جولائی 09, 2020

نئے مارشل کے ساتھ دو صدر!

آج کی بات

ایسا لگتا ہے کابل انتظامیہ کے دونوں صدر شراکتِ اقتدار سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ سال نام نہاد صدارتی انتخابات کے بعد کابل انتظامیہ کے حکمرانوں کے مابین اقتدار کا تنازع شروع ہوا۔ اُن انتخابات کا عوام کی بھاری اکثریت نے بائیکاٹ کیا تھا۔ جیتنے والے امیدوار نے 35لاکھ آبادی میں جعلی ووٹوں کے باوجود 9 لاکھ سے بھی کم ووٹ حاصل کیے۔ جب کہ ان میں بڑی تعداد میں متنازع ووٹ شامل ہیں۔

ماضی کو دیکھتے ہوئے ابتدا سے ہی یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ ڈرامہ عوام اور ملک کو نقصان پہنچائے گا، چناں چہ یہی ہوا۔ ان انتخابات نے ملک کو ایک سیاسی بحران کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب جمہوریت کے نعروں کے برخلاف اقتدار کا تعین عوام کے ووٹ کے بجائے غیرملکی دباؤ میں دونوں گروپوں کے اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

انتخابی ڈرامے کے نتیجے میں کامیاب ہونے والے امیدوار نے انتخابی مہم کے دوران عوام اور اپنے حامیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کامیابی حاصل کرنے کے بعد اقتدار میں حصہ داری سے متعلق کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا۔ حسب ماضی انہوں نے ایک بار پھر غیرملکی دباؤ میں آ کر اقتدار کی تقسیم کے حوالے سے سر جھکا لیا اور اپنے حامیوں سے کیے وعدے توڑ دیے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کابل انتظامیہ کے مجوزہ اقتدار میں شراکت کے منصوبے کے مطابق ملک کے بدنام زمانہ جنگی مجرم اور غدار جنرل رشید دوستم کو مارشل کا عہدہ دیا جائے گا۔  یہ وہی شخص ہے، جسے کابل انتظامیہ کے سربراہ نے 2009 میں بدنام زمانہ قاتل قرار دیا تھا۔ 2014 کے الیکشن میں انہوں نے اس قاتل کو اپنا پہلا نائب صدر نامزد کیا تھا۔  دو سال قبل اسی جنرل کی جانب سے اپنے ایک سیاسی حریف کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کی اطلاعات کے بعد کابل انتظامیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اب یہ شخص ایک بار پھر کابل انتظامیہ کی ممتاز شخصیت ہوگی۔

ایسے بدنام زمانہ شخص کو مارشل شپ دینے کا مطالبہ اور اس سے اتفاق ظاہر کرتا ہے کہ اقتدار میں آنے والے افراد اپنی قوم، ملک اور اپنی ریڈلائن (جمہوریت) کی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے کس حد تک فکر مند ہیں۔ افغانستان میں درآمد کیا جانے والا نظام دنیا کے لیے شکست، بدنامی اور بدعنوانی کا نمونہ بن چکا ہے۔ حالیہ تبدیلیوں نے قوم پر یہ بات زیادہ واضح کر دی ہے کہ ملک پر کیسے لوگ مسلط ہیں! وہ کن راستوں سے اقتدار پر براجمان ہوتے اور کس حد تک اپنے نعروں پر کاربندرہتے ہیں!؟

Related posts