کے ردعمل میں امارت اسلامیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کابل حکام ان کارروائیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار اور خوفزدہ ہیں جو حال ہی میں مجاہدین نے ملک کے مختلف علاقوں میں کی ہیں۔

۔ گزشتہ روز صوبہ لغمان کے ضلع علیشنگ میں افغان فورسز نے مجاہدین کے زیر کنٹرول علاقوں میں نئی ​​چوکیاں اور فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کی جس پر مجاہدین نے کامیاب حملہ کیا جس کے نتیجے میں 55 فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

۔ پانچ دن پہلے صوبہ بلخ کے ضلع چمتال کے علاقے آسیا خان میں واقع افغان فوج کا ایک اہم دفاعی اڈہ مجاہدین کے زیر کنٹرول آگیا، مجاہدین نے طویل عرصے سے اس اہم فوجی اڈے کا محاصرہ کیا تھا اور گزشتنہ دنوں افغان اہل کار اس بیس سے فرار ہوگئے۔

۔ دوسری طرف صوبہ فراہ کے سابق پولیس چیف، مقامی اربکی ملیشیا کے کمانڈر، میجر جنرل عبد الجلیل بختور، جو موجودہ نائب گورنر کے والد اور فراہ کی صوبائی کونسل کے سربراہ فرید بختور کے بھائی تھے۔ نے کابل حکومت چھوڑ کر امارت اسلامیہ میں شمولیت کا اعلان کیا۔

۔ صوبہ خوست کے لئے کابل حکومت کے وفادار پولیس کمانڈر باباجی اپنے محافظوں سمیت مجاہدین کے ایک دھماکے میں ہلاک ہوا۔

یہ اور اس جیسے دیگر بہت سارے واقعات نے کٹھ پتلی حکومت کی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے، اسی لئے اشرف غنی نے پچھلے ناکام تجربے کو دہراتے ہوئے ایک بار پھر جنگ کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ اسی دوران انہوں نے مجاہدین سے جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔

امارت اسلامیہ نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جارحیت اور جنگ کا خاتمہ اور آزاد اسلامی ریاست کا قیام اس کے بنیادی اہداف ہیں۔ اسی لئے اس نے قابض افواج کے انخلا کے لئے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور 6 ہزار قیدیوں کی رہائی کے فوری بعد بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے جس میں جنگ بندی سمیت دیگر ضروری امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ اس نے دوسرے سالوں کی طرح رواں سال نئے آپریشن کا اعلان نہیں کیا ہے۔ معاہدے کے بعد اس نے ملک کے کسی بڑے یا چھوٹے شہر میں کوئی بڑا حملہ نہیں کیا ہے۔ صرف ان دور دراز علاقوں میں جہاں افغان فورسز علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں، مجاہدین جوابی کارروائی کرتے ہیں۔

چنانچہ آج جب کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے جنگ کا اعلان کیا تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دشمن امن اور غیرملکیوں کے انخلا میں اپنی بھلائی نہیں دیکھتا بلکہ جنگ میں اپنا مفاد دیکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پورے ملک سے داعش نامی ملیشیا کا صفایا ہوچکا ہے صرف این ڈی ایس کے اڈوں میں اس کے اہل کار تعینات ہیں، اور اس کی آڑ میں این ڈی ایس کے اہل کار صورتحال کو خراب کرنے اور امن کا راستہ روکنے کے لئے عوام کے خلاف خونی حملوں کی مشقیں کررہے ہیں۔

کابل انتظامیہ کے سربراہ کا اعلان جنگ اب عالمی برادری نے بھی سن لیا ہوگا، قوم اور دنیا اب بخوبی واقف ہوچکی ہے کہ کس طرح حکومت کے جنگجو امن چاہتے ہیں، اشرف غنی نے اپنی افواج کو جارحانہ حملے کرنے کا حکم دیا لیکن اسی دوران امارت اسلامیہ سے جنگ بندی کا مطالبہ بھی کر دیا۔ کیا یہ امن مانگنے کا طریقہ ہے؟

Related posts