جون 04, 2020

بین الافغان مذاکرات میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟

بین الافغان مذاکرات میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟

تحریر: جاوید علی خیل

طالبان اور امریکہ کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا، یہ معاہدہ افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے گذشتہ اٹھارہ سالوں میں سب سے اہم اقدام تھا۔ اسی وجہ سے افغان عوام، مختلف سماجی گروپوں اور سیاسی جماعتوں نے اس کا خیرمقدم کیا، یہاں تک کہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس معاہدے کی وسیع پیمانے پر حمایت کی گئی اور آخر کار اقوام متحدہ نے بھی اس کی تائید کی ۔

اب یہ سننے میں آیا ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ اپنے مقررہ وقت پر لاگو نہیں ہوتا ہے، اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا ہے؟ کون اس میں خلل ڈالتا ہے؟ اس کی تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ آئیے حقیقت کی نگاہ سے اس پر نظر ڈالتے ہیں ۔

اس معاہدے میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ کابل انتظامیہ کو باہمی بات چیت کے آغاز سے قبل 5000 قیدیوں کو رہا کرنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل افغان حکام کو یہ معاہدہ دکھایا تھا اور ان کو اعتماد میں لیا تھا، لیکن اب اشرف غنی اور ان کے حامی قیدیوں کی رہائی کے عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، مختلف بہانوں سے اس عمل کو موخر کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، اسی وجہ سے بین الافغان مذاکرات مقررہ وقت پر شروع نہیں ہوئے، اس وجہ کی وجہ کابل حکام کے باہمی اختلافات اور ناجائز ہتھکنڈے ہیں ۔

اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کابل انتظامیہ کے حکام قیدیوں کا انسانی معاملہ سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس طرح ایک انسانی موضوع کو دوسرے انسانی اور اہم مقصد (امن) میں تاخیر کے لئے بطور حربہ استعمال کرتے ہیں، حالانکہ اس پر معاہدہ ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی سطح پر سب نے اس کی حمایت کی ہے، کابل حکام کا یہ ناجائز برتاؤ نہ صرف امن عمل کے خلاف گہری سازش ہے بلکہ اخلاقی طور پر درست عمل نہیں ہے، جو دنیا، قوم اور تاریخ کے سامنے ان کا یہ اقدام قابل مواخذہ سمجھا جائے گا ۔

کابل انتظامیہ کے حکام شکوہ کررہے ہیں کہ طالبان نے اپنے حملے کیوں جاری رکھے ہیں، لیکن واضح امر یہ ہے کہ اس معاہدے میں کوئی ایسی شق شامل نہیں ہے کہ طالبان حملے نہ کریں، چونکہ طالبان جارحیت کے خاتمے اور بمباری کی روک تھام کے بدلے میں امریکی فوجیوں پر حملہ نہیں کریں گے لیکن یہ بات واضح ہے کہ امریکیوں نے طالبان سے براہ راست ہونے والے مذاکرات میں اپنے معاملات حل کیے اور فریقین حتمی نتیجے پہنچ گئے، اگر کابل انتظامیہ کے حکام واقعی اپنے اہلکاروں کی جانوں کی قدر کرتے ہیں تو انہیں منطق کا راستہ اپنانا چاہئے، لیکن وہ فی الحال اس کے برعکس اقدامات کررہے ہیں، اور ہمیں بین الافغان مکالمے کی راہ میں حائل رکاوٹیں نظر آ رہی ہیں جس سے مسائل سلجھنے کے بجائے الجھتے ہیں اور دونوں اطراف کے جانی نقصان میں اضافہ ہوتا ہے ۔

آخر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کابل حکام کی موجودہ ناخوشگوار صورتحال کسی کے حق میں نہیں ہے، بلکہ موجودہ گھمبیر صورتحال کے نتیجے میں امن عمل رکاوٹ اور تاخیر کا شکار ہوتا ہے، عوام کو معلوم ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں تاخیر کی تمام تر ذمہ داری کابل انتظامیہ کے حکام پر عائد ہوتی ہے جو اپنی ساکھ بچانے اور اقتدار کی بقا کے لئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں لیکن ان کی سازشیں اور منصوبے ناکام ہو جائیں گے ۔ ان شاء اللہ

Related posts