جون 04, 2020

قیدیوں کی رہائی فتوحات کا تسلسل ہے

تحریر: سیف العادل احرار

امارت اسلامیہ اور امریکہ کے درمیان جارحیت کے خاتمے کے تاریخی معاہدے میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ بین الافغان مذاکرات سے قبل چھ ہزار قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا، بگرام، پل چرخی سمیت دیگر بدنام زمانہ جیلوں میں ملک کی آزادی کے جرم میں گرفتار پانچ ہزار مجاہدین کو رہا کیا جائے گا جبکہ اس کے بدلے میں امارت اسلامیہ بھی ایک ہزار افغان اہل کار رہا کرے گی ۔

امارت اسلامیہ نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ بین الافغان مذاکرات سے قبل ماحول کو سازگار بنانے اور اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لئے قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے، جس پر زلمی خلیل زاد نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس موضوع پر کابل انتظامیہ سے بات کی جائے، سیاسی دفتر کے ارکان نے خلیل زاد کو جواب دیا کہ ہمارے گرفتار مجاہدین کو امریکی فوجیوں نے چھاپوں میں گرفتار کیا ہے، لہذا رہائی بھی ابھی امریکہ کی ذمہ داری ہے جس پر امریکہ نے مثبت جواب دیا، معاہدے میں قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق رائے کے بعد امارت اسلامیہ کے کمیشن برائے جیل خانہ جات نے پانچ ہزار قیدیوں کی لسٹ دے دی جس میں قیدی کا نام، ولدیت، صوبہ، ضلع، جیل، گرفتاری کی تاریخ سمیت تمام تفصیلات اس میں موجود ہیں، جبکہ افغان اہل کاروں کی لسٹ فراہم کرنا کابل انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی ۔

29 فروری کو معاہدے پر فریقین کے دستخط ہونے کے بعد کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے قیدیوں کی رہائی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک طالبان ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے وہ قیدیوں کو کسی صورت بھی رہا نہیں کریں گے، یہ ان کا اٹل فیصلہ ہے، دو دن بعد امریکہ کے دباو پر انہوں نے یوٹرن لیتے ہوئے قیدیوں کی مشروط رہائی کا اعلان کیا اور 9 مارچ کو حلف برداری کی تقریب سے خطاب کے دوران قیدیوں کی رہائی کا باضابطہ فرمان جاری کرنے کا اعلان کیا، اگلے روز انہوں نے ایک حکم جاری کیا جس کے مطابق پہلے مرحلے میں 15 سو قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، ہر روز سو، سو قیدی رہا کئے جائیں گے اور اس کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے اور ہر 15 دن میں پانچ ، پانچ سو قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، تاہم امارت کی قیادت نے مشروط رہائی کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا جب تک معاہدے کے مطابق ہمارے پانچ ہزار قیدی رہا نہیں کئے جائیں گے ہم بین الافغان مذاکرات شروع نہیں کریں گے ۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پمپیو اور زلمی خلیل زاد نے قطر دفتر سے رابطہ کیا اور قیدیوں کی رہائی کا یقین دلایا، انہوں نے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا کہ قیدیوں کی رہائی کا موقف آگیا ہے، کرونا وائرس کے بعد زلمی خیل زاد نے پھر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس وبا کے پھیلاو سے قبل قیدیوں کی رہائی ضروری ہے، تاہم کابل انتظامیہ نے قیدیوں کی رہائی کا معاملہ پھر موخر کر دیا اور اشرف غنی کے فرمان کے مطابق قیدی مقررہ وقت پر رہا نہیں ہوئے ۔

دوسری جانب اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کے درمیان بھی شدید اختلافات کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کا عمل متاثر ہوا، امریکہ نے طالبان کو یقین دلایا کہ وہ قیدیوں کی رہائی کو بہرصورت ممکن بنائیں گے تاہم کابل میں اختلافات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہے، اختلافات کو ختم کرنے اور قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنانے کے لئے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے کابل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کے درمیان مفاہمت کی کوشش کی تاہم ان کے درمیان مفاہمت کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی اور مائیک پمپیو کا دورہ کابل ناکام ہوا، جس پر امریکہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ امداد میں ایک ارب ڈالر کٹوتی کا اعلان کیا، مائیک پمپیو کابل سے قطر روانہ ہوئے اور وہاں سیاسی دفتر کے سربراہ محترم ملا بردار اخوند سے ملاقات کی، سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق دونوں رہنماوں نے امن معاہدے اور قیدیوں کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا، امریکی وزیر خارجہ نے انہیں یقین دلایا کہ وہ قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنانے کے لئے مصروف ہیں اور زلمی خلیل زاد کابل میں ہیں تاکہ جلد از جلد یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچائیں ۔

امریکی دباو کے بعد کابل انتظامیہ اور امارت اسلامیہ کے کمیشن برائے جیل خانہ جات کے درمیان ویڈیو کانفرنس میں قیدیوں کی رہائی پر تبادلہ خیال ہوا، ویڈیو کانفرنس میں امریکہ اور قطر کے رہنماوں نے بھی شرکت کی اور 25 مارچ کو طالبان، کابل انتظامیہ، امریکہ، قطر اور ہلال احمر کے درمیان ویڈیو کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ 31 مارچ سے قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، سیاسی دفتر کے ترجمان محترم سہیل شاہین نے کہا کہ امارت اسلامیہ کے کمیشن برائے جیل خانہ جات کے دس رکنی ٹیم کے ارکان 28 مارچ کو کابل جائیں گے جہاں وہ بگرام جیل میں فہرست کے مطابق قیدیوں کی تصدیق اور تائید کے بعد قیدیوں کو ہلال احمر کے حوالے کریں گے اور پھر طیاروں میں انہیں مفتوحہ علاقوں میں مجاہدین کے سپرد کئے جائیں گے اور بیس دن کے اندر یہ سلسلہ مکمل کیا جائے گا ۔

امارت اسلامیہ نے اپنے پانچ ہزار قیدیوں کی لسٹ فراہم کر دی تاہم کابل انتظامیہ کو اپنے قیدیوں کا علم نہیں ہے، زلمی خلیل زاد نے ملا بردار اخوند سے شکوہ کیا کہ آپ کی جانب سے ابھی تک کابل انتظامیہ کو ان کے ایک ہزار قیدیوں کی لسٹ فراہم نہیں کی گئی ہے جس پر ملا بردار اخوند نے کہا کہ ہم نے اپنے قیدیوں کی لسٹ دے دی ہے جبکہ افغان اہل کاروں کی لسٹ کابل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمیں بھیج دے، جس پر خلیل زاد نے کابل انتظامیہ سے رابطہ کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ ہم فی الوقت لسٹ فراہم نہیں کر سکتے، جس کے جواب میں امارت اسلامیہ کے کمیشن برائے جیل خانہ جات کے سربراہ محترم ملا نورالدین ترابی نے کہا کہ وہ ایک سال بھی بھی لسٹ فراہم نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں اپنے قیدیوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے، اس پر خلیل زاد نے ملا بردار اخوند سے اپیل کی کہ آپ لسٹ فراہم کرنے میں کابل انتطامیہ کے ساتھ تعاون کریں ۔

کچھ لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ طالبان نے امریکہ کے دباو پر اپنا موقف تبدیل کر دیا اور کابل انتظامیہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کئے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے امریکہ ساتھ مذاکرات میں اپنے اصولی موقف پر سمجھوتہ نہیں کیا تو کابل انتظامیہ کے سامنے کیوں اپنا موقف تبدیل کریں گے، سیاسی دفتر کے رہنماوں نے پہلے دن سے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر امریکہ سے بات کریں گے اور امریکہ کے ساتھ ہی انہوں نے معاہدہ کیا ہے، طالبان نے کبھی بھی کابل انتظامیہ سے قیدیوں کی رہائی کی منت سماجت کی ہے اور نہ ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، صرف قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے امارت کے کمیشن برائے جیل خات کی تکنیکی ٹیم کے ارکان اور کابل انتظامیہ کے محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہ کے درمیان ویڈیو کانفرنس میں قیدیوں کی رہائی کے طریقہ کار پر بات چیت کرنا ہرگز موقف میں تبدیلی اور سمجھوتہ نہیں ہے، طالبان نے کہا تھا کہ وہ پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی سے قبل بین الافغان مذاکرات شروع نہیں کریں گے اور اسی موقف پر آج بھی قائم ہیں، جب تک پانچ ہزار قیدی مکمل رہا نہیں کئے جائیں گے بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہوں گے ۔

قیدیوں کی رہائی سے انکار کرنے والے اشرف غنی نے دو دن بعد یوٹرن لے لیا اور اپنے اعلان کے خلاف اقدام کیا، جس کو اپنے ایک ہزار قیدیوں کا پتہ نہیں ہے جو اپنے قیدیوں کی لسٹ مرتب نہیں کر سکتے ہیں وہ طالبان جیسے مضبوط لوگوں کو کیسے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں گے ۔

ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ طالبان کی جیلوں سے جو بھی غیر ملکی رہا ہو گئے ہیں انہوں نے اسلام قبول کیا ہے، سن 2001 میں برطانوی خاتون صحافی رہائی کے بعد مشرف بہ اسلام ہو گئیں، گوانتانامو بے جیل سے امارت کے پانچ قیدیوں کے تبادلے میں رہا ہونے والے امریکی جنرل، اسی طرح ملا انس حقانی سمیت تین رہنماوں کے بدلے میں رہا ہونے والے اسٹریلوی پروفیسر ٹیموٹی ویکس نے بھی اسلام قبول کیا، اسی طرح افغان اہل کار جب رہا ہوتے ہیں تو وہ مجاہدین کی صف میں شامل ہوتے ہیں یا پھر عام زندگی گزارتے ہیں اس کے برعکس امریکہ اور کابل انتظامیہ کی جیلوں سے جو مجاہدین قیدی رہا ہوتے ہیں وہ دوبارہ جہادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں اور اب کابل انتظامیہ کے حکام ان کی رہائی کے لئے یہ شرط لگاتے ہیں کہ رہائی پانے والے مجاہدین دوبارہ جہادی کارروائیوں میں حصہ نہ لینے کی ضمانت دیں گے، کیا وجہ ہے کہ طالبان کی جیلوں سے رہا ہونے والے اسلام قبول کرتے ہیں یا طالبان میں شامل ہوتے ہیں جبکہ کابل انتظامیہ کی جیلوں سے رہا ہونے والے مجاہدین دوبارہ جہاد شروع کرتے ہیں، اس سے اسلام اور طالبان کے جہاد کی حقانیت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح مجاہدین کے اچھے اخلاق اور نیک سلوک بھی ظاہر ہوتا ہے جو دشمن کے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب ہے ۔

امید ہے کہ جلد آزادی کے جذبے سے سرشار قیدی مجاہدین سرخرو ہر کو رہا ہو جائیں گے اور بلند حوصلے کے ساتھ اپنے گھروں کو پہنچ جائیں گے، اور کامیابی کے تسلسل کا یہ سلسلہ آگے بڑھتا جائے گا ۔ ان شاء اللہ

Related posts