جون 04, 2020

دشمن کا پروپیگنڈہ اور ہماری ذمہ داری

دشمن کا پروپیگنڈہ اور ہماری ذمہ داری

تحریر: محسن پکتین

آج سے 19 برس قبل طالبان نے افغانستان کے 95 فیصد رقبے پر اپنا کنٹرول قائم کر کے اسلامی نظام نافذ کیا اور باقی 5 فیصد رقبے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے مصروف عمل تھے، اس دوران امریکہ نے ان کے خلاف منفی اور زہریلا پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا اور افغانستان پر حملہ کرنے کا اعلان کیا ۔

ایک طرف مادی وسائل کے لحاظ سے کمزور طالبان اور دوسری طرف ٹیکنالوجی اور وسائل سے مالامال امریکہ کے درمیان جنگ پر سب لوگ یہ تبصرہ کر رہے تھے کہ طالبان امریکہ کے سامنے ڈھیر ہو جائیں گے اور ہمیشہ کے لئے ان کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا، وہ زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کر سکتے ہیں، امریکہ کی طاقت کے حوالے سے حقیقت سے دور پروپیگنڈے کئے جارہے تھے، ہر ایک یہ کہتا تھا کہ طالبان اب قصہ پارینہ بن کر تاریخ کا حصہ رہیں گے ۔

جب امریکہ نے 48 ممالک سمیت افغانستان پر لشکر کشی کی تو عوام کی مایوسی میں اور اضافہ ہوا، امریکہ نے طالبان پر خطرناک اور زہریلا بموں کی بارش کی، ان کے خلاف جنگ میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، بی باون طیاروں، کروز مزائیلوں اور پاسپورس بموں سے طالبان، ان کے حامیوں، مساجد ، مدارس ، شادی کی تقریبات، جنازوں اور عام اجتماعات کو نشانہ بنایا جاتا رہا، سفاک دشمن کی بمباری سے پہاڑوں اور سبز درختوں میں آگ بھڑک اٹھی ، زہریلے بموں سے شہید طالبان جل گئے، ان کے جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوئے ، ہر طرف میدان جنگ میں لاشیں بکھری پڑی تھیں، زہریلے بموں کی وجہ سے ان کے منہ اور ناک سے خون بہہ رہے تھے، ہر سمت قیامت کا منظر دکھائی دے رہا تھا، مجاہدین کے اہل خانہ کے ساتھ جو ظلم ہوتا تھا، نہتے شہریوں پر جو مظالم ڈھائے گئے، گوانتنامو اور بگرام جیلوں میں مظلوم قیدیوں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک ہوتا تھا، انسانیت کی تاریخ شرما گئی، میڈیا پر طالبان کو بدنام کرنے کے لئے منفی پروپیگنڈے شروع ہوئے، دہشت گرد، قاتل اور انسانیت کے دشمن اگر تھے تو وہ کرہ ارض پر صرف مجاہدین اور طالبان تھے ۔

طالبان جنگی تجربے اور حوصلے کے لحاظ سے بالکل کامل تھے، صرف وسائل کی کمی ، نظام کے حوالے سے کم تجربہ ، پروپیگنڈا کو نظرانداز کرنے اور اس جنگ سے غافل رہنے کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوا، ان کا نظام نیا تھا، سابقہ حکومتوں اور نظاموں کے مقابلے میں طالبان کے نظام کی خوبیاں زیادہ تھیں مثلا امن، خوشحالی اور آزادی کے لحاظ سے یہ نظام ممتاز تھا ۔

امریکی جارحیت کے بعد طالبان نے ایک منصوبے کے تحت عقب نشینی کرتے ہوئے گوریلا جنگ شروع کرنے کے لئے پہاڑوں کا رخ کیا اور وہاں سے امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی حمایت سے مجاہدین نے وقت گزرنے کے ساتھ دشمن کو شکست سے دوچار کیا، ملک کے طول و عرض میں دشمن کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں امریکی اور نیٹو افواج پسپائی پر مجبور ہوئیں اور میدان جنگ کی ذمہ داریاں افغان فورسز کے سپرد کی گئیں، مجاہدین نے فتوحات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ملک کے ستر فیصد رقبے پر اپنا کنٹرول قائم کیا، اور دنیا پر واضح کیا کہ امارت اسلامیہ ہی اس ملک کی واحد منظم عسکری اور سیاسی قوت ہے جسے عوام کی حمایت حاصل ہے، مجاہدین کی بڑھتی ہوئی مزاحمت نے دشمن کو اپنی پالیسی پر از سرنو غور کرنے پر مجبور کیا لیکن اس دوران دشمن کو صرف میڈیا پر برتری حاصل تھی اور مجاہدین کے خلاف منفی پروپیگنڈے ہورہے تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ امارت اسلامیہ نے یہ کمی بھی پوری کر دی اور میڈیا کو کم وسائل اور دشمن کی پابندیوں کے باجود منظم کیا ۔

ہمارے ملک پر امریکی جارحیت کے بعد دشمن نے پروپیگنڈے کا سہارا لیا اور طالبان کے خلاف ضرورت سے زیادہ منفی اور زہریلا پروپیگنڈہ کیا، طالبان کو دہشت گرد قرار دیکر انہیں انسانیت کے دشمن کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا، ان کے قائدین کے نام بلیک لسٹ میں شامل کر کے ان کے سروں پر کروڑوں ڈالر انعام رکھنے کا اعلان کیا گیا، ان پر مختلف الزامات کے تحت پابندیاں لگا دی گئیں۔

لیکن تحریکِ طالبان کی شروعات ہوئیں تب سے ان کی تمام تر توجہ عملی اقدامات پر مرکوز تھی اور اللہ پر ان کا مکمل اعتماد تھا، وہ اپنے کاز سے مخلص تھے اور اپنے مشن کو حق سمجھتے تھے، وہ دشمن کے پروپیگنڈوں، مشکلات، قید و بند کی صعوبتوں اور دیگر تکالیف کی پروا کئے بغیر ملک کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے اعلی اہداف کے لئے برسرپیکار تھے، چونکہ میڈیا دشمن کے اختیار میں تھا اس لئے اس نے بھی تمام تر صحافتی اصولوں کے خلاف واضح جانبداری کا مظاہرہ کیا ۔

طالبان اب پروپیگنڈا وار کو مد نظر رکھتے ہوئے اس شعبے پر پوری توجہ دے رہے ہیں اور اپنے محدود وسائل سے میڈیا کے محاذ پر بھی امارت اسلامیہ اہم کردار ادا کررہی ہے اور اس کا نیٹ ورک دشمن کے میڈیا سے تیز ہوتا جارہا ہے، اس لئے اب جنگ اور سیاسی محاذوں کی طرح میڈیا کے محاذ پر بھی اس کو کامیابی حاصل ہورہی ہے ۔

اگرچہ طالبان واقعات کے بارے میں بروقت، درست اور حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرتے ہیں، دشمن کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں اور فوری طور جواب دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود چونکہ دشمن کی زیادہ تر توجہ مختلف وسائل پر مرکوز ہے، وہ بھاری اخراجات کے ذریعے پروپیگنڈے پھیلانے ، لوگوں کی توجہ ہٹانے ، حقائق کو مسخ کرنے اور لوگوں کو مختلف طریقوں سے ورغلانے کے لئے میڈیا کا سہارا لے رہا ہے، اس لئے عوام کو بروقت اصل حقائق تک رسائی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی کبھی کبھار پروپیگنڈے سے متاثر اور پریشان ہوتے ہیں ۔

طالبان کا قیام، تحریک، حکمرانی، نظریہ اور جہاد کو پوری قوم نے دیکھا اور اچھی طرح جانتی ہے لیکن یہ دشمن کا پروپیگنڈا ہی تھا جس نے طالبان کو پوری قوم اور دنیا کے سامنے دہشت گرد پیش کیا، لوگ دیکھ رہے تھے کہ طالبان کس طرح لوگ ہیں لیکن اس کے باوجود میڈیا کے بل بوتے پر دشمن نے انہیں جس روپ میں پیش کیا اس سے پوری دنیا متاثر ہوئی، وقت گزرنے کے ساتھ دشمن کا پروپیگنڈہ دم توڑ گیا اور دنیا پر یہ بات عیاں ہوئی کہ طالبان محب وطن اور انسان دوست ہیں ان کے خلاف جو زہریلا پروپیگنڈہ کیا گیا تھا وہ جھوٹ پر مبنی تھا ۔

بہت سارے جوان ، دانشور اور عام لوگ اسی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے اور صلیبی یلغار کی حمایت میں طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ محض دشمن کا پروپیگنڈا تھا اور پھر یہ حقیقت اور سچ سامنے آیا تو دنیا جان گئی، یہ بھی ظاہر ہوا کہ سبھی نے جھوٹ کے طور پر دشمن کا پروپیگنڈہ مسترد کر دیا لیکن اب بھی میڈیا میں ایسے زرخرید غلام ہیں جو تعصب کی بنیاد پر یا نمک حلال کرنے کے لئے مجاہدین کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ۔

پچھلے ڈیڑھ سال سے جب سے طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات شروع ہوئے ہیں بعض عناصر مسلسل خدشات ظاہر کررہے ہیں اور شکوک و شبہات کو پیدا کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کررہے ہیں، جس کے باعث عوام میں کچھ مایوسی پیدا ہوئی لیکن حسب سابق وقت نے سب کچھ ثابت کر دیا، امارت اسلامیہ نے اپنے اصولی موقف پر سمجھوتہ کیا اور نہ ہی اسلام اور ملک کے خلاف کوئی اقدام اٹھایا، اللہ کے فضل و کرم سے جارحیت کے خاتمے کے تاریخی معاہدے کے بعد دشمن کے تمام پروپیگنڈے، خدشات اور مایوسیاں دور ہوگئیں، اسی وجہ سے ملکی سطح پر اس معاہدے کا عوام نے بھرپور خیرمقدم کیا جبکہ علاقائی سطح پر بھی مختلف ممالک نے اس معاہدے کی حمایت کی اور اس کو ملک کے مستقبل کے لئے اہم قرار دیا اور طالبان پر عوام اور مختلف ممالک کا اعتماد مزید بڑھ گیا ۔

ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ امریکہ اور اس کی خدمت کے لئے سرگرم میڈیا اب بھی ایک نئے انداز میں پروپیگنڈے کر رہے ہیں اور طالبان کے انتباہ یا رد عمل سے یہ پروپیگنڈہ کہیں زیادہ وسیع اور تیز تر ہوگا، قیدیوں کی رہائی اور بین الافغان مذاکرات کے سلسلے میں دشمن کے پروپیگنڈے کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔

ہمیں صرف زمینی حقائق کی تلاش کرنی چاہئے، چاہے وہ طالبان کے ذریعے ہوں ، چاہے وہ غیر جانبدارانہ گواہوں اور مصدقہ خبروں کے ذریعہ ہو، عوام دشمن کے پروپیگنڈہ پر کان نہ دہریں، دشمن ہمیشہ یہ کوشش کررہا ہے کہ وہ مجاہدین کو بدنام کرنے کے لئے ان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کریں، عوام کو چاہیے کہ وہ امارت اسلامیہ کے ترجمان کے ردعمل کا انتظار کریں یا امارت کی آفیشل ویب سائٹ کا وزٹ کریں، ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ بزدل دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے، وہ حواس باختہ ہے اس لئے پروپیگنڈوں کا سہارا لے رہا ہے، قیدیوں کا معاملہ جلد حل ہونے والا ہے، معاہدے کے تحت تمام قیدی رہا ہوجائیں گے، وقتی طور کچھ مشکلات ضرور ہوں گی لیکن اللہ خیر کرے گا، مجاہدین اور عوام کو صبر اور حوصلہ کی ضرورت ہے، قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوجائیں گے، اسی طرح قابض افواج کے مکمل انخلا اور ملک کی آزادی کے علاوہ اسلامی نظام کا نفاذ اصولی موقف ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔

ہمارے ، طالبان اور باشعور نوجوانوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ امریکہ اور اس کے زیر اہتمام میڈیا کے پروپیگنڈے کو بروقت ناکارہ بنا کر عوام کے سامنے اصل حقائق پیش کریں، زرخرید میڈیا کے پروپیگنڈے کے خلاف عوام میں شعور اجاگر کرنے اور آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کریں، قوم کے سامنے اصل صورتحال پیش کرنے کے لئے بروقت خبریں شائع کریں تاکہ لوگ بروقت سچ اور جھوٹ کی پہنچان کر سکیں ۔

طالبان کے فیصلے اور ردعمل ان پر چھوڑ دینا چاہیے، اگر ہم ذاتی رائے پیش کریں گے تو ان کے ساتھ براہ راست شریک کریں اور اپنا پیغام ان تک پہنچائیں، اگر دشمن پروپیگنڈہ کرے تو ہم سنی سنائی باتوں پر اعتماد کرنے کے بجائے مصدقہ معلومات حاصل کرنے تک انتظار کریں، جب تک طالبان کا ردعمل سامنے نہ آئے تو ہم غلط افواہوں پر کان نہ دہریں، اگر طالبان دشمن کے پروپیگنڈے کا جواب دیں تو ہمیں چاہیے کہ اس کی خوب تشہیر کریں، دشمن کے پروپیگنڈے پر ہم خود اعتماد کریں اور نہ ہی عوام کو پروپیگنڈے پر اعتماد کرنے کی اجازت دیں ۔

دشمن اور پھر کافر یا اس سے بھی گرا ہوا دشمن جس کا ہم سامنا کرتے ہیں، اس کا کوئی مثبت اقدام ہمارے لئے باعث خوشی نہیں ہونی چاہیے، اور نہ ہی بریکنگ نیوز، تازہ خبر، اچھی خبر عنوان کے ساتھ تشہیر کرنی چاہیے، دشمن کبھی کبھار ہمیں مصروف رکھنے کے لئے مثبت تشہیر بھی کرتا ہے جس میں سچ اور جھوٹ دونوں کا امکان ہوتا ہے، طالبان کی کامیابی پر امریکہ یا دیگر مخالف حلقوں کی جانب سے اعتراف بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور ان میں سے بیشتر ان کے اپنے مقاصد کے محض محرکات ہیں لہذا ہمیں مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا اور فوری ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے یقینی خبر معلوم کرنے تک انتظار کرنا چاہیے ۔

اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو ۔

Related posts